افغان جنگ کا بل-ایران جنگ کا سرچارج/فاروق نُتکانی

انسانی تاریخ کا ایک عجیب اصول ہے کہ جنگیں ہمیشہ میدانِ کارزار میں نہیں جیتی جاتیں؛ بعض جنگیں بازاروں میں ہاری جاتی ہیں۔ توپوں کی گھن گرج سرحدوں پر سنائی دیتی ہے مگر اس کی بازگشت اکثر دکان دار کے ترازو اور پٹرول پمپ کے میٹر میں محسوس ہوتی ہے۔ دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں جب جنگ کی حکمتِ عملی لکھی جاتی ہے تو اس کے حاشیے میں کہیں نہ کہیں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ اس کا حساب کون ادا کرے گا۔ تاریخ کا تلخ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اکثر یہ حساب کتاب ان لوگوں کے نام لکھا جاتا ہے جو جنگ کے نقشے بنانے والوں میں شامل نہیں ہوتے۔
ایک زمانہ تھا جب جنگوں کے اخراجات خزانے سے ادا کیے جاتے تھے۔ سلطنتیں اپنے خزانے کھولتی تھیں، سونے کے سکے پگھلتے تھے اور فوجی مہمات جاری رہتی تھیں۔ مگر جدید دنیا نے اس اصول کو بڑی مہارت سے بدل دیا ہے۔ اب جنگوں کے اخراجات براہِ راست خزانے سے نہیں بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے گوشوں سے وصول کیے جاتے ہیں۔ کسی شے پر ٹیکس بڑھ جاتا ہے، کسی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور کسی بل میں ایک نیا سرچارج نمودار ہو جاتا ہے۔ یوں جنگ کا بوجھ خاموشی سے عوام کی جیبوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں اگر کوئی یہ کہہ دے کہ پچپن روپے فی لیٹر میں سے بیس روپے افغان جنگ کا بل ہے اور باقی پینتیس روپے ایران جنگ کا سرچارج ہے تو اس جملے کو محض مزاح نہ سمجھا جائے۔ اس میں زمانے کی ایک گہری حقیقت پوشیدہ ہے۔ یہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر چلنے والی چالوں کا حساب اکثر اُن لوگوں سے لیا جاتا ہے جو اس کھیل کے تماشائی بھی نہیں ہوتے۔
افغانستان کی سرزمین پچھلی نصف صدی سے عالمی طاقتوں کے تجربات گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کبھی یہاں نظریات کی جنگ لڑی گئی، کبھی جغرافیہ کی۔ بڑی طاقتیں آئیں، اپنے اپنے نظریات اور مفادات کے جھنڈے گاڑے، اور پھر ایک دن خاموشی سے رخصت ہو گئیں۔ مگر ان جنگوں کی گرد ابھی تک فضا میں موجود ہے۔ اس گرد کے ذرات کبھی مہنگائی کی صورت میں اڑتے ہیں، کبھی معاشی دباؤ کی شکل میں۔
ایران کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے شطرنج کے کھیل سے مشابہ ہے جس میں مہرے بدلتے رہتے ہیں مگر کھیل جاری رہتا ہے۔ پابندیاں، اقتصادی دباؤ اور علاقائی کشمکش … یہ سب عوامل تیل کی قیمتوں کو ایسے متاثر کرتے ہیں کہ اس کا اثر ہزاروں میل دور کسی چھوٹے شہر کے پٹرول پمپ تک محسوس ہوتا ہے۔ یوں عالمی سیاست کی لہریں ایک عام آدمی کی جیب تک پہنچ جاتی ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی موجود ہے۔ جنگ کے فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں، مگر اس کے اثرات بازاروں میں محسوس ہوتے ہیں۔ سیاست دان قراردادیں منظور کرتے ہیں، جرنیل نقشے بناتے ہیں، اور ماہرینِ معیشت گراف تیار کرتے ہیں۔ مگر آخرکار وہ آدمی جو موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوا رہا ہوتا ہے، شاید اس پوری داستان سے بے خبر ہوتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک حقیقت اہم ہوتی ہے: میٹر تیزی سے چل رہا ہے اور جیب ہلکی ہوتی جا رہی ہے۔
تاریخ کی بعض سطریں اتنی باریک ہوتی ہیں کہ عام قاری کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں، مگر انہی باریک سطروں میں اصل معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ جنگوں اور معیشت کا تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بظاہر یہ دو الگ دنیائیں معلوم ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں ان کے درمیان ایک گہرا رشتہ موجود ہے۔
چنانچہ اگر کسی دن کسی نے طنزاً یہ کہہ دیا کہ پٹرول کے نرخوں میں جنگوں کا بل شامل ہے تو اسے محض لطیفہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیجیے۔ اس جملے میں عصرِ حاضر کی معیشت اور سیاست کا ایک پورا فلسفہ چھپا ہوا ہے۔ جنگیں کہیں بھی ہوں، ان کی بازگشت بالآخر عام آدمی کی زندگی میں سنائی دیتی ہے۔
اور شاید یہی جدید دنیا کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ تاریخ کے بڑے فیصلے چند ہاتھوں میں ہوتے ہیں، مگر ان فیصلوں کی قیمت کروڑوں لوگ ادا کرتے ہیں۔
پٹرول پمپ کا میٹر جب تیزی سے گھومتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ اپنے اخراجات کا حساب وصول کر رہی ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں