مقاصد اور اقدار/ندا اسحاق

اکثر افراد کو اس مسئلہ کا سامنا رہتا ہے کہ ان کے مقاصد تو کافی بڑے اور اعلیٰ ہوتے ہیں لیکن ان میں مقاصد کو حاصل کرنے کی موٹیویشن اور عمل پیرا ہونے کے لیے توانائی نہیں ہوتی۔ وہ چاہتے تو ہیں کہ اس ایک خاص مقصد کو حاصل کرلیں، البتہ ان سے اس پر مستقل مزاجی سے کام نہیں کیا جاتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیونکر ہوتا ہے؟؟ اور اس مسئلے کا حل کیسے تلاشنا ہے؟؟

مقصد اور اقدار کا فرق جان لیجیے پہلے — مقاصد وہ ہوتے ہیں جن کی پیمائش کی جاسکتی ہے اور کسی منصوبہ کے تحت انہیں فتح کیا جاسکتا ہے، البتہ اقدار کا تعلق آپ کے اندر کی دنیا سے ہے، آپ کے رویے اور فیصلے دونوں اقدار کے قابو میں ہوتے ہیں۔ اقدار اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ کے لیے کیا اہم ہے، مثال کے طور آپ کا مقصد ہے وزن کم کرنا، اس گول کی پیمائش ممکن ہے اور حکمتِ عملی کے ذریعے حاصل بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن آپ شاید کچھ دن تو بیرونی محرکات (extrinsic motivation) کے تحت کام کرکے جم چلے جائیں یا ڈائیٹ کرلیں (سوشل میڈیا پوسٹ یا واٹس ایپ اسٹیٹس اچھی البتہ وقتی موٹیویشن دیتا ہے)، لیکن زیادہ عرصہ ”مستقل مزاجی“ سے یہ سب چل نہیں سکے گا۔ وزن کم کرنا محض ایک مقصد ہے لیکن اس انسان کے اقدار دراصل کیا ہیں وہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ وزن گھٹانے کا مقصد حاصل ہوسکے گا یا نہیں اور کتنا عرصہ یہ نیا طرزِ زندگی برقرار رہے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں؟؟

یہاں تک کی معلومات تو یقیناً سب کو ہیں۔ لیکن اگر میں اپنے نفسیات دان والے موڈ میں آؤں تو میری نظر میں مندرجہ بالا معلومات بہت سطحی ہیں، اور ہمیں مقاصد اور خواہشات کی گہرائی میں جانا چاہیے۔

سب سے پہلا سوال جو کہ میری نظر میں ضروری ہے وہ یہ نہیں ہے کہ اس انسان کا مقصد (جو کہ وزن گھٹانا ہے) کیا ہے ، بلکہ زیادہ ضروری یہ جاننا ہے کہ آخر وزن زیادہ کیوں ہے؟ کیونکہ وزن کم کرنا ”آئیڈیل سیلف“ (ideal self) ہے البتہ وزن کا زیادہ ہونا ”ریئل سیلف“ (real self) ہے، اور ان دونوں کے درمیان فرق انسان میں اضطراب (anxiety) کو جنم دیتا ہے، یہ تھیوری مشہور سائیکوانالسٹ کیرن ہورنے کی پیش کردہ ہے۔ تو ہمیں ”آئیڈیل سیلف“ کو نہیں بلکہ ”حقیقی سیلف“ کو سمجھنا ہے کہ وہ کیوں موٹاپے کا شکار ہے، کیا وجوہات ہیں؟ اسے وزن کیوں کم کرنا ہے؟ وزن کم کرنے سے اسکی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ اسکا ماحول اور اسکی موجودہ حقیقت کیا ہے؟ وہ کس قسم کے گھرانے میں رہا اور بچپن کیسا گزرا؟؟ اس انسان کے اقدار کی جانجھ پڑتال ضروری ہے کہ اس کے رویے اور فیصلے کن جذبات، احساسات، تجربات کے زیرِاثر ہیں۔

مندرجہ بالا سوالات ہمیں کسی بھی انسان کے متعلق گہرائی میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

کیونکہ فرض کریں کہ اگر وزن اس لیے کم کرنا ہے کہ ”کم خود-توقیری“ (low self-esteem ) وجہ ہے تو پھر اس مقصد کا حصول مشکل ہوگا اور اگر فرض کریں کہ یہ مقصد حاصل ہو بھی جائے کہ وہ انسان کسی نہ کسی طرح سے وزن گھٹا لے، تو بھی اس کی زندگی اور ذاتی تصور (self-image) میں کوئی نمایاں مثبت فرق نہیں آئے گا، جتنا ناخوش اور اضطراب میں وہ انسان وزن کم کرنے سے پہلے تھا، اتنا ہی یا دیگر معاملات میں اس سے بھی زیادہ ناخوش اور اضطراب میں رہنے لگے گا۔ کیونکہ اس نے اپنی نفسیات کے جڑ میں جاکر اپنی ”کم خود-توقیری“ کو سمجھنے اور شفایاب ہونے کی بجائے باہر موجود حالات یا علامات کو قابو میں کرنا چاہا۔

انسان کے اقدار اس کے گھر، جنیات، ثقافت اور معاشرے سے اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگر آپ نے بہت عرصہ کسی ایسے گھرانے میں گزارا ہے جہاں عدم تحفظ کی صورتِ حال، غربت، والدین کی جانب سے نظر اندازی، لڑائی جھگڑے، غیر مستقل مزاج پرورش تھی تو آپ کی شناخت، بنیادی اقدار، خود-تصور (self-concept) میں سب کچھ سرائیت کرچکا ہوتا ہے۔ آپ مقاصد چاہیں کچھ بھی بنالیں لیکن جب اقدار ہی مقاصد سے میل نہیں کھاتے تو ان مقاصد کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

اور اگر بہت انتھک محنت سے آپ مقاصد کو حاصل کربھی لیں تو بھی ان کے حصول کے بعد بہت ممکن ہے کہ آپ کی ذہنی کیفیت اور خود-تصور (self-concept ) میں کوئی خاص بدلاؤ نہ آئے۔ اور کچھ عرصے میں وہ مقصد بے معنی اور بیکار لگنے لگے، یا اس مقصد کو لمبا عرصہ مستقل مزاجی کے ساتھ لے کر چلنا ناممکن سا لگنے لگے (جیسا کہ وزن گھٹانا شاید ممکن ہوجائے لیکن ساری زندگی اس آئیڈیل وزن کو ”برقرار“ رکھنا ناممکن ہو)۔ ایسے لوگوں کی تعداد کم ہے جو خود پر جبر کرکے اپنے مقاصد کو حاصل تو کرلیتے ہیں (جبر سے مقاصد کو حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے) لیکن مقاصد کو حاصل کرنے کے باوجود بھی وہ پہلے جیسا یا پھر عموماً اس سے بھی برا محسوس کرنے لگتے ہیں۔

اس لیے سب سے پہلے خود سے پوچھیے کہ آپ نے جو مقصد اپنے لیے چنا ہے وہ کیونکر آپ کے ذہن میں آیا؟

اس مقصد کو پورا کرنے پر کن نتائج کی امید آپ کررہے ہیں؟

اس مقصد کو پورا کرکے آپ کے خیال میں آپ کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟

کیا آپ کا عمل (action) آپ کے مقاصد کی سمت میں ہے یا پھر اس سے بلکل مختلف سمت میں؟

مثال کے طور پر آپ کو سی-ایس-ایس کا ٹیسٹ پاس کرنا ہے (اس آرٹیکل کو لکھنے کی درخواست ایک طالبعلم نے کی ہے جو سی-ایس-ایس کی تیاری کررہا ہے) جس کے لیے آپ کو مستقل مزاجی اور حکمتِ عملی (اور سب سے بڑھ کر اس امتحان کے مضامین میں دلچسپی) کی ضرورت ہے لیکن آپ خود کو سارا دن سوشل میڈیا یا پھر دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتا پاتے ہیں یا پھر سی-ایس-ایس کے مضامین سے ہٹ کر کتابیں پڑھتے ہوئے وقت گزاری ہوتی ہے تو بہت ممکن ہے کہ آپ کے اقدار آپ کے گول سے میل نہیں کھاتے، دونوں میں واضح فرق یا گیپ پایا جاتا ہے۔

آپ بہت ممکن ہے کہ خوبصورت دکھنے کی خواہش کے لیے وزن گھٹانا چاہتے ہیں یا معاشرے میں عزت، طاقت، پیسہ یا پھر مستقل نوکری کے حصول کے لیے سی-ایس-ایس کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر تو آپ کے اقدار اور نفسیاتی ساخت (psychological configuration ) آپ کے مقاصد کو سپورٹ نہیں کرتے تو انہیں حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اگر کسی کو زیادہ اضطراب کا سامنا ہے تو وہ جب بھی سی-ایس-ایس کی تیاری کے لیے بیٹھے گا تو اسکو ٹیسٹ پاس نہ ہونے اور غیر یقینی کی صورتِ حال گھیرے میں لے سکتی ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے فوکس کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ تو یہاں اضطراب کو کم کرنا اور اس پر کام کرنا ضروری ہے (جسکا تعلق یقیناً نفسیات سے ہے)، نہ کہ کسی مصنوعی موٹیویشن کو حاصل کرنا!!

ایک اور اہم پوائنٹ یہ بھی ہے کہ اگر سی-ایس-ایس کے ٹیسٹ کو پاس کرنے کے فائدے بیشک نمایاں اور قابلِ توجہ ہوں لیکن اس امتحان کو پاس کرنے کی صلاحیت اور اس سے منسلک مضامین میں دلچسپی اس طرح سے نہیں جتنی ہونی چاہیے تو بھی اس مقصد کو حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ محض کسی امتحان کو پاس کرنے کی ”خواہش“ اس بات کا ثبوت نہیں ہے اسکی صلاحیت بھی آپ میں موجود ہے۔

