تاریخ صرف ایک موقف سامنے لاتی ہے/قاسم یعقوب

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔۔ جی بالکل تاریخ واقعی سکھاتی ہے۔ تاریخ کو اگر استاد کہا جاءے تو زیادہ مناسب ہوگا۔مگر تاریخ کبھی معصوم نہیں ہوتی، یہ صرف وہی سکھاتی ہے جسے یہ سکھانا چاہ رہی ہو۔ تاریخ ان بیانیوں کو پیش کرتی ہے جو تاریخ میں زندہ رکھے جاتے ہیں ۔ تاریخ ان موقفوں کو غائب کر دیتی ہے جن کو فروغ حاصل نہ ہو سکا ہو۔آج کا زمانہ ایک نئی طرز کی ہسٹوریوگرافی کا زمانہ ہے۔اب کسی ایک موقف کو حتمی نہیں سمجھا جاتا۔۔ کسی ایک بیانیہ کو سچ سمجھ کے باقی سب کچھ غلط نہیں کہا جاتا۔
تاریخ ہمیں صرف ایک موقف دیتی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ کون سا موقف درست ہے یا غلط۔ …ہو سکتا ہے وہی موقف درست ہو جو تاریخ ہمیں بتاتی آ رہی ہے مگر یہاں بات ہو رہی ہے کہ دو بیانیے یا موقف کبھی ایک ساتھ تاریخ میں موجود نہیں ہوتے۔ اگر کبھی دو موقف موجود بھی رہے ہوں تو بلاخر ایک موقف جیت جاتا ہے یا پہلا ، دوسرے موقف کو معطل کر دیتا ہے۔
کچھ مثالیں لیجیے: اکبر نے دینِ اکبری بنایا۔۔ کیا واقعی جلال الدین اکبر نے دینِ اکبری بنایا تھا؟ جی اکبر سامنے آئے اور ذرا بتاے کہ فلاں آپ کے بارے میں یہ کہہ رہا ہے؟ اکبر کہاں ہے؟ تاریخ اکبر کو کبھی سامنے نہیں لاے گی۔ کیوں کہ تاریخ نے دینِ اکبری کا بیانیہ منظور کر لیا ہے اور قبول کروا لیا ہے۔۔اسی طرح شخصی کی بجاے اجتماعی موقف بھی رائج ہو جاتے ہیں۔۔” عجمی اور عربیوں کی ازلی دشمنی چلی آ رہی ہے۔۔” عربیوں عجمیوں کو اُس وقت معلوم ہو نہ ہو مگر اب یہ بیانیہ خود دونوں نے قبول کر لیا ہے۔۔
حسین اور یزید کے سیاسی اور اخلاقی بیانیے میں بھی، یزید صدیوں سے خاموش ہے۔ بلکہ حسین خود خاموش ہے۔ مگر بیانیہ رائج ہے۔ اسی طرح دانش کی تاریخ میں ہمیں صرف یہ بتایا گیا کہ یونانیوں نے دانش کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے ، اس کے ساتھ اور ہزاروں اذہان کی خاموش شراکت کا کسی کو علم نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ دانش صرف یونیوں نے شروع کی۔ ہزاروں خطوں کی ہزار سمتی دانش کدھر ہے؟ تاریخ اسے معطل کر چکی ہے۔
اب ہسٹوریوگرافی کسی ایک موقف کو قبول نہیں کرواتی نلکہ تاریخ کی مختلف آوازوں کو ایک ساتھ پیش کرنے پر زور دیتی ہے۔۔ یا اُن خاموش آوازوں کو بھی سامنے لایا جاے جسے غالب آوازوں ، بیانیوں یا موقفوں نے دبا دیا، معطل کر دیا یا باطل قرار دے کر تاریخ کے صفحات سے ہٹا دیا۔
یہ معطل ہونے، ہٹنے یا دبنے کا عمل اتنا آسان نہیں۔ طاقت فیصٓلے کرواتی ہے، طاقت جبر کے ذریعے ایک کی جگہ دوسرے کو سامنے لاتی ہے۔
یاد رہے کہ اس تحریر میں، میرا مقصد کسی ایک موقف کو درست یا غلط کہنا نہیں بلکہ کسی ایک موقف کی اجارہ داری اور دوسرے موقفوں ، بیانیوں یا نظریات کی معطلی، گمشدگی یا غیر متعلق ہونے کی وجوہات دریافت کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں