ڈیجیٹل کرنسی اور غیر یقینی مستقبل/ماریہ بتول

ڈیجیٹل کرنسی کا مستقبل ابھی دھندلا ہے — اور شایدیہی اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے ۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے۔ تجارت، تعلیم، بینکاری اور حتیٰ کہ روزمرہ لین دین بھی اب اسمارٹ فون کی اسکرین تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ اسی بدلتی ہوئی دنیا میں ڈیجیٹل کرنسی یا کرپٹو کرنسی نے ایک نئے معاشی باب کا آغاز کیا ہے۔ بٹ کوائن اور دیگر ورچوئل کرنسیاں چند ہی برسوں میں عالمی مالیاتی بحث کا مرکزی موضوع بن چکی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ڈیجیٹل کرنسی واقعی معیشت کا محفوظ مستقبل ہے یا ایک غیر یقینی اور پرخطر تجربہ ؟۔ ڈیجیٹل کرنسی وہ کرنسی ہے جو صرف الیکٹرانک شکل میں موجود ہوتی ہے۔یعنی یہ نوٹ یا سکے کی صورت میں نہیں ہوتی بلکہ انٹرنیٹ، موبائل یا کمپیوٹر کے ذریعے استعمال کی جاتی ہے۔مثالیں:کرپٹو کرنسی (Bitcoin، Ethereum),آن لائن بینک منی ,موبائل والٹ بیلنس ہیں.
ڈیجیٹل کرنسی کی شروعات کا ابتدائی دور (1980–1990) ہے ۔سب سے پہلے ڈیجیٹل پیمنٹ کا تصور آیا۔کریڈٹ کارڈ اور آن لائن بینکنگ متعارف ہوئی۔
2009 میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ۔اسی سال Bitcoin متعارف ہوا۔اسے ایک نامعلوم شخص/گروپ “Satoshi Nakamoto” نے بنایا۔یہ بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی تھا، جس میں کوئی مرکزی بینک شامل نہیں۔جبکہ 2015 کے بعدEthereum اور دیگر کرپٹو کرنسیاں آئیں۔اسمارٹ کنٹریکٹس اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) کا آغاز ہوا۔
ڈیجیٹل کرنسی کی اہمیت کی اگر بات کی جائے تو
یہ تیز رفتار لین دین چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی کونے میں پیسے بھیجے جا سکتے ہیں۔بینک کے بغیر سسٹم کرپٹو کرنسی میں براہِ راست شخص سے شخص کو ادائیگی ہوتی ہے۔اوربین الاقوامی ٹرانزیکشنز میں فیس کم ہو سکتی ہے۔عالمی معیشت میں تبدیلی کے تحت بہت سے ممالک اپنی Central Bank Digital Currency (CBDC) متعارف کرا رہے ہیں۔
ڈیجیٹل کرنسی کی سب سے بڑی خوبی اس کی غیرمرکزی حیثیت ہے۔ یہ کسی ایک حکومت یا مرکزی بینک کے کنٹرول میں نہیں ہوتی بلکہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے چلتی ہے۔ حامیوں کے مطابق یہی آزادی اسے شفاف اور جدید بناتی ہے۔ تاہم یہی پہلو ریاستی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بھی ہے، کیونکہ جب مالیاتی نظام حکومتی نگرانی سے باہر ہو جائے تو ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
مگر ڈیجیٹل کرنسی کے خطرات بھی ہیں جیسے کہ قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ،فراڈ اور ہیکنگ کا خطرہ اور بعض ممالک میں قانونی مسائل وغیرہ ۔
کرپٹو مارکیٹ کا شدید اتار چڑھاؤ بھی اس کے غیر یقینی مستقبل کی ایک بڑی علامت ہے۔ چند گھنٹوں میں قیمتوں کا آسمان سے زمین پر آ جانا سرمایہ کاروں کے لیے شدید نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ روایتی کرنسیوں کے برعکس، یہاں کوئی ایسا مستحکم ادارہ موجود نہیں جو بحران کے وقت سہارا دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک نے کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی لگائی، جبکہ کچھ نے محتاط قوانین کے ساتھ اسے قبول کیا۔
اگرچہ پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی غیر یقینی مستقبل
گزشتہ چند سالوں میں دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسی، خاص طور پر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں، مالیاتی منڈیوں کا ایک اہم حصہ بن گئی ہیں۔ یہ جدید مالیاتی انقلاب کے طور پر سامنے آئی ہیں، جو روایتی بینکنگ نظام اور کرنسی کے تصور کو چیلنج کر رہی ہیں۔ مگر پاکستان کے لیے اس کا مستقبل ابھی بھی غیر یقینی ہے۔پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کی قانونی حیثیت واضح نہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کئی بار خبردار کیا ہے کہ کرپٹو کرنسیاں قانونی ٹینڈر کے طور پر قبول نہیں ہیں، اور ان میں سرمایہ کاری کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود، نوجوان اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس کے ممکنہ فوائد میں دلچسپی رکھتے ہیں، جیسے کہ تیز تر رقوم کی منتقلی، بین الاقوامی لین دین میں آسانی، اور روایتی بینکنگ کے متبادل کے طور پر کام کرنا۔
تاہم، پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے مستقبل کے لیے کئی چیلنجز موجود ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ قانونی فریم ورک کی کمی ہے۔ بغیر واضح قوانین کے، سرمایہ کار اور عام صارف دونوں غیر یقینی صورتحال میں ہیں۔ اس کے علاوہ، مالیاتی فراڈ، ہیکنگ، اور مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری خطرناک ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کے امکانات کو بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایک واضح اور شفاف قانونی ڈھانچہ متعارف کرائے۔ بینکنگ اور مالیاتی اداروں کو اس میں شامل کیا جائے تاکہ صارفین محفوظ طریقے سے ڈیجیٹل کرنسی استعمال کر سکیں۔ اس کے علاوہ، عوام میں مالیاتی تعلیم اور آگاہی بڑھانا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ اس ٹیکنالوجی کے فوائد اور خطرات دونوں کو سمجھ سکیں۔ڈیجیٹل کرنسی پاکستان میں انقلاب لا سکتی ہے، مگر اس کے لیے منظم اور محتاط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور مالیاتی ادارے مناسب اقدامات کریں، تو یہ جدید مالیاتی نظام کا حصہ بن سکتی ہے، ورنہ غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔
اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان سینیٹ نے حال ہی میں Virtual Assets Bill 2025 کو منظور کیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل کرنسی، کریپٹو اور دیگر ورچوئل اثاثوں (مثلًا بٹ کوائن، ایتھیریم، اسٹیک کوائنز وغیرہ) کے لئے باقاعدہ قانونی فریم ورک بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت ایک بااختیار ریگولیٹری اتھارٹی بنائی جائے گی جو لائسنس دینے، نگرانی اور قواعد و ضوابط نافذ کرے گی۔
اس نئے قانون کا حصول سرمایہ کاروں کو تحفظ ,مارکیٹ کی شفافیت ,منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے مالیاتی خطرات سے نمٹنااور بین الاقوامی مالیاتی معیار کے مطابق ریگولیشن۔ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA)یہ اتھارٹی لائسنس جاری کرے گی، پلیٹ فارمز کی نگرانی کرے گی اور صارفین کے تحفظ کے لئے ضوابط ترتیب دے گی۔ پاکستان نے اپنی کرنسی ”ڈیجیٹل روپیہ“ (Central Bank Digital Currency) کے لئے پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل روپیہ براہِ راست پاکستان کے مرکزی بینک (State Bank of Pakistan) کے ذریعے جاری ہوگا۔ اس کا مقصد ادائیگیوں کو آسان بنانا، کیش لیس معیشت کو فروغ دینا، بینکنگ نظام میں کفایت شعاری لانااور غیر قانونی ٹرانزیکشنز میں کمی لانا ہے۔حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک روپیہ سے وابستہ اسٹیک کوائن بھی جاری کرے گا — جس کا استعمال ڈیجیٹل ادائیگیوں، ریمیٹینس (بیرونی ترسیلات) اور تیز مالیاتی ٹرانزیکشنز کے لئے ہوگا۔ پہلے پاکستان میں کریپٹو مارکیٹ کا قانونی فریم ورک موجود نہیں تھا، اور لوگ غیر رسمی طریقوں سے کرپٹو خرید و فروخت کرتے تھے۔اب حکومت نے قانون سازی کے ذریعے لائسنس یافتہ ایکسچینجز اور ڈیجیٹل والٹس کو قانونی حیثیت دی ہے۔ریگولیشن کی بنیاد پر کسٹمر پروٹیکشن اور شفاف مارکیٹ یقینی بنائی جارہی ہے۔اورغیر قانونی سرگرمیوں جیسے منی لانڈرنگ اور ٹیررسٹ فنانسنگ کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیےڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا اہم حصہ بنایا جا رہا ہے، جس سے فنانشل انکلوژن میں اضافہ،نوجوانوں کے لئے نئی ملازمتیں،ریمیٹینس سسٹم میں بہتری اوربلاک چین اور فنانشل ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان نے بین الاقوامی کریپٹو فرموں کو لائسنس پروگرام کے ذریعے مارکیٹ میں آنے کی دعوت دی ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور ملکی فنانشل ایکو سسٹم مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔
مزید برآں، ڈیجیٹل کرنسی کا مستقبل عالمی سیاسی حالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر بڑی معاشی طاقتیں اسے سرکاری سطح پر اپنالیں تو یہ روایتی بینکاری نظام کو چیلنج کر سکتی ہے۔ لیکن اگر عالمی سطح پر سخت قوانین نافذ ہو جائیں تو اس کی مقبولیت محدود بھی ہو سکتی ہے۔ یوں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ڈیجیٹل کرنسی اس وقت ایک تجرباتی مرحلے میں ہے جہاں امکانات بھی روشن ہیں اور خطرات بھی نمایاں۔
نتیجتاً، ڈیجیٹل کرنسی کو نہ مکمل طور پر رد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی آنکھیں بند کر کے قبول کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستیں متوازن پالیسی اپنائیں، عوام کو آگاہی فراہم کریں اور ٹیکنالوجی کو قومی مفاد کے مطابق ڈھالیں۔ بصورت دیگر یہ جدید مالیاتی ایجاد ترقی کے بجائے بحران کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں