تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس پر ریاست جتنا سرمایہ اور توجہ صرف کرتی ہے، مستقبل میں اتنا ہی مضبوط، باشعور اور باصلاحیت معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ لیکن جب تعلیم کے بنیادی مراحل میں ہی فیسوں کا بوجھ مسلسل بڑھنے لگے تو سوال صرف چند سو یا چند ہزار روپے کا نہیں رہتا، سوال یہ بن جاتا ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کا بچہ آخر تعلیم کہاں سے حاصل کرے گا؟
پشاور تعلیمی بورڈ کی جانب سے مختلف تعلیمی اور امتحانی فیسوں میں اضافے کی اطلاعات نے والدین، طلبہ اور تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق بعض فیسوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن بعض معاملات میں اضافہ خاصا نمایاں ہے۔ سب سے زیادہ توجہ ڈی ایم سی یا اصل سرٹیفکیٹ کی تصدیق کی فیس پر جاتی ہے، جو 805 روپے سے بڑھا کر 2 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ یعنی ایک ہی سروس کے لیے طالب علم کو اب 1195 روپے زیادہ ادا کرنا ہوں گے، جو تقریباً 148 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ بورڈ کو اپنے اخراجات پورے کرنے چاہییں یا نہیں۔ یقیناً کسی بھی ادارے کے انتظامی اخراجات ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان اخراجات کا بوجھ براہِ راست طلبہ اور والدین پر ڈالنا ہی واحد راستہ ہے؟
ڈپلیکیٹ ڈی ایم سی کی فیس 805 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے کر دی گئی ہے۔ رجسٹریشن فیس 700 سے 1300 روپے ہو گئی۔ نویں جماعت کی امتحانی فیس 2530 سے بڑھا کر 3000 روپے، دسویں جماعت کی 2990 سے 3200 روپے، گیارہویں جماعت کی 2875 سے 3300 روپے اور بارہویں جماعت کی 3105 سے 3600 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایس ایس سی امپروومنٹ کی فیس 2700 سے 3600 روپے جبکہ ایچ ایس ایس سی امپروومنٹ کی فیس 2800 سے بڑھا کر 4000 روپے کر دی گئی ہے۔ گریس مارکس کی فیس بھی 345 روپے سے بڑھا کر 600 روپے اور گیارہویں جماعت کی سپورٹس فیس 200 سے بڑھا کر 350 روپے کر دی گئی ہے۔
بظاہر کسی ایک فیس میں چند سو روپے کا اضافہ شاید معمولی محسوس ہو، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک غریب گھرانے میں صرف ایک بچہ تعلیم حاصل نہیں کر رہا ہوتا۔ کئی گھرانوں میں دو، تین یا اس سے بھی زیادہ بچے اسکول اور کالج میں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ امتحانی فیس، رجسٹریشن، سرٹیفکیٹ، ڈی ایم سی، سفری اخراجات، کتابیں، یونیفارم اور دیگر تعلیمی ضروریات پہلے ہی والدین کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ہیں۔
خاص طور پر خیبر پختونخوا کے ان خاندانوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے جو محدود آمدن میں اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک مزدور، چھوٹا دکاندار، کسان، ریٹائرڈ ملازم یا کم آمدن والا سرکاری ملازم جب اپنے بچوں کی فیس ادا کرتا ہے تو وہ محض ایک رسید نہیں خرید رہا ہوتا بلکہ اپنے بچے کا مستقبل خریدنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
یہاں ریاست اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ تعلیم قوموں کی ترقی کی کنجی ہے۔ لیکن اگر اسی مستقبل کے راستے میں فیسوں اور اخراجات کی دیواریں بلند کر دی جائیں تو پھر ہمارے دعووں اور عملی پالیسیوں میں تضاد کیوں نہ پیدا ہوگا؟
تعلیمی بورڈ کوئی تجارتی ادارہ نہیں ہونا چاہیے جس کا بنیادی مقصد آمدن میں اضافہ ہو۔ اس کا بنیادی مقصد امتحانات کا شفاف انعقاد، طلبہ کو بروقت سہولیات فراہم کرنا، تعلیمی ریکارڈ محفوظ رکھنا اور نظامِ امتحانات کو بہتر بنانا ہے۔ اگر ادارے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں تو انتظامیہ کو سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اخراجات کہاں بڑھ رہے ہیں، انتظامی ڈھانچے میں کہاں بچت ممکن ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات کی لاگت کیسے کم کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ فیسوں میں اضافے کی مکمل وجوہات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ اگر کسی فیس میں اضافہ ناگزیر ہے تو اس کا باقاعدہ جواز بھی دیا جانا چاہیے۔ طلبہ اور والدین کو یہ جاننے کا حق ہے کہ فیس کیوں بڑھائی گئی، اضافی رقم کہاں خرچ ہوگی اور اس اضافے کے بدلے انہیں کون سی نئی سہولت فراہم کی جائے گی۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ادارے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
شفافیت کا تقاضا ہے کہ تعلیمی بورڈ اپنے مالی معاملات، آمدن، اخراجات اور فیسوں کے تعین کا طریقہ کار واضح کرے۔ اگر بورڈ کے پاس وسائل کی کمی ہے تو صوبائی حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تعلیم ایسا شعبہ نہیں جس کے بنیادی اخراجات کا بوجھ مسلسل والدین پر منتقل کیا جاتا رہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ فیسوں میں اضافے کا اثر صرف موجودہ طلبہ تک محدود نہیں رہتا۔ جب تعلیم مہنگی ہوتی ہے تو سب سے پہلے کم آمدن والے گھرانے متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ والدین بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے بجائے انہیں جلد روزگار کی طرف بھیجنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک معمولی سا مالی فیصلہ معاشرے میں تعلیم کے مجموعی تناسب پر اثر ڈال سکتا ہے۔
اور اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے نوجوان ملک کی تعمیر میں کردار ادا کریں تو ہمیں ان کے لیے تعلیمی راستہ آسان بنانا ہوگا، مشکل نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امتحانی نظام میں ڈیجیٹل سہولیات کے استعمال سے کئی اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ آن لائن تصدیق، ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس، آن لائن درخواستوں اور ریکارڈ مینجمنٹ جیسے اقدامات نہ صرف طلبہ کے وقت اور پیسے کی بچت کر سکتے ہیں بلکہ ادارے کے انتظامی اخراجات بھی کم کر سکتے ہیں۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، ہمیں بھی اسی سمت میں جانا ہوگا۔
حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کم آمدن والے خاندانوں کے لیے خصوصی رعایت یا فیس معافی کا نظام کیوں نہ بنایا جائے؟ اگر کسی طالب علم کے والدین مالی مشکلات کا شکار ہیں تو اس طالب علم کو صرف اس وجہ سے اضافی مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول یاد رکھنا ہوگا:
تعلیم پر خرچ کو بوجھ نہیں، سرمایہ کاری سمجھنا ہوگا۔
اگر حکومت آج ایک طالب علم کی تعلیم آسان بنانے کے لیے کچھ رقم خرچ کرتی ہے تو مستقبل میں یہی طالب علم ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد، صحافی، سائنس دان یا کوئی ہنرمند شہری بن کر ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم تعلیم کے دروازے پر مسلسل مالی رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے تو نقصان صرف ایک خاندان کا نہیں، پوری قوم کا ہوگا۔
پشاور تعلیمی بورڈ کے فیسوں میں اضافے پر متعلقہ حکام کو طلبہ اور والدین کی تشویش کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ فیسوں میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی ہونی چاہیے، بالخصوص ان میں جہاں اضافہ غیر معمولی ہے۔ کم از کم غریب اور مستحق طلبہ کے لیے رعایتی پالیسی متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں بات صرف پشاور تعلیمی بورڈ کی نہیں۔ یہ ہمارے پورے تعلیمی نظام کی ترجیحات کا سوال ہے۔ ہم ایک طرف نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے، مقابلہ کرنے اور ملک کا مستقبل سنوارنے کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف تعلیم کے راستے میں اخراجات بڑھاتے جاتے ہیں۔ یہ تضاد ختم کرنا ہوگا۔
فیس میں اضافہ اگر واقعی ناگزیر ہے تو اس کی مکمل وضاحت بھی ہونی چاہیے، اور اگر اس اضافے کا مقصد صرف ادارے کی آمدن بڑھانا ہے تو اس پر ضرور نظرثانی ہونی چاہیے۔
کیونکہ غریب والدین سے اضافی رقم لینا آسان ہے، لیکن یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ اس اضافی رقم کے پیچھے کسی باپ کی محدود تنخواہ، کسی ماں کی قربانی اور کسی طالب علم کے مستقبل کی امید چھپی ہوتی ہے۔
تعلیم کو مہنگا کرکے ہم صرف فیس نہیں بڑھاتے، ہم ایک نسل کے خوابوں پر بوجھ ڈالتے ہیں۔
اور یہی وہ مین پوائنٹ ہے جس پر فیصلہ سازوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔


