محسن نقوی کولیپس نظام کا بے تاج بادشاہ /شیر علی انجم

سابق نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور موجود وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کا تعلق جھنگ کے سید گھرانے سے ہے۔انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد امریکہ کی یونیورسٹی آف اوہائیو سے صحافت میں ماسٹر ڈگری حاصل کرکے امریکی نشریاتی ادارہ (سی این این) میں بطور انٹرن پروفیشنل زندگی کی شروعات کی اور اسی ادارے سے 2009 تک وابستہ رہ کر وہ ریجنل ہیڈ کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ سی این این کو خیرباد کہنے کے بعد انہوں نے پاکستان میں کئی الیکٹرانک چینل کی بنیاد رکھی جو آج بھی فعال ہیں۔ یعنی محسن نقوی ایک صحافی ہے سیاست دان نہیں، سیاست کے میدان میں وہ ضرور شہید بینظیر بھٹو اور صدر زرداری کے قریبی بندہ سمجھا جاتا ہے، محسن نقوی کبھی عوام میں نہیں گئے انہوں نے اپنی زندگی میں کونسلر کا بھی الیکشن نہیں لڑے۔ یعنی سیاست کو کتابوں میں بطور صحافی کے بہتر سمجھتا ہوگا لیکن علمی سیاست سے انکا دور سے بھی تعلق نہیں، بطور صحافی کے وہ عوامی مسائل سے ضرور آگاہ ہونگے لیکن عملی سیاست میں عوام کی حیثیت کے بارے میں شاید ہی انکو کچھ علم ہو۔
آج انکا شمار پاکستان کے طاقتور ترین شخصیت میں ہوتا ہے لیکن ان کے پاس وزارت ووٹ کی عمل اور عوامی طاقت سے نہیں۔ اس طاقت کا اصل راز وہی بہتر بتا سکتا ہے ۔ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں ان کے ماتحت اداروں میں نادرا اور امیگریشن کا پورا نظام آتا ہے ۔جس بھی ماضی کی نسبت بہت زیادہ مثبت تبدیلی آئی ہے ۔ پاسپورٹ بنانے کیلئے ٹوکن لینے سے فارم جمع ہونے تک کے پراسیس میں روشوت عام ہوا کرتے تھے جو آج ڈیجٹل ہوگیا ہے ۔ ایئرپورٹس پر امیگریشن کے نظام کا بھی یہی حال تھا آج اگر صرف کراچی ایئرپورٹ کی بات کریں تو نظام بہتر ہوگیا ہے۔ نادرا میں کام پڑ جانا ایسا ہے جیسے بندے معمولی کام کیلئے کئی دنوں تک خوار ہونا ہے ۔ لیکن آج پورا نظام موبائل پر آگیا ہے ۔ یہ ان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔
انکو سن کر مجھے مرحوم جنرل مشرف کا وہ تاریخ جملہ یاد آتا ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ اگر عمل درآمد نہ ہو تو آئین فقہ ایک کتاب کا نام ہے ۔ جنرل مشرف نے اپنے دور میں میڈیا کو آذادی دی بلدیاتی نظام کو ٹھیک کرایا کراچی جیسے شہر میں بلدیاتی نظام کا سب اہم دور جنرل مشرف کے دور کا تھا جب اس شہر کی روشنیاں بحال ہوگیا تھا ، آج پیپلز پارٹی نے کراچی کو لاورث شہر کے طور پر کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔ اس شہر کی روشنیاں مدھم پڑ چکی ہے پانی یہاں ناپید ہوگیا ہے سڑکوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے آخری کالونی میں رہتا ہو۔ پولیس مافیا کی سرپرستی کرتے ہیں، حکومت لینڈ مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں، کے الیکٹرک اگر شہریوں کو بجلی فراہم کرنے ناکام ہوگیا ہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بجلی اگر چوری ہورہا ہے تو کوئی ایکشن لینے والا نہیں ۔
