کتاب : بگولہ رقص میں رہتا ہے ( سفر نامے) مصنفہ : نیلم احمد بشیر/تبصرہ نگار : کنول بہزاد

کیا آپ کبھی نیلم سے ملے ہیں؟ جی نیلم سے، جن کے نام میں موسیقیت، دلکشی اور رومان ہے۔ نہیں ملے؟

میں تو یہی کہوں گی اس نٹ کھٹ، چلبلی اور زندگی سے بھرپور لڑکی سے ضرور ملیں۔ جی وہی جسے سب نیلم احمد بشیر کے نام سے جانتے ہیں۔

ارے بھئی، زمان و مکان کے فاصلے ہیں تو کیا ہوا۔ یہ جو حال ہی میں ان کا نیا سفرنامہ آیا ہے، اسے منگوائیے اور دسمبر کی سجیلی دھوپ میں کینو کی قاشوں جیسے کھٹے میٹھے سفرناموں کو پڑھیے۔ رات کو لحاف میں دبک کر ٹیبل لیمپ کی مدھم روشنی میں مونگ پھلی اور کاجو کی طرح چگتے جائیے۔ جی ہاں، ایسی ہی کتاب ہے یہ “بگولہ رقص میں رہتا ہے”۔

پہلا سفرنامہ نیپال کا ہے۔ یہ سفر انہوں نے ایک کانفرنس کے سلسلے میں انتظار حسین صاحب کے ساتھ کیا۔ اس سفرنامے میں نیلم کی تحریری بے ساختگی، اجلا پن، روانی اور ہلکی پھلکی مزاح کی چاشنی عروج پر ہے۔ منظرکشی اتنی دلنشیں ہے کہ آپ خود کو ہر منظر کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں اور تحریر کے حسن میں پوری طرح کھو جاتے ہیں۔ اس سفرنامے میں نیلم کی شخصیت کے بڑے خوبصورت اور اہم پہلو آشکار ہوتے ہیں۔ وہ آپ کو ایک سچی کھری لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صوفی، ایک فلسفی بھی دکھائی دیتی ہیں۔

بیگم حضرت محل کا مزار دیکھ کر لکھتی ہیں:

“مسجد کے پچھواڑے اجڑے دیار کا سا سماں دیکھ کر دل ڈوبنے لگا۔ مٹی، اینٹوں پر جا بجا اگی ہوئی خود رو جھاڑیوں، پودوں میں لپٹی ڈھکی چھپی ایک اداس سی قبر نے چپکے سے ہمیں دیکھا اور پاس بلایا۔ بادشاہ کی بیگم نہ جانے کب سے پردیس میں یوں اکیلی پڑی سو رہی تھی۔ اس نے ایک لحظے کو دھیرے سے آنکھیں کھول دیں اور مجھے اپنی نظروں سے خوش آمدید کہا۔ یہ اس کا دیس نہیں تھا مگر وہ اس کو اپنا دیس بنائے بیٹھی تھی۔ ایک شیرنی جس نے غلام کی زندگی پر آزادانہ بے وطنی کی زندگی کو ترجیح دی مگر نہ جانے کن حالات میں اس نے اپنا دیس چھوڑا اور اپنے لیے اس تنہائی کی زندگی کا انتخاب کیا ہوگا۔ اس کے ساتھ نہ جانے کیا بیتی ہوگی۔ شاید وہ ایک ماں بھی ہو، شاید اس کے بچے پیچھے رہ گئے ہوں۔ اگر ایسا ہوا ہوگا تو ان کے لیے کیسے کیسے نہ تڑپی ہوگی۔ ان کے دیکھنے کو اس کی آنکھیں ترستیاں ہوں گی۔ جغرافیائی فاصلوں سے کبھی کبھار دلوں میں بھی فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں اور دل اتنے کرب، اتنے درد سے لبریز ہو جاتا ہے کہ جینا مشکل ہو جاتا ہے۔”

ان سفرناموں کو پڑھ کر آپ بے ساختہ مسکرائیں گے بھی اور میری طرح بہت بار رو بھی دیں گے۔ ان میں نیلم کی شخصیت آپ کو کھلی کتاب کی طرح دکھائی دے گی۔

دوسرا سفرنامہ نیویارک میں “ستمگر ستمبر” ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں نیلم نو بیاہتا دلہن کے طور پر پہلی بار گئیں۔ پھر اس شہر کے کیا کیا روپ دیکھے، یہ سب پڑھنے کے قابل ہے۔ اس میں تو باقاعدہ نیویارک کی تاریخ سمٹ آئی ہے اور جس طرح نیلم نائن الیون کے واقعے کو قلمبند کیا ہے وہ شاید ہی کوئی اور کر سکا ہو، کیونکہ یہ سب نیلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دل پر جھیلا۔

اگلا سفر ہندوستان کا ہے۔ یہ بھی بہت دلچسپ پیرائے میں لکھا گیا ہے۔ نیلم کے اسلوب نے اسے خاصے کی چیز بنا دیا ہے۔ وہاں نیلم کی گلزار صاحب سمیت بے شمار شاعروں، ادیبوں سے ملاقات رہی۔ کچھ کھٹے میٹھے تجربات بھی ہوئے۔ ان کے اعزاز میں ایک تقریب ہوئی جس کا احوال کچھ یوں لکھتی ہیں:

“کویتا جی کے گھر ادبی سنگت بہت خوبصورت رہی۔ ممبئی کے نامور شاعر، ادیب آئے اور آ کر میری عزت افزائی کی۔ شام کی یہ نشست مکمل طور پر میرے لیے وقف تھی جہاں میں نے اپنا ایک افسانہ ‘جڑیں’ پڑھا جسے سب نے بہت تحمل اور دلچسپی سے سنا۔ یہ کہانی چونکہ ہندو پاک کی تقسیم اور ہجرت کے موضوع کا احاطہ کرتی ہے لہٰذا سبھی نے اس سے ربط محسوس کیا اور مجھے کھل کر داد دی۔ خوشی ہوئی کہ میری کہانی کو اتنی پذیرائی ملی۔ افسانے کے بعد سوالات کا دور چلا اور شرکا نے مجھ سے پاکستان، پاکستانی ادیب اور معاشرے کے بارے میں استفسارات کیے جن کے میں حتی المقدور جوابات دیتی رہی۔ سبھی بہت دوستانہ انداز میں باتیں پوچھ رہے تھے مگر دو مسلمان ادیبوں کا رویہ مجھے کچھ جارحانہ لگا۔ نغمہ نگاہ ندا فاضلی اور صحافی فیروز اشرف صاحب کی ناقدانہ باتیں سن کر احساس ہوا کہ انہیں پاکستان سے قطعا کوئی لگاؤ نہیں۔”

نیلم احمد بشیر کی حب الوطنی بھی مثالی ہے۔ اس کے کئی شواہد آپ کو ان سارے سفرناموں میں ملیں گے۔

پھر بلتستان کا خوبصورت سفرنامہ ہے۔ اس میں بھی منظرکشی کمال کی ہے۔ یہاں وہ محترمہ سلمیٰ اعوان کے ساتھ گئیں۔ ایک جگہ لکھتی ہیں:

“ہماری گروپ لیڈر سلمی اعوان کو بلتستانی لوگ اپنی سمجھتے اور اون کرتے ہیں۔ ان کی 32 برس پہلے لکھی کتاب ‘میرا بلتستان’ سکردو والے بھولے نہیں۔ ہم تینوں جہاں کہیں بھی گئیں سلمیٰ کی بہت پذیرائی اور عزت افزائی ہوئی۔ میں اور سیما چونکہ پہلی بار گئی تھیں اس لیے ظاہر ہے ہمیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ہم دونوں جا بجا لوگوں کو سلمی سلمی پکارتے دیکھ کر جل بھن کر خاک ہو گئیں اور مذاقاً کہا: سکردو کے لوگوں کو چاہیے محترمہ سلمی اعوان کا ایک بت بنا دیں اور اسے بازار کے چوک میں نصب کر دیں۔ نیچے لکھیں ‘مادر بلتستان’۔ اس بات پر ہم لوگ بہت ہنسی مذاق کرتے رہے۔ لکھا تو تھوڑا بہت ہم نے بھی ہے مگر یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ ہمارے لکھے کو کوئی یوں صحیفہ مان لے۔ ہمیں سکردو کے محبت بھرے لوگوں نے احساس دلایا کہ سلمی کی اس علاقے، اس دور افتادہ آبادی پر توجہ کو انہوں نے بہت مقدم جانا۔ سلمیٰ کی کتاب کا جگہ جگہ تذکرہ ہوتا رہا اور بتایا گیا اسے آج بھی بطور ریفرنس استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بڑی خوش نصیبی کی بات تھی۔ ہم سلمیٰ کے پہلے ہی بہت قائل تھے، اب مزید مغلوب اور مرعوب ہوتے چلے گئے۔ ہاں بھئی، سہیلی ہو تو ایسی۔”

آخر میں فورٹ منرو کی پراسرار وادی کا مختصر احوال ہے، جہاں کا سفر انہوں نے میرے ساتھ کیا۔ پڑھ کر تشنگی سی محسوس ہوئی کہ کاش جنوبی پنجاب کے اس دلکش اور انوکھے مقام کے بارے میں ذرا تفصیل سے لکھا ہوتا۔

خیر، یہ سارے سفرنامے پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں شائع کیا ہے “عکس پبلیکیشنز” نے۔ صفحات عمدہ اور طباعت شاندار ہے اور آغاز میں ہی نیلم کی دل موہ لینے والی خوبصورت تصاویر بھی موجود ہیں جو اسے اور بھی قیمتی بناتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں