دنیا کا قدیم ترین چرچ (گرجا گھر) سعودی عرب میں ہے۔ ممکن ہے کئی لوگوں کے لئے یہ حیرت کی بات ہوگی، یہ قدیم ترین چرچ تیسری یا چوتھی عیسوی صدی میں مسیحیوں کا گرجا گھر ماضی کے قطیف کی نسبت سے معروف۔تھا، مگر امتداد زمانہ میں یہ غائب ہوگیا تھا۔ اسے صحرا کی ریت نے چھپا لیا تھا، یہ فروری 1986 کے آخر میں سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں جبیل شہر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے جبیل کے مغرب میں ریت کے ٹیلوں پر اپنا پکنک کیمپ لگانے کی جب کوشش تو اسے اندازہ ہوا کہ اس کے نیچے کچھ ہے، پھر اس پر محکمہ آثار قدیمہ نے کام کیا تو سنہء 1994 میں “Arabian Archeology and Epigraphy” میں اس پر مقالہ شائع ہوا تھا۔
اب معاملہ یہ ہے کہ قدیم کتب میں اس کا حوالہ قطیف شہر کے حوالے سے ملتا ہے ، مگر چونکہ خطیب سے مراد الحسا یا وہ آبادی جسے بحرین کے اس عہد یعنی ابتداء اسلام کے حوالے کی ابادی سے بھی جانا جاتا ہے ، مگر اصلا یہ جگہ آج کے انڈسٹریل شہر جبیل میں آتا ہے ۔ کیونکہ اس خطے کے وہ لوگ جنہوں نے اسلام آنے کے بعد مدینہ کا سفر کیا وہ قیس قبیلہ تھا ، جس وقت وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تھے تو جمعہ کی فرضیت ائی تھی یہی قبیلہ عبد القیس کا قبیلہ تھا جنہوں نے سلام قبول کیا الحساء میں آکر پھر “مسجد جواتا” کی بنیاد رکھی تھی، (اس مسجد جواتا پر میں نے کئی مضامین لکھے ہیں یہ آسان کی دوسری مسجد ہے، جس میں نماز جمعہ کی فرضیت کے بعد نماز پڑھیں گئی تھی )۔
یہی عبدالقیس قبیلہ، جو دوسری یا تیسری صدی عیسوی میں بحرین کے علاقے میں آباد ہوا تھا، اور اس کے آباد ہونے کے بعد، بقیہ سامی قوموں اور مشرقی جزیرہ نما عرب کے قدیم آبادیوں، جیسے کلدین کے ساتھ اتحاد اور باہمی شادیاں کیں تھیں۔ نباطین، ازد، تنوخ، بکر بن وائل، اور دیگر، اور یہی فوجیں ان کے ساتھ منسلک ہوئیں تھیں، پھر اس قبیلے نے اپنے آباء کے نام سے عبد القیس کا لقب اختیار کیا تھا، اس میں بحرین کے علاقے کے اکثر لوگ شامل رہے، خاص طور پر شادیوں اور قبائلی معاہدوں کے بعد، عبدالقیس کے ساتھ ان لوگوں کی قبائلی رہائشیں جمع ہوگئی تھی۔ عبدالقیس قبیلے کے بحرین ریجن کے تین علاقے معروف رہے تھے۔
الاحساء نخلستان اور اس کا آس پاس کے علاقے
قطیف نخلستان اور اس کے قریب کے صحرائی علاقے
جزیرہ تاروت اور اس کا قریبی علاقے
اسلام کی قبولیت کے کچھ عرصے بعد، عبدالقیس قبیلہ، ان کے حلیف، اور ان کے سسرال والوں نے شیعہ عقیدے کو قبول کر لیا تھا اور اس کی طرف جھکاؤ کر لیا، اور وہ مشرقی جزیرہ نما عرب میں نمودار ہونے والے شیعہ مذہب کے پہلے حقیقی بیج تھے۔ لیکن الخطیفیہ اور عبد القیس قبیلہ کا قدیم مذہب عیسائیت تھا اور نیسٹورین کرسچن چرچ انہوں نے ہی تعمیر کیا تھا اسلام سے پہلے عبدالقیس قبیلہ نسطوری عقیدہ کے عیسائی تھے۔ اور اسلام قبول کرنے کے بعد بلکہ عبدالقیس قبیلہ شیعہ ہو گیا یہ قبیلہ آج بھی الحساء میں موجود ہے۔
بحرین کے علاقوں میں بھی عبدالقیس قبیلہ ہے، جو شیعہ ہیں اور الاحساء، قطیف اور بحرین کے شیعوں کی ایک بڑی تعداد کی نمائندگی کرتے ہیں، خواہ ان کی وابستگی تھوڑی بہت الگ الگ ہو۔
علاؤہ ازیں عمان کے علاقے میں بھی عبدالقیس قبائل سے وابسطہ لوگ موجود ہیں، جو عبادی ہیں، اور ان کی اکثریت عمان کے ازد کے ساتھ اتحاد کے طور پر شامل ہوئی، جس طرح بحرین کے ازد نے عبدالقیس قبائل کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ ماضی قدیم میں جن مورخین میں سے جنہوں نے بتایا کہ عبدالقیس نے بحرین (مشرقی عرب) کے علاقے میں شیعہ مذہب اختیار کیا۔ ان میں مؤرخ ابن قتیبہ ہیں، جن کا انتقال 276 ھجری میں ہوا تھا ان کی کتاب (المعارف) کے صفحہ 339 میں یہ ریفرنس موجود ہے کہ “عبدالقیس شیعہ تھا”
یہ نسطوری چرچ جو جبیل شہر کے صحرا ے مغرب میں ہے اسے کئی قدیم کتب میں قطیف کے قدیم دیہات اور انہیں مقامات کی نسبت سے ہی منسوب کیا جاتا تھا کیونکہ جبیل شہر تو جدید شہر ہے وہیں بس اس کی باقیات اب موجود ہیں، لیکن یہ چرچ خاصی حد تک معدوم ہو چکا ہے۔ جبیل شہر کیونکہ اب ایک جدید شہر ہے اور اس کی بنیاد تو ریاست سعودی عرب بننے کے بعد اور خصوصا سعودی عرب کے مشرق میں تیل کی دریافت کے بعد رکھی گئی تھی۔ یہ چوتھی صدی عیسوی میں کسی گمشدہ گاؤں یا کسی دیہات کے کھنڈرات پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس چرچ میں ان بھی صلیب کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ نسطوری چرچ تھا اور عبدالقیس قبیلہ ہی اس کی دیکھ بھال وغیرہ کرتا تھا لیکن چونکہ انہوں نے بعد میں مذہب کی تبدیلی کر لی تھی تو یہ چرچ غیر اباد ہوتا گیا اور بالاخر مٹی میں مل گیا۔ شاید یہ خبر پاکستانیوں کے لیے ایک نئی خبر ہوگی۔