یہ فقط ایک شہر کی مختصر کہانی ہے جہاں ہم رہتے ہیں مجموعی طور پورے پاکستان کا یہی حال ہے ایسے اگر محسن نقوی کہتا ہے کہ سسٹم کولیپس ہوگیا ہے تو دہائیوں سے عوامی ووٹ کی طاقت سے اسمبلی پر راج کرنے والے بزرگ سیاست دانوں کیلئے بہت بھاری اور ناقابل برداشت بیان ہے۔ حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ اس ملک میں سیاست دراصل کرپشن اور مراعات کے ساتھ عیاشی کرنے کا نام ہے جس کی ایک اور مثال بھی سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے آبائی حلقے پر ڈیجیٹل میڈیا پر گزشتہ دنوں ریلیز ہونے والا ڈاکومنٹری ہے۔ ایسے میں مراد علی شاہ کراچی کی بہتری کیلئے کیوں کچھ کرے گا جو اپنے ووٹر کیلئے کچھ نہیں کرتے ۔ گزشتہ ماہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب جو ڈی ایچ اے کے رہائشی ہیں،سے سوال کیا کہ آپ کیسے سوتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا الحمدللہ سکون سے سوتا ہوں سب کچھ اچھا چل رہا ہے ۔ اس طرح باتیں اس بات کا ثبوت ہے کہ واقعی میں نظام کولیپس ہوگیا ہے لیکن انہیں احساس نہیں ۔ لاہور میں قومی مکالمہ پالیسی کے عنوان سے منعقد ایک کانفرنس میں محسن نقوی نے ایک بار پھر نئے صوبوں کی ضرورت اور سسٹم کولیپس ہونے کے بارے میں کھل کر اپنا موقف بیان کیا جو کہ سیاست دانوں کو کرنا چاہیے تھا ۔ انہوں اپنی تقریر میں کہا کہ میری نوکری رہے یا نہ رہے لیکن اس نظام کی بہتری کیلئے کوشش کرنا ہوگا ۔ یعنی اس نے خود اس بات کا اقرار کیا کہ وہ سیاسی طور پر منتخب نہیں بلکہ تعلقاتی بنیاد پر تعین وزیر داخلہ ہیں ، لیکن ان کی سوچ سے انکار نہیں کیونکہ جو کچھ اس نے بیان کیا وہ پاکستانی سیاست اور معاشرے کی تلخ حقیقت ہے ۔ پاکستان میں اس وقت عام آدمی حکمرانون کیلئے زیر بحث ہی نہیں اور نہ ہی میڈیا پر عام آدمی کی بات کی جاتی ہے ۔اور گزشتہ تین سالوں سے ایک عمران خان کو ختم کرنے کیلئے جو پاکستان کے سیاسی اور آئینی اداروں کا حال کیا ہے وہ بھی دںیا کے سامنے ہے ۔
لہذا محسن نقوی جیسے لوگ جو بھلے کی غیر منتخب ہو اہم حکومتی عہدے پر فائز ہونے کے ساتھ اگر عام آدمی کی بات کرتا ہے سراہا جانا چاہیے ۔ اس وقت ملک کا جو معاشی صورتحال اور قرضوں کا بوجھ ہے جسے بدترین مہنگائی کی صورت میں عام آدمی کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ یوں سمجھ لیجئے کہ پاکستان میں اس وقت عام آدمی کیلئے جہاں مرنا دونوں مشکل ہوگیا ہے ۔
ایک میں قومی مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے محسن نقوی جیسے لوگوں کی بات کر قومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبوں کے صوبائی اسمبلیوں میں بحث ہونا چاہیے ۔ تمام الیکٹرانک چینل پر اس حوالے اوپن فورم ہونا چاہیے جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر کے ماہرین سیاست،معیشت کو دعوت دینا چاہیے ۔ عمران خان کے ساتھ مفاہمت کرکے انکو فوری طور جیل سے رہا کرنا چاہیے کیونکہ وہ ایک قومی لیڈر ہے کرپٹ سیاستدان نہیں ۔
یقیناً مفاہمت اور مکالمہ قوموں کی ترقی کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے ۔
اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور اس ملک کو قائد اعظم کے فرمودات کی روشنی میں ہر میدان میں بلند مقام عطا فرمائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں