پختون سرزمین کی تاریخ میں بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو اپنے گرد روایت، جدوجہد، اختلاف اور احترام کی بیک وقت فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ شمس بونیری بھی انہیں میں سے ایک تھے۔ یکم اگست 2023 کو جب ان کے انتقال کی خبر پھیلی تو بونیر کی فضا میں ایک عجیب سی اداسی اتر آئی۔ کوئی انہیں قومی سیاست کا استعارہ کہہ رہا تھا، کوئی پشتو ادب کا سپاہی، کوئی مزاحمتی تحریک کا نشان، اور کوئی ایک متنازع مگر باوقار شخصیت۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی زندگی کو کسی ایک عنوان میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ وہ بیک وقت شاعر بھی تھے، وکیل بھی، سیاسی کارکن بھی، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسے شخص تھے جس نے اپنے یقین کے لیے قیمت ادا کی۔
ان سے پہلی ملاقات کا واقعہ آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ سن اٹھاسی کی ایک شام، حجرے کے برآمدے میں ایک وجیہہ شخص کھڑا تھا۔ باوقار، بھوری آنکھوں میں ہلکے سرخ رنگ کے ڈور، جیسے ہلکے خمار کا نتیجہ ہوں یا ابھی ابھی نیند سے اٹھا ہو۔ اوسط قدو قامت اور تھوڑے سے دبلے اس شخص نے گلے لگا کر ایسے حال پوچھا جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شمس بونیری ہیں، والد کے ہم جماعت اور پرانے دوست، جو میرے دادا کی وفات پر تعزیت کے لیے آئے تھے۔ اس وقت تک ان کا نام صرف سیاسی گرفتاریوں اور ضیاء الحق کے دور کی مزاحمت کے حوالے سے سنا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی، طویل اسیری، اور پھر رہائی۔ مگر روبرو ملاقات نے ایک اور پہلو دکھایا: نرم گفتار، کشادہ دل اور غیر مصنوعی انسان۔
شمس بونیری کی فکری تربیت کا سرچشمہ خان عبدالغفار خان کی عدم تشدد کی سیاست اور قومی خودی کا تصور تھا۔ عبدالغفار خان کی روایت سے وابستگی نے ان کے اندر مزاحمت کو محض ردعمل نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک اخلاقی ذمہ داری میں ڈھال دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی شعور کی بیداری کا ذریعہ سمجھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو نظریے کو کتابوں میں نہیں، گلیوں اور دیہات کی دیواروں پر لکھتے ہیں۔
ان کی پیدائش بونیر کے گاؤں غازی خانے میں 1946 کو ایک مذہبی گھرانے میں ہوئی تھی، لیکن ان کی جوانی کا زمانہ عالمی کشمکش کا دور تھا۔ سوویت یونین اور امریکہ کی سرد جنگ نے پورے خطے کو نظریاتی میدان بنا دیا تھا۔ ایسے میں ایک حساس ذہن کے لیے غیر جانبدار رہنا آسان نہ تھا۔ انہوں نے ابتدائی ملازمت بطور پرائمری استاد اختیار کی، مگر جلد ہی ریاستی سیاست اور قومی تحریکوں کی کشمکش میں کھنچتے چلے گئے۔ ریاست سوات کے خاتمے کی تحریک، نیشنل عوامی پارٹی کی سرگرمیاں، اور بعد ازاں مختلف تنظیمی ذمہ داریاں ان کی زندگی کا حصہ بنتی گئیں۔ انہوں نے سرکاری ملازمت کو خیرباد کہا اور کھلے میدان کا انتخاب کیا۔
1973 کے بعد کے حالات نے انہیں روپوشی، گرفتاری اور جلاوطنی کی طرف دھکیلا۔ انہوں نے افغانستان میں جلاوطنی کی زندگی گزاری، کابل میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے سقوط تک مقیم رہے، جیلیں کاٹیں، امریت کے دور میں جسمانی اذیتیں کوڑوں کی صورت میں برداشت کیں، مگر اپنے موقف سے سرمو انحراف نہ کیا۔ 2001 میں پاکستان میں ان کی کتابوں پر عائد پابندیاں ختم کی گئیں تو ایک طرح سے ان کی فکری واپسی کا دروازہ کھلا۔ یہ محض قانونی فیصلہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کے زخموں پر مرہم رکھنے کی علامت بھی تھا۔
لیکن اس جدوجہد کی سب سے بھاری قیمت ان کے اہل خانہ نے ادا کی۔ نوجوان بیوی، کم سن بچے، بوڑھی ماں، اور ایک گھر جو انتظار میں ڈھلتا رہا۔ ایک مرد جب انقلاب کا خواب لے کر نکلتا ہے تو اس کے پیچھے رہ جانے والوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہے، اس کا حساب تاریخ کے پاس نہیں ہوتا۔ شمس بونیری کی داستان کا یہ پہلو ان کی سیاست سے زیادہ گہرا اور انسانی ہے۔ انہوں نے خود بھی بعد کے برسوں میں اس اذیت کا اعتراف کیا کہ جدوجہد صرف فرد کی نہیں، پورے خاندان کی آزمائش ہوتی ہے۔
بونیر میں ان کی سیاسی و فکری مباحث ان کے چند دوستوں کے ساتھ رہتی تھی، جن میں ہم جیسے طالب علم بھی ان کو سنتے تھے۔ محمد خان آف نر بٹول اور سید اختیار باچا کے ساتھ ان کی نشستیں محض گپ شپ نہ تھیں بلکہ فکری درسگاہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ سید اختیار باچا خود معروف مارکسسٹ رہنما اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سابق سیکرٹری جنرل کے چھوٹے بھائی تھے، سب نظریاتی مباحث میں گہری بصیرت رکھتے تھے۔ انہی محفلوں میں فلسفے کے ابتدائی مبادیات، جدلیاتی مادیت کی بنیادیں اور بائیں بازو کی سیاست کی الف بے دل میں اترتی گئی۔ یہ سیکھنے کا عمل احترام اور محبت کے ساتھ تھا، اگرچہ عملی سیاست میں قدم رکھنے کی ہمت ہم نہ کر سکے مگر ذہنی تشکیل پر ان نشستوں کے نقوش ہمیشہ قائم رہے۔
ادبی میدان میں شمس بونیری کی شناخت بنیادی طور پر پشتو شاعر کی تھی۔ ان کے دسیوں مطبوعہ اور متعدد غیر مطبوعہ مسودات موجود ہیں۔ پشتو میں ان کی نمایاں کتابوں میں “سور سحر”، “د وخت چغہ”، “زه څوک يم”، اور “کاني کاني ژوند” شامل ہیں۔ ان کے کلام میں قید و بند کی تلخی بھی ہے اور امید کی روشنی بھی۔ طبقاتی شعور، قومی احساس اور انسانی وقار کی بازگشت ان کی نظموں کا مرکزی حوالہ ہے۔ ابتدائی شاعری میں انقلابی آہنگ نمایاں تھا، جس پر بعض مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید بھی ہوئی حتیٰ کہ ارتداد اور الحاد کے الزامات بھی لگائے گئے۔ مگر وقت کے ساتھ ان کے اسلوب میں توازن اور فکری گہرائی پیدا ہوئی۔ ان کی شاعری میں پختون تاریخ، طبقاتی احساس اور انسانی وقار کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
1992 کے بعد انہوں نے باقاعدہ وکالت کا آغاز کیا۔ یہ ان کی زندگی کا دوسرا اہم مرحلہ تھا۔ مخالفین نے یہاں بھی ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا، مگر انہوں نے عدالت کو محض روزگار نہیں بلکہ انصاف کی خدمت کا میدان بنایا۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر مقدمات کی تیاری کرتے، دلائل کو ترتیب دیتے اور مخالف کی بات تحمل سے سنتے۔ ان کی خطابت میں جذباتیت کے بجائے استدلال غالب رہتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ متنازع ہونے کے باوجود انہیں سنجیدگی سے لیا جاتا تھا۔
ادب سے ان کا تعلق کبھی منقطع نہ ہوا، اگرچہ ایک عرصہ انہوں نے شاعری سے فاصلہ رکھا۔ 2005 کے بعد انہوں نے نئے رنگ میں اظہار شروع کیا۔ ان کے شعری مجموعے پاکستان اور افغانستان دونوں جگہ شائع ہوئے۔ ان کی بیٹھک جسے وہ محبت سے “کوڈلہ” کہتے تھے، اہلِ ذوق کی محفل بن گئی۔ وہاں شعر بھی پڑھا جاتا، سیاست پر گفتگو بھی ہوتی اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی بھی۔
وہ ایک ایسا کردار تھے کہ کسی ایک خانے میں فٹ نہیں ہوتے تھے۔ کچھ لوگ انہیں صرف انقلابی دیکھنا چاہتے تھے، کچھ صرف شاعر، کچھ صرف وکیل۔ مگر وہ ان سب کا مجموعہ تھے۔ انہوں نے بڑے ادبی اور سیاسی ناموں کے ساتھ نشستیں کیں، مگر اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔ اختلافات کے باوجود ان کے اندر ایک مضبوط اعصاب والا انسان تھا جو شکست کو لغت سے خارج سمجھتا تھا۔
آج جب ہم ان کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے زمانے کے نمائندہ تھے جس میں نظریہ محض نعرہ نہیں بلکہ عہد ہوتا تھا۔ انہوں نے غلطیاں بھی کی ہوں گی، فیصلے بھی متنازع رہے ہوں گے، مگر ان کی نیت میں کھوٹ نہ تھا۔ انہوں نے جو راستہ چنا، اس پر چلنے کی قیمت بھی ادا کی۔ یہی کسی انسان کی اصل پہچان ہے۔ شمس بونیری اب اس دنیا میں نہیں، مگر بونیر کی فضا میں ان کی آواز، ان کی بحثیں، ان کی مسکراہٹ اور ان کی ضد ایک یادگار کے طور پر باقی رہیں گی۔