بہت اہم ہوتا ہے اپنی حقیقت اور حدود کو سمجھنا، جاننا اور قبول کرنا۔ زیادہ تر لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی سمجھتے ہیں کہ وہ بھی کسی بھی میدان کو فتح کرلیں گے (تم سب کرسکتے ہو اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، آپ سب نہیں کرسکتے) لیکن ایسا نہیں ہوتا، ہر انسان کی نفسیات، شخصیت، ماحول اور تجربات منفرد ہوتے ہیں۔ آپ کو اپنی انفرادیت، حقیقت اور حدود کا حقیقت پسندانہ ہوکر جائزہ لینا ہوگا۔ جب بھی کوئی مقصد جنم لے یا خواہش جاگے تو خود سے پوچھیں کہ کیوں جنم لیا اس مقصد یا خواہش نے؟ اور کیا میں اسے حاصل کرنے یا پورا کرنے کی استطاعت یا حیثیت رکھتا ہوں۔
انسان بہت پیچیدہ ہوتے ہیں اور اس پیچیدگی کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اسی لیے زیادہ تر لوگ اندھا دھند گولز بناتے ہیں اور جب انہیں حاصل نہیں کرپاتے تو ان میں ہمیشہ کے لیے ”ناکامی کا احساس“ گھر کرجاتا ہے۔

ہر وقت خود کو ایک ”لائف کوچ“ کی طرح نہیں بلکہ ایک ”نفسیات دان“ کی طرح بھی جانچنا اور پرکھنا سیکھیں۔ نفسیات دان کی طرح سوچنا مطلب یہی کہ ”خود سے تلخ اور پیچیدہ سوالات پوچھنے کا ہنر سیکھنا“۔

اور جہاں تک مستقل مزاجی کی بات ہے تو اسکو سمجھنے میں ہمارے یہاں لوگ غلطی کرجاتے ہیں۔

جیسے باہر کی دنیا میں ہر وقت تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں ویسے ہی ہمارے اندر موجود دنیا میں بھی مختلف قسم کی تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ آپ کوئی روبوٹ نہیں ہیں جو بنا کچھ محسوس کیے روز ایک کام کرتے جائیں گے۔ آپ کے اندر جذبات اور احساسات بستے ہیں، اور اکثر باہر کی دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلی ہمارے اندر جذبات اور احساسات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کچھ دن زندگی میں ایسے آتے ہیں جب آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ بےمعنی ہے البتہ اگر آپ ان دنوں میں خود کو مشین نہ سمجھتے ہوئے خود پر ہلکا ہاتھ رکھیں گے تو جذبات واپس نارمل ہوجائیں گے اور آپ پھر سے دلچسپی لینے لگیں گے۔

تھوڑی سی بے آرامی (discomfort) زندگی کا حصہ ہے، اس کے ساتھ جینا سیکھنا بہت ضروری ہوتا ہے، جیسے ہی آپ اس بے آرامی کو اسکا چکر (cycle) مکمل کرنے دیتے ہیں وہ تھوڑے ٹائم میں نارمل ہوجاتی ہے لیکن جب بھی آپ نیچر کے اس چکر کو مکمل نہیں ہونے دیں گے اور اس سے بھاگیں گے تو بے آرامی بڑھتی جائے گی۔

مستقل مزاجی کا تعلق بچپن سے بھی ہوتا ہے، اگر کسی انسان کو جذبات کو پراسس کرنا نہیں آتا تو وہ مستقل مزاج نہیں ہوسکے گا، جس دن ہمارے جذبات یا موڈ منفی ہو اس دن بھی اپنے کام کو بیشک سرسری طور پر ہی سہی لیکن انجام دینا انسان کو تسلسل سے کام کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ آپ روز پوری توانائی سے کام نہیں کرسکتے، کچھ دن برے ہوسکتے ہیں، اور ان برے دنوں میں خود سے ساتھ اچھے سے پیش آنا ضروری ہے۔

مقاصد/گولز کو حاصل کرنے کے لیے محض موٹیویشن نہیں بلکہ نفسیات کی بھی ضرورت پڑتی ہے، اسپورٹس سائیکالوجسٹ (sports psychologist) کھلاڑیوں کو بہتر کارکردگی حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں نہ کہ ”موٹیویشنل اسپیکرز“۔

آپ سب کے پاس منطق یا علم کی کمی نہیں، مسئلہ یہاں لاشعور ذہن، جذبات اور احساسات کا ہے، جو جسم کو جکڑ لیتے ہیں، ”اقدار“ آپ کے لاشعور میں ہوتے ہیں اور لاشعور ہی آپ کی زندگی کی گاڑی کو چلا رہا ہوتا ہے۔

اگلی بار جب بھی کوئی گول بنائیں تو اپنی شخصیت، حالات اور نفسیات کا گہرائی میں جائزہ لینا نہ بھولیں۔

یہ ٹاپک بہت پیچیدہ ہے، اس پر اگر بات کریں تو کئی عوامل ذہن میں آتے ہیں، البتہ چند باتوں کا ذکر اس آرٹیکل میں ہوا ہے۔

(ان میں سے کئی باتیں ان لوگوں پر اپلائی نہیں ہوتیں جنہیں کمپلیکس ٹروما (cptsd) ہے۔ )

اپنا تبصرہ لکھیں