ہماری موجودہ جدید دنیا میں “پیرنٹینگ” (والدین کی جانب سے بچوں کی تربیت) کا تصور ایک بہت ہی مثالیت پسندانہ اور غیر حقیقی شکل اختیار کر چکا ہے۔ تربیت کے موضوع پر بات کرنے والے اکثر لوگ خود کو ایک مکمل اور کاملاً بے عیب (پرفیکٹ) والد یا والدہ کے طور پر پیش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی تربیت ایک انتہائی پیچیدہ، الجھی ہوئی اور ہر فرد، ثقافت اور سماجی و معاشی پس منظر کے لحاظ سے مختلف عمل ہے۔ اس دنیا میں نہ تو کوئی پرفیکٹ انسان موجود ہے اور نہ ہی کوئی پرفیکٹ والد یا والدہ۔ یہی وجہ ہے کہ نفسیات میں ہمیں “پرفیکٹ پیرنٹ” کی نہیں بلکہ “گڈ انف پیرنٹ” (ایک قدرے بہتر اور دستیاب والد یا والدہ) کی ضرورت ہوتی ہے۔
ممشہور ماہرِ بچوں و سائیکو اینالسٹ ڈاکٹر ڈونلڈ ونیکاٹ (Dr. Donald Winnicott) کا ایک انتہائی گہرا قول ہے کہ ایک بچہ اپنی ماں سے اتنی ہی نفرت کر سکتا ہے جتنی کہ اس کی ماں اس سے کرتی ہے۔ لیکن اس مفہوم کو اگر اپنے تجربے کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک بچہ اپنے والدین میں صرف اتنی ہی دلچسپی لیتا ہے جتنی دلچسپی اس کے والدین نے اس کی ذات اور تربیت میں دکھائی ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ بچہ خود اپنی ذات میں بھی اتنی ہی دلچسپی یا اہمیت محسوس کرتا ہے جتنی کہ اسے اپنے والدین کی طرف سے ملی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ونیکاٹ کا اہم کام جذبات، جارحیت اور غصے پر مبنی ہے، اور انہوں نے ہی “گڈ انف مدر” کا تصور پیش کیا تھا۔ یہ مفهوم صرف ان لوگوں کے لیے اہم نہیں ہے جو صاحبِ اولاد ہیں، بلکہ ان افراد کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے جو اپنے اندر موجود “انر چائلڈ” (Inner Child) یعنی اپنے اندر کے بچے کی دوبارہ خود تربیت (Reparenting) کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ماضی میں والدین کی طرف سے وہ توجہ اور تحفظ نہیں ملا جو ملنا چاہیے تھا، تو بحیثیتِ بالغ انسان آپ کو اپنی تربیت خود کرنا پڑتی ہے۔
بچوں کی صحیح اور متوازن تربیت یا اپنی خود کی ری پیرنٹنگ کو سمجھنے کے لیے اسے دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: اسٹرکچر (Structure) اور سبسٹنس (Substance)۔
جس طرح کسی عمارت کی تعمیر کے لیے پہلے اس کا ایک مضبوط ڈھانچہ (Structure) کھڑا کیا جاتا ہے اور پھر اس کے اندر سیمنٹ و دیگر مٹیریل یعنی سبسٹنس (Substance) بھرا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح انسان کی شخصیت اور نفسیات کی تشکیل میں بھی ان دونوں عناصر کا ملاپ ضروری ہے۔ اگر صرف اسٹرکچر ہو اور سبسٹنس نہ ہو، یا سبسٹنس ہو اور اسٹرکچر نہ ہو، تو شخصیت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
۱۔ اسٹرکچر (Structure) کیا ہے؟
اسٹرکچر سے مراد تربیت کا وہ خارجی اور باقاعدہ ڈھانچہ ہے جو بچے کو تحفظ اور نظم و ضبط کا احساس دیتا ہے۔ اسٹرکچر کے ۵ بنیادی عناصر درج ذیل ہیں:
۱. قابلِ پیشگوئی روٹین (Predictable Routine): بچے کی زندگی میں ایک متوازن اور قابلِ پیشگوئی معمول کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ جب بچے کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا روزمرہ کا نظام کیا ہے، تو اس سے اس کے اندر تحفظ (Sense of Security) کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ خود کو پرسکون محسوس کرتا ہے۔
۲. والدین کی موجودگی (Presence & Responsiveness): تربیت میں والدین کا ماحول میں مسلسل اور فعال طور پر موجود ہونا شرط ہے۔ جب والدین مستقل بنیادوں پر بچے کے ماحول میں موجود اور اس کی ضروریات پر ردِعمل دینے والے ہوتے ہیں، تو بچہ محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی احساسِ تحفظ اسے باہر کی دنیا کو دریافت (Explore) کرنے اور نئی مہارتیں سیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
۳. حدود کا تعین (Boundaries): گھر میں حدود کا ہونا بہت ضروری ہے جو وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ بدلتی (Evolve) رہتی ہیں۔ جو حدود ایک چھوٹے بچے کے لیے ہوتی ہیں، وہ کسی بھی طور پر ایک نو عمر (Teenager) یا بالغ بچے پر نافذ نہیں کی جا سکتیں۔ حدود کا مقصد بچے کو اپنی خواہشات (Impulses) پر قابو پانا اور جوابدہی (Accountability) سکھانا ہوتا ہے۔ اگر گھر میں والدین حدود طے نہیں کرتے تو بچہ باہر کی دنیا میں بھی اپنے لیے حدود قائم نہیں کر پاتا۔
۴. نظم و ضبط اور نتائج کا ادراک (Discipline & Logical Consequences): نظم و ضبط کا مطلب بچے کو ڈرا کر، سزا دے کر یا خوف میں مبتلا کر کے سکھانا نہیں ہے۔ حقیقی نظم و ضبط یہ ہے کہ بچے کو اس کے افعال کے منطقی نتائج (Logical Consequences) سے آگاہ کیا جائے۔ جب بچہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے کسی عمل کا کیا نتیجہ نکلے گا، تو وہ ڈر کی بجائے منطق کی بنیاد پر اپنے رویے کو خود منظم کرتا ہے۔
۵. عملی نمونہ بننا (Modeling): آپ بچے کو نصائح یا کتابوں کے ذریعے جو کچھ بھی سکھاتے ہیں، اگر وہ آپ کے اپنے عمل اور شخصیت میں موجود نہیں ہے تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ جب والدین حد سے زیادہ حاکمانہ (Authoritarian) رویہ رکھتے ہیں لیکن خود ان اصولوں پر عمل نہیں کرتے، تو بچے اپنے والدین کی منافقت اور قول و فعل کا تضاد فوراً محسوس کر لیتے ہیں۔
۲۔ سبسٹنس (Substance) کیا ہے؟
محض ایک سخت ڈھانچہ کھڑا کر دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر جذباتی اور نفسیاتی کا مواد یعنی سبسٹنس ڈالنا بھی لازمی ہے۔ سبسٹنس کے ۵ بنیادی نکات یہ ہیں:
۱. حقیقی اور خالص توجہ (Genuine Attention): بچے کو دی جانے والی خالص توجہ اس کی خود اعتمادی اور ذاتی اہمیت کے احساس (Sense of Worth) کو بڑھا دیتی ہے۔ توجہ دینا ایک ایسا جادو ہے جو بچے کو یہ باور کرواتا ہے کہ وہ اہم ہے، اسے دیکھا جا رہا ہے اور وہ اس قابل ہے کہ اس پر توجہ دی جائے۔
۲. ہمدردی اور یگانگت (Empathy): بچہ دنیا کو اپنی عمر اور نظر سے دیکھتا ہے۔ بالغ انسان کے لیے جو چیز انتہائی معمولی ہوتی ہے، بچے کے لیے وہ ایک بہت بڑا پہاڑ یا خوف کا باعث ہو سکتی ہے۔ ہمدردی کا مطلب یہ ہے کہ آپ بچے کی نظر سے دنیا کو دیکھیں اور اس کے احساسات کو نااہل یا رد (Dismiss) کرنے کے بجائے ان کی تصدیق (Validate) کریں۔ اگر بچپن میں ہمدردی نہ ملے تو انسان بالغ ہو کر بھی خود پر بےجا تنقید کرتا ہے اور اپنے ساتھ ہمدردی کا رویہ نہیں رکھ پاتا۔
۳. کھلاپن اور دوطرفہ رابطہ (Openness & Two-Way Communication): والدین اور بچوں کے درمیان تعلق صرف ایک طرف سے حکم دینے کا نہیں بلکہ دوطرفہ گفتگو کا ہونا چاہیے۔ شفافیت اور عدمِ فیصلے (Non-Judgmental) کا ماحول تب بنتا ہے جب والدین بچوں کے سامنے یہ قبول کرتے ہیں کہ وہ انسان ہیں اور ان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ جب والدین اپنی غلطی تسلیم کر کے اسے درست کرتے ہیں، تو بچہ سیکھتا ہے کہ غلطی ہونا ایک نارمل بات ہے اور انسان خود کو تبدیل کر سکتا ہے۔
۴. حوصلہ افزائی (Encouragement): بچوں کو درپیش چیلنجز اور ان کی ناکامیوں کے وقت ان کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کے خوف اور پریشانی کو دور کرنے میں مدد دینا اور ان کی کوششوں کو سراہنا بہت ضروری ہے۔ زندگی کے چیلنجز بچے کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ہوتے ہیں۔
۵. موافق پذیری (Adaptation): بچے کی عمر اور ضروریات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنے رویوں اور سوچ کے زاویوں میں تبدیلی لانا پڑتی ہے۔ حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی تربیت کے انداز کو ڈھالنا ایک اچھے والد یا والدہ کی نشانی ہے۔
پیرنٹنگ کے مختلف انداز اور ان کے اثرات
والدین کے طرزِ عمل اور اسٹرکچر و سبسٹنس کے توازن کی بنیاد پر تربیت کے چند مختلف انداز سامنے آتے ہیں:
حاکمانہ والدین (Authoritarian Parents): یہ والدین اسٹرکچر میں انتہائی سخت ہوتے ہیں لیکن ان کے ہاں سبسٹنس (جذبات، ہمدردی اور تخلیق کاری) کی کمی ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے نظم و ضبط کے پابند تو ہو جاتے ہیں اور کیریئر میں اچھا کام کر لیتے ہیں، لیکن وہ تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان کے اندر غصہ دبا ہوا ہوتا ہے جو آگے چل کر ڈپریشن، اینگزائٹی اور تعلقات کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔
حد سے زیادہ چھوٹ دینے والے والدین (Indulgent Parents): یہ والدین اسٹرکچر بالکل فراہم نہیں کرتے بلکہ تمام تر توجہ بچے کی ہر خواہش کو فوراً پورا کرنے اور اسے خوش رکھنے پر دیتے ہیں۔ ایسے بچے آگے چل کر زندگی کے دباؤ اور ناکامی کا مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ کسی بھی چیلنج کے سامنے فوراً ہار مان لیتے ہیں اور ان میں صبر و برداشت کی شدید کمی ہوتی ہے۔
عدمِ دلچسپی رکھنے والے والدین (Uninvolved Parents): ایسے والدین نہ تو اسٹرکچر دیتے ہیں اور نہ ہی سبسٹنس۔ بچے شدید نظر اندازی (Neglect) کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ نہ تو نظم و ضبط سکھ پاتے ہیں اور نہ ہی جذباتی طور پر مضبوط ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں مکمل طور پر حصہ لینے سے قاصر رہتے ہیں۔
ایک ہی انسان کے اندر اسٹرکچر اور سبسٹنس دونوں کا مکمل ہونا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایک والد زیادہ نظم و ضبط (اسٹرکچر) فراہم کرتے ہیں اور والدہ جذباتی ترسیل و ہمدردی (سبسٹنس) فراہم کرتی ہیں، یا دونوں مل کر ایک ہی نقطہ نظر پر متفق ہو کر اپنے فرائض تقسیم کر لیتے ہیں، تو وہ مل کر ایک “گڈ انف پیرنٹ” بن سکتے ہیں۔
گڈ انف پیرنٹنگ کی اصل حقیقت
ڈاکٹر ڈونلڈ ونیکاٹ کے مطابق، جب بچہ بالکل چھوٹا ہوتا ہے تو اسے فوراً توجہ اور تمام ضروریات کی 100 فیصد تکمیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، والدین کا فرض ہے کہ وہ اسے انتظار کرنا سکھائیں، زندگی کی تلخ حقائق اور مایوسیوں (Disappointments) کا سامنا کرنا سکھائیں اور اسے یہ سمجھائیں کہ اس کی ہر خواہش کا فوراً پورا ہونا ممکن نہیں۔
تربیت کوئی ایسی چیز نہیں جو صرف کتابیں پڑھ کر سیکھی جائے۔ یہ انسان کے دماغ میں فطری طور پر موجود ہے۔ جن لوگوں نے بچپن میں صدمات (Trauma) دیکھے ہوں، ان کے لیے اپنے غیر شعوری رویوں (Unconscious Patterns) کو سمجھنا اور ان پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے۔
بچے اکثر اپنے والدین کا امتحان لیتے ہیں کہ ان کے والدین کتنے لچکدار یا کمزور ہیں اور وہ کہاں سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ اس لیے والدین کا ایک ہی صفحے (Same Page) پر ہونا اور اپنی طاقت و کمزوریوں کو سمجھ کر قدم اٹھانا لازمی ہے۔
اگر ہم ایک “گڈ انف پیرنٹ” بننے کی کوشش کریں گے، تو ہمارے بچوں کے اندر تین بنیادی اور انتہائی اہم صفات پیدا ہوں گی:
۱. اعتماد (Trust)
۲. جذبات کو منظم کرنا (Emotion Regulation)
۳. خود مختاری (Autonomy)
ہم میں سے کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہے۔ غلطیاں ہونا اور پرانے رویوں کا سامنے آنا ایک فطری عمل ہے۔ خود پر یا بچوں پر بےجا تنقید اور فیصلے صادر کرنے کے بجائے، تجسس (Curiosity) پیدا کیجیے کہ ہم کہاں اور کیوں غلطی کر رہے ہیں، تاکہ ہم وقت کے ساتھ سیکھ کر خود میں اور اپنے بچوں کی زندگی میں بہتری لا سکیں۔


