چراغ سب کے بجھیں گے/اقتدار جاوید

نہ مغرب کی فضاؤں میں رہائشی پلازے نہ مغرب میں اولاد کو بسانے کے منصوبے اور نہ کسی بینک میں بے پناہ اثاثے۔یہ کیا آدمی تھا اور کون آدمی تھا۔
مجھ سے کوئی پوچھے کہ اصل مسلمان کی تعریف کیا ہے اور وہ کون ہے تو میں بلاتردد کہہ دوں علی خامنہ ای۔مسلمان وہ نہیں جو مسجدوں میں رنگا رنگ قالینوں کا ڈھیر لگا دے وہاں لائٹیں اور جھنڈیاں لگوانے کا انتظام کرتا پھرے اصل مسلمان تو وہ ہے جو عمل کا بندہ ہے۔بے عمل آدمی جتنی بار تسبیح کے دانوں کو اوپر نیچے کرتا پھرے اور بے عمل ہو کسی مسلمان بھائی کے دکھ سکھ میں شریک نہ ہو اس کی دستگیری نہ کر سکتا ہو اس طرح کی عبادت تو قیامت والے دن اس کے مونہہ پر ماری جائے گی۔
آج کرہ ارض پر ترپن مسلمان ممالک ہیں جن کی آبادی دو ارب سے بھی زیادہ ہے مگر ہر ملک ذاتی مفاد کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔دنیا میں جہاں جہاں مسلم ممالک پر ظلم ہو رہے ہیں ترپن کے ترپن ملک اس کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔غزہ کی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔ سارے مسلم ممالک اسرائیل کی افواج کی جانب سے نسل کشی کو رکوانے کا کوئی بندوبست نہ کر سکے بلکہ بعض تو ایسے تھے اور ہیں جو اب بھی فلسطینیوں کے جذبہ آزادی کو ہی حرام سمجھتے ہیں۔دیکھتے دیکھتے ستر ہزار لوگ اس جبر کا شکار ہوئے۔پچاس گیدڑ نما ممالک میں ایک نر کا بچہ ایران تھا جس نے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا اپنے لیے فخر جانا۔ایران نے مظلوم فلسطنیوں کے لیے نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ ان کی ہر ممکن مدد بھی کی۔
ایران اور ایران کی قیادت میں کیا ایسی خوبی تھی جس کی وجہ سے اس کا دل امہ مسلمہ کے لیے دھڑکتا تھا۔ یہ آیت اللہ خمینی کی تربیت کا نتیجہ تھا۔اسی تربیت نے مغرب زدہ ایران میں سے ایسی قیادت کو جنم دیا جو قرون اولٰی کے مسلمانوں سے تھے۔انہی میں ایک آیت اللہ خامنہ ای تھے جو دو روز پہلے اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر مشترکہ حملوں میں جاں کی بازی ہار گئے۔
آیت اللہ خمینائی ایک غریب مزدور کے بیٹے تھے اور ایک کمرے کے مکان میں رہتے تھے۔اسی غربت نے انہیں انقلاب کی طرف مائل کیا۔وہ رفتہ رفتہ اسلامی انقلاب کی روح بن گئے۔مسلمانوں کے لیے ان کا دل ہمیشہ دھڑکتا تھا۔اسلامی انقلاب کے بعد وہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے متوالے کشمیریوں کا ساتھ دینے اور ان کا دست و بازو بننے کے لیے تشریف لے گئے تھے۔
جناب خمینائی نے1986 میں پاکستان کا تین دن کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا۔انقلاب کے بعد وہ عرب ممالک جو اسرائیل کے خلاف یک جان ہو کر لڑتے تھے ان کے شکست خوردہ رویوں کو دیکھ کر اسرائیل دشمنی اور اس کو نیست و ںابود کرنے کے جذبے کا مرکز تہران ہوتا چلا گیا۔ایران کی اس قیادت کا سب سے بڑا وصف خودداری اور کسی طاغوتی طاقت کے سامنے سر نہ جھکانا تھا۔اصل میں ایران کی طاقت بھی اسرائیل دشمنی سے حاصل ہوتی تھی۔
آیت اللہ خمینائی ایک روشن خیال اور مفکر ادیب بھی تھے۔انہیں شعر کا بھی ذوق تھا اور انہوں نے سوانح عمری سیل نمبر چودہ بھی تحریر کی۔اس کا اردو ترجمہ زنداں سے پرے رنگ چمن کے نام سے ہوا۔یہ سوانح بتاتی ہے کہ ان کے اندر پہلی چنگاری کب بھڑکی اور وہ کس طرح انقلاب کی روح کو سمجھتے سمجھتے خود انقلاب بن گئے۔
اس وقت جب تمام مسلم ممالک کونے کھدروں میں چھپ رہے ہیں وہ طاغوتی طاقتوں کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
ایران پر ایسی ایسی پابندیاں لگیں کہ اس کو اپنا دفاعی ڈھانچہ کھڑا کرنے سے معذور کر دیا جائے۔اندورنی سازشوں کے بھی جال بنے گئے ان کی سرکردہ قیادت کو ہلاک کیا گیا۔مگر انہوں نے جو لائن اختیار کی ہوئی ہے ایرانی قیادت نے اس ایک انچ بھی پیچھا ہٹنے کا مظاہرہ نہیں کیا۔جس مومن کی فراست سے ڈرایا گیا یقینا وہ فراست تمام ایرانی قیادت اور بالخصوص جناب خامنہ ای کی شخصیت کا خاصہ بن گئی تھی۔ان کے سامنے قران کی وہی آیت رہی جس میں کہا گیا کہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
خامنہ ای شہید ہی صرف اسرائیل کے لیے ایک خطرہ کی علامت تھے۔اس وقت مسلم امہ جس بے عملی کا نمونہ ہے خامنہ ای نے اس کا کفارہ شہادت کی صورت میں ادا کیا ہے۔وہ لوگ جو انہیں محض شیعہ کہہ کر ان کی اہمیت کو کم کرنا چاہتے ہیں سراسر غلط ہیں۔اس وقت اگر کسی ملک نے عین اسلامی روح کے مطابق اپنے دشمن کو للکارا ہے وہ یہی ایران ہے اور خامنہ ای ہے اور ان کی تیار کردہ کھیپ ہے۔ان کا شہادت امت مسلمہ کا ایسا نقصان ہے جس کو برداشت کرنا ایک مشکل امر ہے۔
وہ جو ہم سنتے آ رہے تھے کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی ہزار درجے بہتر ہے۔وہ امت مسلمہ کا شیر یہی بوڑھا شہید تھا۔اس کے اندرونی طور ملک کو استحکام بخشا اور مختلف ذرائع سے اسرائیل کو گھیرے میں لیے رکھا۔ایران کی قیادت ختم تو ہو سکتی ہے مگر جو ایمانی قوت اس قیادت کے اندر ہے اس کو کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ شہید نفیس ذوق کے مالک تھے۔شعر کہتے تھے اقبال کے عاشق تھے۔ایک سکہ بند ادیب کے طور ان کی سوانح عمری زنداں سے پرے رنگ چمن پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اس کتاب کے ابواب کے نام اپنے اندر عجیب کشش رکھتے ہیں جیسے دجلہ کے کنارے، پرانا قالین اور انقلاب کا آتش فشاں۔یہ عنوان عجیب قسم کا سحر لیے ہوئے ہیں۔وہ خود فرائیڈ رسل ٹالسٹائے اور وکٹر ہیوگو کے قاری تھے۔ایسا رہنما اسلامی دنیا کو نصیب ہوا مگر افسوس امت مسلمہ نے اس کی قدر نہیں کی اور طاغوتی طاقتوں کا آلہ کار بننے بن کر فقط اپنی جان ںچانے کی تگ و دو کرتی رہی۔
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

اپنا تبصرہ لکھیں