قائدِاعظم کا ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ سے بصیرت افروز خطاب / اظہر سجاد

ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے جانے کیوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد ہمیں کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جو ملک و قوم کی درست سمت میں رہنمائی کرتا۔ حکمران اور سیاسی رہنما جو شروع میں یک جہتی اور اتحاد کی بات کرتے رہے ہیں وہ بھی بعد میں کسی نہ کسی طرح عصبیت، تعصب اور ذاتی مفادات کا شکار ہو کر اُسی فرض کو بُھلا بیٹھے جسے ادا کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ہو سکتا ہے یہ خدشہ کسی حد تک درست ہو، مگر قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن ۲۴ مارچ ۱۹۴۸ء کے موقع پر کی گئی تقریر کے اقتباسات غور سے پڑھنے کے بعد میں قائدِاعظم ؒ کی سیاسی بصیرت کا پہلے سے زیادہ قائل ہو گیا۔ اُن کی وہ تقریر یقیناً اِنتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیوں کہ قائدِاعظمؒ کے وہ فرمودات آج بھی اُسی طرح قابلِ غور اور قابلِ تقلید ہیں جس طرح ۷۹ سال پہلے تھے۔ اُس تقریر میں قائدؒنے ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علموں کو مخاطب کر کے کہ ایک نئی آزاد ہونے والی ریاست کے باشندوں کو اُن پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ قوم کی خدمت اور فرض کی ادائیگی کو اُن کی سب اہم اور بڑی ذمہ داری قرار دیتے ہوے کہا کہ آزادی کا مطلب من مانی یا بے لگام آزادی نہیں،آزادی ایک ذمہ داری بھی ہے ، جِسے نبھانے کے لیے نظم و ضبط اور قانون کی پاسداری بہت ضروری ہے۔ یہ ایسے اہم نکات ہیں جن کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے اور اب تو پہلے سے بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ قائدؒ نے پوری قوم کے لیے متحد اور منظم ہونا ضروری قرار دیا، کیوں کہ اِس کے بغیر پاکستان کی ترقی ناممکن ہے۔ اُنھوں اُن مشکلات کا بھی ذکر کیا جن کاحکومتِ پاکستان کو قیام کے فوراً بعد سامنا کرنا پڑا۔ اُن مسائل میں پنجاب اور دہلی کے فسادات، لُٹے پٹے مسلمانوں کی ہجرت اور معاشی مشکلات شامل تھیں۔ آج بھی ہمیں یہ سوچنا ہے کہ کیا اب بھی ہم ویسے ہی ملتے جلتے حالات سے نہیں گزر رہے؟
قائد ؒنے اُسی تقریر میں ایک اور بڑی اہم بات کی تھی جِس پر آج بھی عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے اور وہ ہے مستعد رہنا۔ آپؒ نے نوجوانوں کو تعلیم پر بھرپور توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ملکی حالات سے ہمہ وقت باخبررہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپؒ نے تعلیم یافتہ نوجوان کو ملکی سرمایہ اور طاقت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اُنھیں خبردار کیا کہ خود غرض ملک دشمن عناصر سے ہوشیار اور چوکس رہیں ۔ قائداعظم ؒ نے فرمایا کہ نوجوانوں کو سچے، ایماندار اور بے غرض لوگوں کو پہچاننا چاہیے جو ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو آج ۲۰۲۶ء میں بھی نوجوانوں کو ملکی اور بین الاقوامی حالات سے باخبر رہنے اوربے لوث خدمت کرنے والے لوگوں کی پہچان کی، اُس سے کہیں زیادہ ضرورت ہے جو آج سے ۷۹ سال قبل تھی۔
اس تقریر میں قائد ؒنے ایک اور نکتہ اُٹھایا جو موجودہ حالات میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہ ہے جنگی جذبے اور تعمیری جذبے میں امتیاز کرنا۔ قائد ؒنے فرمایا کہ آزادی کے حصول کے لیے جنگی جذبے کی ضرورت ہوتی ہے جو نسبتاً آسان ہے۔ جب کہ حکومت چلانا جنگ لڑنے اور جیل جانے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ذمہ داری ہے۔اب ہمیں جنگی جذبے کے مقابلے میں تعمیری جذبے کی زیادہ ضرورت ہے۔ یہ اتنی اہم بات ہے کہ آج کے نوجوان کو بھی اِسے سمجھنا اور اِس پر عمل کرنا چاہیے۔
اِس کے علاوہ قائدِاعظمؒ نے محض سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے تعلیم حاصل کرنے کی ذہنیت کو ترک کرنے کی بھی ہدایت کی۔ آپؒ نے واضح کیا کہ برطانوی سامراج نے سول سروس کانظام اِسی ذہنیت، طرزِ فکر اور نفسیات کو پروان چڑھانے کے لیے وضع کیا ، جس سے نوجوانوں نے تعلیم کا سب سے اہم مقصد اور اپنی منزل سرکاری ملازمت کو قرار دیا۔ وہ نظامِ تعلیم صرف ایسے تعلیم یافتہ کلرک بنا رہا تھا جو برطانوی حکومت کے مدد گار ثابت ہو سکیں۔ قائد نے نو آبادیاتی سوچ سے نکل کر تجارت، قانون ، صنعت اور فنی تعلیم کو اپنانے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک ٹیکسی ڈرائیور ایم اے پاس نوجوان سے زیادہ کما سکتا ہے۔
قائدِاعظمؒ کے ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں نوجوانوں سے خطاب میں بامقصد تعلیم اور قوم کی تعمیر و ترقی پر زور دیا گیا ہے۔ قائدؒنے آزادی کی قدر و قیمت اور باشندوں پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی بات کی۔وہ نظم و ضبط، اتحاد اور محنت پر زور دیتے ہوئے سرکاری ملازمتوں کی نوآبادیاتی سوچ کو چھوڑ کر تجارت، قانون، فنی تعلیم اور صنعت کے شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کا درس دیتے ہیں۔ بلا شبہ یہ سب وہ رہنما اصول ہیں جو آج بھی اُتنے ہی قابلِ عمل اور اہم ہیں جتنے پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے موقع پر تھے۔ اِس لیے ہر پاکستانی خصوصاً نوجوانوں کو قائد کے فرمودات پڑھ کر اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں