سماجی قوانین ناکام کیوں ہو جاتے ہیں؟-قاسم یعقوب

سماجی قوانین میں نظامِ زندگی کے اصولوں کے دائرہ کار اور حدود کی بحث بہت دلچسپ ہے۔ افراد جب اجتماع کی شکل میں رہتے ہیں تو انھیں کچھ قوانین کے تابع رہنا پڑتا ہے۔ یہ قوانین بنیادی طور پر کچھ معاملات میں اصول ہوتے ہیں جس سے اجتماعی عمل کو منظم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کرنا ہے، یہ نہیں کرنا، ایسے کرنا ہے، کس نے کرنا ہے،اس حد تک درست ہے اس سے آگے درست نہیں، وغیرہ اجتماع کا قانون کہلاتاہے۔ظاہری بات ہے ،اگر سڑک پر بہت سی گاڑیاں چل رہی ہوں اور ان کو منظم کرنے والا کوئی اصول یا ضابطہ نہ ہو تو، ذرا سوچیے کہ پھر کیا ہوگا؟ کوئی گاڑی بھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ پائے گی۔حادثے کاخطرہ انھیں غیر محفوظ بنائے رکھے گا۔
قانون نارمیلٹی سے نہیں بلکہ ابنارملیٹی سے جنم لیتا ہے۔ سماج میں ہر کام اگر نارمل ہو رہا ہو تو اسے قانون یا ضابطے میں مقید کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قدیم انسان بغیر قوانین کے رہتا تھا کیوں کہ اُس سماج کا اجتماعی رویہ یا سماجی ڈھانچہ نارمل تھا۔ جوں جوں نارمیلٹی کمزور پڑتی گئی اور ابنارملٹی بڑھتی گئی ، توں توں قوانین بنانے کی ضرورت پیش آتی گئی۔
کسی سماج میں یہ نارمیلٹی اور ابنارملٹی کیا ہوتی ہے؟چلیے اس پہ بات کرتے ہیں۔ سماج کو حکمرانی کا مسئلہ درپیش ہوا۔افراد نے محسوس کیا کہ کوئی ایک شخص ہونا چاہیے جو ہمارے اجتماعی معاملات کو دیکھ لیا کرے۔ خود بخود ایک شخص سامنے آ گیا، اس نے معاملات کو بغیر منصوبہ بندی کے منظم کرنا شروع کر دیا۔ یہ نارمل سماجی رویہ تھا۔قدیم انسان یونہی تو نہیں رہ رہا تھا، اس کا نظمِ حیات نارمل انداز سے آگے بڑھ رہا تھا۔ قوانین اُس وقت بننا شروع ہوئے جب سماجی ابنارملٹی نے جنم لیا۔نمائندگی کا مسئلہ اُس وقت بنا جب کئی افراد سامنے آ گئے کہ میں معاملات کو دیکھوں گا۔نمائندگی سے طاقت جڑنے لگی، مفاد وابستہ ہونے لگا۔ تب لوگوں نے مل کے سوچا کہ قانون بنایا جائے۔ کیوں نہ مل کر فیصلہ کیاجائے کہ کون نمائندہ بنے گا؟ سب سے رائے لی جائے، ماضی یاکردار دیکھا جائے۔ پھر طاقت کے اندھے بیل نے بھاگنا شروع کر دیا جسے قانون کے ذریعے لگام دینے کی کوشش کی گئی۔بظاہر لگتا ہے کہ بادشاہ کسی قانون کو نہیں مانتے تھے، بس تالی بجاتے تھے اور سب کچھ ہو جاتا تھا۔ ایسا نہیں تھا۔ بادشاہت کے ادوار میںبہت سخت قوانین رائج تھے، بادشاہوں کو بھی جن کا پابند رہنا پڑتا تھا۔
جب گدھے گھوڑے یا بیل راستوں پر سفر کرتے تھے تو کیا ٹریفک قوانین ہوتے تھے؟ نہیں، اس لیے کہ اُس وقت سفر نارمل رویہ تھا۔ جب گاڑیاں آئیں، ایک دوسرے سی ٹکرائیں تو قوانین بنانے پڑے۔ نارملیٹی ،ابنارمیلٹی میں ڈھلنے لگی تو ضاطبوں کی ضرورت پڑی۔آپ یوں سمجھ لیجیے قوانین سماج کی ابنارمیلٹی کو کنٹرول کرتے ہیں، انھیں نارمیلٹی میں ڈھالتے ہیں۔ حیات کُش عناصر یا اعمال کو حیات آموز بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستانی سماج میں بھی بہت سے قوانین لاگو ہیں۔ سول یا دیوانی قانون، پینل یا فوجداری قانون،ایڈمنسٹریشن یا انتظامی ضابطے وغیرہ موجود ہیں۔ حتیٰ کہ رسم و رواج کے تناظر میں نجی قوانین بھی موجود ہیں ، جن میں مذہبی اخلاقیات ،جائیداد یا وراثت کے حقوق، کاروبار، شادی بیاہ اور طلاق وغیرہ رسومات کے ضابطے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ امر قابل افسوس ہے کہ پاکستانی سماج میںجس ابنارملٹی کو ختم ، کم یا کنٹرول کرنے کے لیے قوانین تشکیل دئیے گئے ہیں، وہ اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ قوانین کے ضابطوں میں سمٹنے میں ناکام ہے۔ ہمارا جیوڈیشری کا نظام مکمل طور پر فلاپ ہو چکا ہے۔ قانون نافذکرنے والے ادارے قانون توڑنے میں اولیت اختیار کر چکے ہیں۔ رسم و رواج یا نجی قوانین سوہانِ روح ہو چکے ہیں۔ اگر آپ سماجی ابنارمیلٹی کا شکار ہیں تو خود کوقوانین کے سپرد کرکے دیکھ لیں۔ آپ کی ابنارمیلٹی مزید ابنارمل بن جائے گی۔
اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون کے ضابطے کا دائرہ چھوٹا ہے اور ابنارمیلٹی وسیع ہے۔ تنگ قمیض کو موٹے جسم پر چڑھائیں گے تو بدن مصیبت میں پھنس جائے گا اور تو اور قمیض بھی پھٹ سکتی ہے۔ ہوبہو یہی ہو رہا ہے۔ قانون کا دائرہ کار چھوٹا ہے۔ سماجی ابنارمیلٹی گھمبیرتا اور پیچیدہ ہے، اسے قانون گرفت میں ہی نہیں لے پا رہا۔ ناطقہ سر بہ گریباں۔
آپ کو دو مثالیں پیش کرتا ہوں ،ذرا سنیے:
گذشتہ برس ضمنی الیکشن ہوئے ایک سیاسی قائد نے اعلان کیا کہ وہ تمام ضمنی الیکشن کے حلقوں میں خود کھڑا ہوگا۔ یہ کوئی اٹھارہ حلقے تھے۔ قانون یہ ہے کہ کوئی بھی شخص ملک کے کسی بھی کونے میں ، کسی بھی constituency میں کھڑا ہو سکتا ہے۔ کتنی constituency میں کھڑا ہو سکتا ہے؟ اس کی بھی کوئی قید نہیں۔ ایک دو، چھے آٹھ یا اٹھائیس یا ایک سو اٹھائیس۔ اس کی حد کو قانون میں زیرِ بحث ہی نہیں لایا گیا تھا۔ ہوا یہ کہ یہ محترم قائد ۱۸ حلقوں میں کھڑے ہو گئے۔ اوپر سے محترم ۱۵ سے جیت بھی گئے۔اب ایک نیا مسئلہ شروع ہو گیا۔ایک سیٹ رکھیں گے اور ۱۴ حلقوں میں دوبارہ الیکشن ہوگا۔ موصوف نے پھر اعلان کر دیا کہ میں اب پھر ان چھوڑے ہوئے ۱۴ حلقوں میں کھڑ ہوں گا۔ لو جی۔ قانون شکست کھا گیا۔ قانون کا بنیادی کام ابنارمیلٹی کو کنٹرول کرنا تھا، یہ مزید ابنارمل ہو گئی۔
دوسری مثال دیکھیے، صرف اس ایک رواں سال میں موٹر وے پر تقریباً ۹۰ کے قریب ایسے حادثے ہوئے جس کی وجہ وہیکل کی حد رفتار انتہائی کم تھی۔ اب پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ پاکستانی سماج میں رائج ٹریفک قوانین میں زیادہ سپیڈ کی حد تو مقرر ہے مگر کم کی کوئی قید نہیں رکھی گئی۔ آپ نے خود بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ شاہراہوں پر چسپاں سائنز پر ہمیشہ حد رفتار زیادہ کی ہوتی ہے کم کی نہیں۔قانون بناتے ہوئے یہ مسئلہ درپیش نہیں تھا کہ کوئی اس قدر آہستہ گاڑی بھی چلا سکتا ہے کہ حادثہ ہو جائے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ سماج میں قوانین ابنارمل رویوں کو دیکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ مگر یہ ابنارمل رویے ہمیشہ ایک سے تو نہیں رہتے نا۔ سماج بدلتا رہتا ہے۔ نئی شکلوں میںڈھلتا رہتا ہے۔ نئے مسائل کو پیدا کرتا رہتا ہے۔ تو کیا قوانین وہی رہیں گے؟ ظاہری بات ہے کہ قوانین بھی بدلیں گے۔ ان میں بھی سماجی ابنارملیٹی کو گرفت میں لینے کی صلاحیت بڑھائی جاتی رہے گی۔
نہایت افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارا عدالتی نظام، ایڈمنسٹریشن ضابطے، فوجداری یا دیوانی قوانین ، سب کچھ ناکام ہو چکا ہے۔ اس لیے کہ ابنارمیلٹی نئی شکلوں میں ظاہر ہو رہی ہے۔ نئے مسائل جنم لے چکے ہیں۔ مگر ہم انھیں اسی محدود قانون کے ذریعے کنٹرول کرکے نارمل انسانی سماج بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

چلیے خوش رہیں؛خواب دیکھنے پر پابندی نہیں؛ ضرور دیکھیے اور دیکھتے رہیے۔خواب دیکھنا تو نارمل رویہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں