پاکستان-افغانستان تعلقات: کشیدہ ماضی اور پیچیدہ حال/سید حسیب شاہ

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد سے کشیدہ رہے ہیں۔ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی آزادی کے فوراً بعد اس کی اقوام متحدہ میں شمولیت کی مخالفت کی تھی، جس کی بنیادی وجہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ تھا۔
1973 میں ظاهر شاہ کی حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد سردار محمد داؤد خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان حکمرانوں کی پاکستان کے پشتون علاقوں پختون خوا،سابقہ قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کے پشتون علاقوں پہ حق ملکیت کے دعوے اور وہاں علیحدگی پسندی کی تحریک کو شہ دینے نے دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی پیدا کر دی۔
کابل حکومت کا سردار داود کے اقتدار کے دوران پاکستان کی حکومت پہ افغان مذہبی رہنماؤں کی حمایت اور سرپرستی کا الزام رہا ہے جیسا ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں گلبدین حکمت یار، برہان الدین ربانی، پروفیسر سیاف اور یونس خالص کا بھٹو حکومت کی دعوت پہ حکومت پاکستان کے مہمان کی حیثیت سے امد _ اس کے برعکس پاکستان نے داؤد خان کی حکومت کی پختون خوا اور قبائلی علاقوں میں قوم پرست تحریکوں کی مدد اور حمایت کی پالیسی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا_
1977 میں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے برطرف کر دیا۔ اس کے ایک سال بعد اپریل 1978 میں سردار محمد داؤد خان کو ثور انقلاب کے دوران اقتدار سے ہٹا کے قتل کر دیا گیا۔ یہ انقلاب نور محمد ترہ کی کی قیادت میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان نے برپا کیا تھا۔ ان واقعات نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو ایک نئے اور زیادہ نازک موڑ پہ لا کھڑا کر دیا_
1979 میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے خلق دھڑے کے حفیظ اللہ امین اپنے ہی دھڑے کے نور محمد ترکئ کو اقتدار سے ہٹا کے خود صدر بنے لیکن سوویت مداخلت کے دوران وہ بھی قتل کر دئیے گئے _دسمبر 1979 میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پرچم دھڑے کے سویت حمایت یافتہ ببرک کارمل افغانستان کے صدر بنے _
ببرک کارمل کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔ بہت سے افغان مجاہدین رہنما پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے اور انہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہوگئ ،جو اس وقت امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں سوویت اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا چاہتی تھی۔ یہ صورتحال خاص طور پر سرد جنگ کے تناظر میں اہم تھی، کیونکہ امریکہ ویتنام جنگ میں اپنی شکست کے بعد خطے میں سوویت پیش قدمی کو روکنا چاہتا تھا۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی شمولیت نے اس تنازعے کو مزید شدت دی اور اسے گھمبیر بنا دیا۔
پاکستان کے اس وقت کے فوجی صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر جواز حاصل کرنے کے لیے افغان جنگ میں امریکہ کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے پاکستان کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ پاکستان میں مجاہدین کے تربیتی کیمپوں کا قیام اور ان کی سرگرمیوں کے لیے پاکستانی سرزمین کا استعمال دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بنا_جنرل ضیاء الحق نے افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت کو سوویت یونین کی خطے کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کے توسیع پسندانہ عزائم کو جواز قرار دیا، جو ان کی نظر میں پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔ اس لیے ان کی حکومت نے افغانستان میں مداخلت کو سوویت توسیع پسندی کے خلاف ایک دفاعی اقدام قرار دیا۔
سوویت یونین کے اصل مقاصد اور امریکہ کی حمایت کی حد سے قطع نظر، دونوں سپر پاورز کے درمیان اس پراکسی جنگ نے پاکستان اور افغانستان دونوں کو شدید سیاسی اور سماجی نقصان پہنچایا۔ افغانستان وسیع پیمانے پر تباہی کا شکار ہوا جبکہ پاکستان ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔ تقریباً تین ملین افغان مہاجرین کی پاکستان آمد نے اس کی معیشت، سلامتی اور آبادی کے ڈھانچے پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔
طالبان کے پانچ سالہ دورِ حکومت (1996–2001) کو چھوڑ کر، دونوں ممالک کے تعلقات عموماً ایک دوسرے پر مخالف عناصر کی سرپرستی کے الزامات تک محدود رہے ہیں۔
2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی اور مالی امداد کے ساتھ ساتھ تعمیرِ نو اور بحالی کے منصوبوں میں تعاون کیا۔ تاہم اس وقت کی افغان حکومت میں شمالی اتحاد (Northern Alliance) کے نمایاں اثر و رسوخ نے اعتماد سازی کے عمل کو محدود کر دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی کو مشکل بنا دیا۔ شمالی اتحاد کو عموماً بھارت کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک تعلقات رکھنے والا سمجھا جاتا تھا، جس سے اسلام آباد کے خدشات میں اضافہ ہوا۔ یہی سیاسی صورتحال صدر اشرف غنی کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر بہتر بنانے سے روکتی رہی۔
2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پیچیدہ رہے ہیں۔ اسلام آباد نے محتاط انداز میں طالبان حکومت کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کی ہے اور علاقائی استحکام کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم سرحد پار عسکریت پسندی، حکمرانی کے مسائل اور طالبان حکومت کی بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت جیسے عوامل دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
حال ہی میں پاکستان نے طالبان حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے جنگجوؤں کو افغان سرزمین پر پناہ دے رہی ہے، جو پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستان نے سرحد پار ان ٹھکانوں پر محدود فضائی حملے بھی کیے ہیں، جس سے پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ طالبان حکومت نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات اور تجارتی تعاون برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن سیکیورٹی خدشات، تاریخی تنازعات اور مختلف اسٹریٹجک مفادات اب بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو کشیدہ اور دیرپا اعتماد اور استحکام کے قیام کی کوششوں کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں _ https://humsub.com.pk/n/29776/2026/01/13/syed-hasib-shah/

اپنا تبصرہ لکھیں