عالمی صورتحال جو دن بدن خرابیوں کی طرف لپک رہی ہے اور جانیں نگل رہی ہے دراصل جو بچ گئے ہیں کے ضمیر بھی امتحان میں ڈال رہی ہے۔ جنگ و جدل کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ درندوں نے جب جب میل ملاقاتیں ترتیب دی ہیں ان کا مقصد محض یہ تھا کہ کس طرح دنیا کو بربادی کی طرف دھکیلا جائے وگرنہ انسان اگر سوچے تو یہ ظلم و فساد بند بھی کر سکتا ہے۔ یہ خوش خبری ہے۔ لیکن بری خبر یہ ہے کہ ماضی میں ایسا نہیں ہو سکا ، حال ہمارے سامنے ہے اور مستقبل تو محض ‘تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں’ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ثقافتی پہلوؤں کا ہلکا سا احاطہ بھی یہ بتائے دیتا ہے کہ معاشرے میں بہت سے قبائل یا برادریاں ہوتی ہیں اور قبائلی تفاخر یا اس سے ملتی جلتی متعصبانہ سوچ کے بل بوتے دیگر چھوٹے قبائل کا استحصال کرتے ہیں اور اس نظام کو مقدس لبادے پہنا کر مفادات سمیٹتے ہیں۔ اسی ثقافتی پہلو کو عالمی سطح پہ لے جا کر ساری حقیقت کی قلعی کھل جاتی ہے۔ اس غاصبانہ تسلط کی سوچ کو تقدس کی چادر میں لپیٹ کر جو کھیل سرمایہ دارانہ نظام کے والی وارث رچا رہے ہیں یہ نظام بہت مفید ہے لیکن یہ صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود ہے۔ اس نظام میں مقامی سطح پہ جیسے کوئی جاگیر دار فایدہ سمیٹ سکتا ہے بعین عالمی سطح پہ اس مقامی غنڈے کا عکس نظر آجائے گا۔ کسی نے کہا ہے کہ جنگ کو تباہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وطن پرستی کو تباہ کیا جائے۔ چونکہ جب لکیر لگ جاتی ہے تو میری زبان برتر شمار ہو جاتی ہے اور میری ثقافت کو گر چار ہیں تو بارہ چاند لگ جاتے ہیں اور میرا سکول آف تھاٹ افضل ہو جاتا ہے لیکن یہ ایک آئیڈیل صورتحال ہے۔ حقیقت پسندانہ نظریات کے ماننے والے موجودہ صورتحال میں راہیں ہموار کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کچھ استعمال ہو جاتے ہیں اور کچھ کی حساسیت جواب دے جاتی ہے۔ کیا حالات بہتر ہو سکتے ہیں کا جواب انتہائی مشکل ہے چونکہ وہ ہر طرح کی پرستش سے آزادی کا مطالبہ ہے۔ جو لوگ زندگی کے اواخر سہہ رہے ہیں ان کو ان لرننگ اور ری لرننگ مہنگی پڑ سکتی ہے اور جو اوائل میں ہیں وہ ذہنی پختگی تک پہنچتے ہوئے اسی جھنجھٹ میں لا شعوری طور پہ پھنسے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان کا ذہن نہیں ہے۔ اسی انسانی ذہن نے ایٹمی ہتھیاروں کو جنم دیا ہے۔ یہی جہاز بناتا ہے جو پرندوں کی طرح اڑتا ہے اور یہی انسان میڈیکل سے علم و فنون تک ہر شعبے کا وارث ہے لیکن اب تک انسانی حقوق کا شعور، حقیقی ابدی نفسیات، یا سماجی رابطوں کی اہمیت کیوں پروان نہیں چڑھ پائی یا سفارتکاری جیسے میدان میں کیوں ترقی نہیں ہو پائی ایک بہت بڑا سوال ہے! اس فساد نے جہاں کئی جانوں کی قربانی ماضی میں لی ہے اب بھی لے رہی ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ جو ظلم کے بھینٹ چڑھ گئے ہیں اور لقمہ اجل بن گئے رہ جانے والوں کے ضمیر کو امتحان میں ڈال گئے ہیں جو کئی طرح کے بدلتے بیانیوں کے زد میں ہیں اور اس نفسیاتی کشمکش میں کسی بے ہنگم شور اور ہنگامے کی نظر ہو جائیں گے! اگر انہی اندیشوں ، خوف و خطر ، دہشت، فساد ، اور جبر کا نام زندگی ہے تو ایسے کلچر یا قبائلی تعصب سے بدرجہ ہا بہتر کسی کوے کی کائیں کائیں، کسی طوطے کی ٹیں ٹیں یا بارش کی رم جھم ہے اور بے شک مایوسی گناہ ہے!


