’پاکستانی طرز کے لبرل فیمینزم ‘کی نمایاں سوشل میڈیائی شکلوں کا خمیر اسی ’پاکستانی طرز کے لبرلزم‘سے اٹھا دکھائی دیتا ہے جو پیچیدہ سماجی مسائل کو اکثر ایک سادہ دوئی (binary) میں تبدیل کر دیتا ہے، اس میں ایک فریق مظلوم اور دوسرا ظالم، ایک درست اور دوسرا غلط قرار پاتا ہے۔
جمال شاہ کے بارے میں فریال گوہر کے الزامات سامنے آنے کے بعد بھی بحث کا بڑا حصہ اسی دوئی کے گرد گھوم رہا ہے۔ ایک طرف پاکستانی طرز کے لبرل فیمنسٹ حلقے ایسے شواہد اور امکانات تلاش کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر جمال شاہ کو براہِ راست تشدد کا مرتکب سمجھا جا سکے، جبکہ دوسری طرف پاکستانی طرز کے لبرلزم کے نمایاں ناموں میں سے ایک، وسیم الطاف، معاملے کو تقریباً الٹی اخلاقی ترتیب سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں:
’طلاق کے 37 سال بعد سابقہ شوہر پر گھٹیا الزامات لگائے جائیں جس کی اپنی نئی فیملی اور بچے بھی ہوں اور وہ ہمیشہ آپ کی عزت کرتا پایا جائے، جبکہ محترمہ کی اس کے بعد “شادیاں اور سکینڈلز” معاشرے میں بڑی تعداد کو پتا ہوں! گریس نہیں، بیہودگی ہے!‘
دونوں طرح کے ردعمل میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نتیجہ مختلف ہے۔ زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ تجزیے کا دائرہ بڑی حد تک فرد بمقابلہ فرد تک محدود رہتا ہے۔ ایسا تجزیہ ان سماجی اور تاریخی ساختوں (structures) اور عملی سلسلوں (processes) کو نظروں سے اوجھل کر سکتا ہے جن کے اندر افراد کے تجربات، امکانات، اختیارات اور ردعمل تشکیل پاتے ہیں-
صنف سے آگے – تقاطعی تجزیہ
کسی فرد کی سماجی پوزیشن صرف صنف (gender) سے طے نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ طبقہ، قومیتی یا نسلی شناخت (ethnicity)، ذات یا برادری، علاقہ، مذہب یا فرقہ، عمر، معذوری، ازدواجی حیثیت، دیہی یا شہری پس منظر، شہریت یا نقل مکانی کی حیثیت، تعلیم، زبان، اور بعض حالات میں جنسی شناخت بھی اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ فرد کو کس نوعیت کی طاقت، مراعات، محرومی یا تشدد کا سامنا ہوگا-
تقاطعی تجزئیے (intersectionality) کا مطلب محض یہ فہرست بنانا نہیں ہوتا کہ ایک فرد بیک وقت عورت بھی ہے، غریب بھی، بلوچ بھی اور دیہی علاقے سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ کمبرلی کرینشا (Kimberlé Crenshaw) کے متعارف کردہ اس تصور کا زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ طاقت کے یہ مختلف رشتے ایک دوسرے میں داخل ہو کر ایسا تجربہ تشکیل دیتے ہیں جسے کسی ایک شناخت کو الگ کر کے پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا-مثلاً ایک غریب دیہی بلوچ عورت کا تجربہ محضعورت + غریب + بلوچ + دیہیکا حسابی مجموعہ نہیں ہو گا ۔ اس کی صنف کا تجربہ اس کے طبقے سے، طبقے کا تجربہ اس کی قومیتی اور علاقائی پوزیشن سے، اور یہ سب ریاست، خاندان، مقامی طاقت اور وسائل تک رسائی کے نظاموں سے جڑے ہوتے ہیں- نتیجتاًاس سے تشکیل پانے والی سماجی پوزیشن اپنی نوعیت میں شہری متوسط طبقے کی ایک ایسی عورت سے مختلف ہو سکتی ہے جو اسی معاشرے میں پدرشاہی کا سامنا کرتے ہوئے بھی تعلیم، آمدنی، زبان، ریاستی اداروں تک رسائی اور شہری نیٹ ورک جیسی مراعات رکھتی ہو-
یہی وجہ ہے کہ ’عورت‘ کو ایک واحد اور یکساں سماجی زمرہ سمجھنا بھی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ تمام عورتیں ایک ہی مقام سے پدرشاہی کا سامنا نہیں کرتیں۔ ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والی دو عورتوں میں سے ایک طبقے، ذات، زبان، قومیتی شناخت یا شہریت کی وجہ سے ایسی طاقت رکھ سکتی ہے جو دوسری عورت کے پاس نہیں۔ بعض حالات میں ایک مراعات یافتہ عورت کسی کم مراعات یافتہ مرد کے مقابلے میں ریاست، منڈی یا اداروں تک کہیں زیادہ رسائی رکھ سکتی ہے۔ اس سے صنفی عدم مساوات ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف ایک محور پرطاقت کی پیمائش کافی نہیں ہوتی-
اسی طرح تقاطعی تجزئیے کا مطلب یہ بھی نہیں ہوتا کہ صنف کی اہمیت ختم کر دی جائے یا پدرشاہی کو طبقے، قومیت یا ریاست میں تحلیل کر دیا جائے- اس کا مقصد اس وضاحت کی تلاش کرنا ہوتا ہے کہ پدرشاہی کس طبقاتی، قومیتی، ذات پاتی، علاقائی اور ریاستی ماحول میں کام کر رہی ہے، اور ان نظاموں کے باہمی اتصال سے کس عورت کو کس قسم کا نقصان پہنچ رہا ہے؟
یوں ایک سنجیدہ تقاطعی فیمنسٹ تجزیے میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ’مرد کو عورت پر کتنی طاقت حاصل ہے ؟‘بلکہ یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ کون سا مرد؟ کون سی عورت؟ کس طبقے سے؟ کس علاقے میں؟ کس قومیتی یا ذات پاتی مقام پر؟ کن ریاستی اور معاشی اداروں کے اندر؟ اور کن وسائل، قوانین اور ثقافتی جوازوں کی موجودگی میں؟ یہیں سے فیمینزم مرد بمقابلہ عورت کی ایک سادہ دوئی سے نکل کر طاقت کے زیادہ پیچیدہ نقشے میں داخل ہوجاتا ہے-
تشدد صرف براہِ راست تشدد نہیں
تشدد کو صرف براہِ راست تشدد تک محدود کرنا کسی بھی سماجی تجزیے کو بہت محدود کر دیتا ہے- اگرچہ تشدد کی متعدد اقسام اور ان کے مختلف نظریاتی فریم ورک موجود ہیں- یُوہان گالتُنگ (Johan Galtung) کا معروف فریم ورک براہِ راست تشدد کے ساتھ ساختی تشدد (structural violence) اور ثقافتی تشدد (cultural violence) کو بھی تجزیے میں شامل کرتا ہے-
یہ تینوں طرح کے تشدد الگ الگ خانوں میں بند نہیں رہتے بلکہ ایک ہی فرد یا گروہ پر یہ بیک وقت عمل کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کو تقویت بھی دے سکتے ہیں۔ گالتُنگ کی مثلث تشدد کی تمام ممکنہ اقسام کی مکمل فہرست نہیں بلکہ یہ سمجھنے کا ایک بنیادی تجزیاتی فریم ورک ہے کہ براہِ راست تشدد کے کسی دکھائی دینے والے واقعے کے پیچھے سماجی ساخت اور اسے معمول، فطری یا جائز بنانے والی ثقافت کس طرح کام کر سکتی ہے-
گالتُنگ کا فریم ورک
براہِ راست تشدد (Direct Violence): وہ تشدد جس میں نقصان پہنچانے والا عمل نسبتاً واضح ہو اور اس کا کوئی قابل شناخت عامل ہو- قتل، جسمانی حملہ، جنسی تشدد، تشدد کی دھمکی، حراستی مارپیٹ یا گھریلو جسمانی تشدد اس کی واضح مثالیں ہیں-پاکستانی ماحول میں شوہر کا بیوی کو مارنا، کسی عورت پر تیزاب پھینکنا، پولیس حراست میں تشدد، کسی سیاسی کارکن کو جسمانی طور پر نشانہ بنانا یا کسی مذہبی یا قومیتی گروہ کے فرد پر حملہ براہِ راست تشدد کی مثالیں ہو سکتے ہیں-
ساختی تشدد (Structural Violence) :ایسا قابلِ اجتناب نقصان جو کسی ایک فرد کے براہِ راست حملے کے بجائے سماجی، معاشی یا سیاسی ساخت کے اندر طاقت، وسائل اور مواقع کی منظم غیر مساوی تقسیم سے پیدا ہو-ہر غربت، ہر فرق یا ہر عدم مساوات خود بخود ساختی تشدد نہیں کہلاتی- سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا موجودہ سماجی بندوبست ایسی قابلِ اجتناب محرومی پیدا یا برقرار رکھ رہا ہے جس کے نتیجے میں کچھ گروہوں کی صحت، تعلیم، سلامتی، سیاسی شرکت یا زندگی کے امکانات مسلسل دوسروں سے کم ہو رہے ہیں-
کسی دور دراز علاقے میں عشروں تک بنیادی صحت اور تعلیم کی انتہائی کم دستیابی، زمین کی ملکیت کے ایسے تعلقات جو بے زمین خاندانوں کی نسل در نسل انحصاری حالت قائم رکھیں، عورتوں یا کسی مخصوص ذات یا برادری کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مواقع کا مسلسل محدود رہنا، یا وسائل کی ایسی سیاسی تقسیم جس کے نتیجے میں کچھ آبادیوں کو منظم طور پر بنیادی سہولتوں سے محرومی کا سامنا رہے، مناسب شواہد کی موجودگی میں ساختی تشدد کے طور پر زیرِ بحث آ سکتے ہیں-
ثقافتی تشدد (Cultural Violence):گالتُنگ کے مطابق ثقافت کے وہ پہلو جو براہِ راست یا ساختی تشدد کو جائز، فطری، ضروری یا اخلاقی طور پر قابل قبول دکھانے میں مدد دیں، ثقافتی تشدد کا کردار ادا کر سکتے ہیں-مثلاً عورت کو مارنے کو ’خاندانی نظم‘، غیرت کے نام پر تشدد کو ’روایت‘، کسی ذات کو کمتر سمجھنے کو ’قدرتی ترتیب‘، کسی قومیتی گروہ کی اجتماعی محرومی کو اس کی اپنی ’نااہلی‘، یا غریب کی محرومی کو محض اس کی ’محنت نہ کرنے‘ کا نتیجہ قرار دینے والی بعض سماجی تعبیرات موجود ساختی یا براہِ راست تشدد کے لیے ثقافتی جواز فراہم کر سکتی ہیں۔
ثقافتی تشدد کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پوری ثقافت، مذہب یا روایت کو ’پرتشدد‘ قرار دے دیا جائے۔ زیادہ درست سوال یہ ہوتا ہے کہ کسی مخصوص ثقافتی تصور، علامت، زبان یا تعبیر کو کس طرح کسی قابلِ شناخت براہِ راست یا ساختی تشدد کو جائز، معمول یا ناگزیر دکھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟
گالتُنگ کی مثلث ہماری تشدد کی سمجھ کو فرد کے عمل سے آگے لے جاتی ہے- کیا ہوا؟ کون سی ساخت نے اسے ممکن یا زیادہ ممکن بنایا؟ اور کون سا ثقافتی بیانیہ اسے معمول، جائز یا ناقابلِ سوال بناتا ہے؟ایک سنجیدہ فیمنسٹ تجزیے کے لیے شاید یہی تینوں سوال ایک ساتھ پوچھنا ضروری ہیں-
پاکستان میں عورتوں کے مختلف سماجی مقامات
اوپر بیان کیے گئے دونوں پہلوؤں – تقاطعی سماجی پوزیشن اور تشدد کی مختلف سطحوں – کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان کی تمام عورتوں کے تجربے کو محض مرد بمقابلہ عورت کی دوئی سے سمجھنا نامکمل اور بعض حالات میں گمراہ کن بھی ہو سکتا ہے-مثلاً کسی بلوچ عورت کے لیے پدرشاہی ایک حقیقی مسئلہ ہو سکتی ہے، لیکن اس کی زندگی میں جنس کے ساتھ طبقہ، علاقائی محرومی، قومیتی شناخت، ریاستی پالیسی، سیاسی عدم نمائندگی، جبری نقل مکانی یا تنازعے کے اثرات بھی اہم ہو سکتے ہیں۔ ان عوامل کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرنا بھی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا کیونکہ بعض حالات میں اس پر ہونے والا صنفی تشدد اسی قومیتی، ریاستی یا معاشی ساخت کے ذریعے ایک مخصوص شکل اختیار کرتا ہے۔
ایسی عورت کے لیے ثقافتی تشدد کے خلاف مزاحمت اور ساختی تشدد کے خلاف جدوجہد ایک دوسرے کی متبادل نہیں بلکہ باہم جڑی ہوئی ہو سکتی ہیں۔ وہ پدرشاہی سے لڑتے ہوئے ریاستی یا معاشی محرومی کو نظر انداز نہیں کر سکتی اور ریاستی یا قومیتی سوال اٹھاتے ہوئے اپنی برادری کے اندر موجود پدرشاہی سے آنکھ بھی نہیں چرا سکتی۔ یہی تقاطعی تجزئیے کا عملی مفہوم ہے-
اسی طرح سندھ میں کسی سیاسی یا سماجی طور پر فعال عورت کا تجربہ صرف مرد اور عورت کے تعلق سے تشکیل نہیں پاتا- زمین کی ملکیت، وڈیرہ یا مقامی اشرافیائی طاقت، ذات اور برادری، طبقاتی ناہمواری، ریاستی اداروں تک غیر مساوی رسائی اور پدرشاہی ایک دوسرے میں پیوست ہو سکتے ہیں-ایسی صورت میں ’مرد‘ بحیثیت مجموعی واحد مخالف نہیں رہتا۔ ایک غریب، بے زمین یا نچلی ذات سے تعلق رکھنے والا مرد بھی انہی ساختوں کے بعض حصوں میں محکوم ہو سکتا ہے، جبکہ ایک مراعات یافتہ عورت طبقاتی، ذات پات سے متعلق یا ادارہ جاتی ساختوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسری عورتوں اور مردوں سے زیادہ طاقت رکھ سکتی ہے۔ اس سے پدرشاہی کی حقیقت ختم نہیں ہوتی، بلکہ طاقت کے مختلف نظاموں کے باہمی تعلق کو زیادہ درست طور پر دیکھا جا سکتا ہے-
خیبر پختونخوا میں بھی عورتوں کے تجربات یکساں نہیں- کسی عورت کو خاندانی پدرشاہی اور مذہبی یا قبائلی جواز کے ساتھ ساتھ مسلح تنازع، عسکریت، نقل مکانی، طبقاتی محرومی اور ریاستی اداروں کی کمزور موجودگی یا سخت مداخلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف شہری، تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر مستحکم پشتون عورت کا تجربہ اسی علاقے کی غریب، دیہی یا بے گھر عورت سے بہت مختلف ہو سکتا ہے-
یہی اصول پنجاب پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یہاں طبقہ، ذات یا برادری، دیہی و شہری فرق، زمین کی ملکیت، مذہبی اقلیت، معذوری اور علاقائی عدم مساوات عورتوں کے تجربات کو بہت مختلف بنا سکتے ہیں- راجن پور کی کسی بے زمین دیہی عورت کا سماجی مقام لاہور یا اسلام آباد کے تعلیم یافتہ بالائی متوسط طبقے کی عورت سے یکسر مختلف ہو سکتا ہے، اگرچہ دونوں پدرشاہی کی مختلف شکلوں کا سامنا کرتی ہوں گی –
شہری لبرل فیمنزم کی حدود
مرد عورت تعلق کو تجزیے کا بنیادی یا تقریباً واحد محور بنانے والی پاکستانی سوشل میڈیا گفتگو کا نمایاں حصہ شہری، تعلیم یافتہ اور متوسط یا بالائی متوسط طبقاتی ماحول سے آتا ہے-جب یہ لوگ بین الشخصی یا صنفی تشدد پرتوجہ مرکوز رکھتے ہیں رہے تو وہ ساختیں زیر بحث نہیں آتیں جن سے اسی شہری طبقے کو تعلیم، زبان، اداروں، زمین، پیشہ ورانہ نیٹ ورک، شہری مرکزیت یا ریاست تک رسائی کی صورت میں مراعات حاصل ہوتی / ہو سکتی ہیں- جب صرف مراعات یافتہ شہری عورت کے تجربے کو ’عورت کا تجربہ‘ قرار دے دیا جاتا ہے تو اس میں سے غریب، دیہی، بے زمین، کم ذات یا محروم برادری سے تعلق رکھنے والی، مذہبی اقلیتی، معذور، مہاجر، مختلف قومیتی شناخت رکھنے والی یا تنازعات سے متاثر عورت غائب ہو جاتی ہے -پنجاب کی محروم عورتوں سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں کی بہت سی عورتوں کے لیے تشدد کا تجربہ بیک وقت صنفی، طبقاتی، ذات پات کا ، علاقائی، ریاستی اور ثقافتی ہو سکتا ہے- ان میں سے صرف وہ حصہ نمایاں کرنا جو بین الشخصی یا صنفی شکل میں نظر آتا ہے ان کے مجموعی تجربے کو اس کے ایک جزو میں محدود کر دیتا ہے-
یہاں ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ مرد اور عورت کے درمیان طاقت کا عدم توازن غیر اہم ہے- ہماری نظر میں مسئلہ اسے واحد بنیادی تضاد بنا دینا ہے-اگر مرکزی سوال صرف یہ رہ جائے کہ’اس مرد نے اس عورت کے ساتھ کیا کیا؟‘تو یہ سوال پیچھے رہ سکتے ہیں کہ ریاست کیا کر رہی ہے؟ طبقاتی نظام کس کو فائدہ دے رہا ہے؟ زمین اور وسائل کس کے پاس ہیں؟ ذات اور برادری مواقع کی تقسیم پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہیں؟ کون سی قومیتی یا علاقائی شناخت سیاسی طاقت اور وسائل سے زیادہ دور ہے؟ اور کن ثقافتی تصورات کے ذریعے اس پورے بندوبست کو معمول، فطری یا جائز بنا دیا جاتا ہے؟
پاکستانی طرز کی بعض لبرل فیمنسٹ گفتگو بظاہر ’تمام عورتوں‘ کی نمائندگی کا دعویٰ کر سکتی ہے لیکن عملی طور پر اس کے موضوعات، زبان، ترجیحات اور نمایاں مسائل زیادہ تر ایک مخصوص شہری اور طبقاتی تجربے سے اخذ ہو سکتے ہیں- اس دائرے سے باہر غریب، دیہی، بے زمین، مذہبی اقلیتی، معذور، مختلف قومیتی یا ذات پاتی شناخت رکھنے والی، مہاجر یا تنازع سے متاثر عورت کا تجربہ یا تو ثانوی ہو جاتا ہے یا بحث میں داخل ہی نہیں ہو پاتا-


