آدھی ادھورہ تحریر/محمد کوکب جمیل ہاشمی

لکھنے لکھانے کا تعلق میلان طبع اور ارادے سے ہوتا ہے۔کوئی کتنا بڑا لکھاری کیوں نہ ہو، کبھی کچھ لکھنے کی طرف طبیعت مائل نہ ہو، طبیعت کی خرابی ہو اور تھکن زائل نہ ہو، ارادہ بھی نیم دروں نیم بروں ہو، تو اسکا قلم اڑیل ٹٹو کی طرح ساکت و جامد ہو جاتا ہے۔ قلم کو ایڑ لگائیں یا ایڑی چوٹی کا زور، ایک آدھ سطر لکھنے کے بعد ذہن کرنے لگتا ہے شور، طبیعت ہونے لگتی ہے بور۔ اگر صبح کو لکھنا شروع کیا ہو، تو آدھا دن گزر جاتا ہے، لیکن کاغذ رہا کورا کا کورا۔ تھوڑا بہت لکھا، اور دل نہ لگا، آدھا صفحہ پھاڑا، پھر لکھا پھر پھاڑا، یہاں تک کہ بھر گیا آدھا بورا۔ بالآآخر آدھے دن کے لئے قلم چھوڑ ہڑتال شروع کردی۔

جی چاھا کچن میں جاکر دیکھیں کیا پک رھا ہے؟

بیگم نے کہا، کچھ غصہ آرھا ہے اور کچھ لاوہ پک رھا ہے۔
بیگم کا غصہ بجا تھا، دوپہر کا ایک بجا تھا اور لکھاری پہ نا جانے کیا دھن سوار تھی۔ ابھی تک سودا سلف لاکر نہ دیا۔ لکھاری کی عمر آدھی گزر جاۓ تو سوچ اور فکر میں مبتلا رہنے والوں کی یاد داشت آدھی رہ جاتی ہے۔ سودا لانے کے لئے رٹا نہیں لگایا تھا تو سبق یاد نہ رہا سو بھول گئے۔ کھسیانے ہو کر بیگم سے پو چھا کیا پکایا ہے؟ بیگم نے جل کر کہا آدھا تیتر آدھا بٹیر۔ صاحب تحریر نے ہنڈیا میں جھانکا تو دیکھا تو ادھا گوشت گردن کا تھا، اور آدھا سینے کا۔ مگر ایسا لگا جیسے گردن کا گوشت گلا نہ تھا۔۔
بیگم نے کہا گوشت ابھی ادھ گلا ہے۔ گیس چلی گئی تھی۔ خیر آدھے گھنٹے بعد کھانا لگا دیا گیا۔ نیم آمادگی سے کھانے بیٹھے، مگر آدھی روٹی سے ذیادہ کھا نہ سکے۔ روٹی بھی آدھی کچی آدھی پکی تھی۔ بیگم اگرچہ خوش خوراک تھیں، وہ بھی آدھا نوالہ ہی کھا سکی۔ پتا ہے کیوں؟ سالن میں غلطی سے آدھے کی بجاۓ پورا ایک چمچہ مرچوں کا ڈل گیا تھا۔ ایسی مرچیں لگیں، جیسے کسی نے زخموں پہ نمک چھڑک دیا ہو۔
پرانے زمانے کی بات ہے جب سب کچھ سستا ملتا تھا۔ تب اٹھنی، چونی اور ادھنے کے سکے ہوا کرتے تھے۔ ادھنے دو آنے کو کہتے تھے۔ ادھنے کی پاؤ دہی آتی تھی۔ گھر میں آدھا پاؤ گوشت آتا تھا۔ برکت کا زمانہ تھا، سارا نہیں تو آدھا گھر پیٹ بھر کر کھاتا تھا۔ باقی آدھا گھر دہی میں شکر ڈال کر، روٹی کھا کرگزارا کرتا تھا۔ سادگی بہت تھی، گھر میں کھانے پینے کی کوئی چیز آتی تھی تو اس میں سے محترم خود کچھ نہ کھاتے اور دونوں بچوں میں آدھی آدھی تقسیم کردیتے تھے۔ والدین کی یہی قربانی ہوتی تھی جس کی وجہ سے انکی صحت آدھی رہ جاتی ہے۔ ایک دفعہ لکھاری صاحب نے کئی لوگوں کے ساتھ دس دس روپے والی ایک کمیٹی ڈالی۔ لکھاری کے آدھے پیسے تھے ا ور چاچا کے آدھے۔ کل سو روپے کی کمیٹی نکلی۔ دونوں نے سلوک سے پچاس پچاس روپے، آدھے آدھے بانٹ لئے۔ فی زمانہ تو کوئی ایک آدھ ہی ملے گا جو انصاف سے آدھ اودھ کرکے دوسرے کو اسکی رقم دے دے۔ اب تو یہ حال ہے کہ رقم کا مطالبہ کیا جائے تو رقم دینے کی بجاۓ مار مار کر ادھ موا کر دیا جاتا ہے۔ انصاف بھی آدھا ملتا ہے۔ وہ بھی ‘آدھی رات’ کو۔ آجکل کے لوگوں کا بھی اسمیں قصور ہے۔ کیونکہ وہ آدھا سچ بولتے ہیں۔ بیچارے نثر لکھنے والے کی پریشانیاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ علاج کے باوجود انکے آدھے سر کا درد ٹھیک نہیں ہوتا۔ وہ ڈاکٹر کو اپنی داستان غم سنآۓ بھی تو وہ آدھی بات سنتے ہیں، باقی آدھی، سنی ان سنی کر کے کہہ دیتے ہیں کہ بظاہر مسئلہ ٹینشن اور بیچینی کا ہے بیماری کا نہیں۔ بات تو کچھ کچھ دل کو لگتی ہے، لیکن شائد یہ بھی آدھا سچ ہے۔اب ڈاکٹر صاحب سے کیسےکہیں کہ پلیز آدھی فیس واپس کر دیں کیونکہ وہ آدھے سر کے درد کا علاج کر رہے ہیں پورے کا نہیں۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وہ مریض سے نصف فیس وصول کریں۔
مہنگائی کے اس مشکل دور میں لکھے پڑھے لوگوں کو لکھت پڑھت کے کام کا جو قلیل مشاہرہ ملتا ہے اس میں ایک علیل کی دوا نہیں آتی۔ پہلی تاریخ پر جو تنخواہ ملتی ہے وہ آدھی ادھار اتارنے میں خرچ ہو جاتی ہے، کیونکہ قرض دینے والے پہلی سے پہلے ہی وصولی کے لئے ادھار کھاۓ بیٹھے ہوتے ہیں۔ گھر میں آنے والی آدھی تنخواہ آنسو پونچھنے کے لئے ٹشو پیپرز پہ خرچ ہو جاتی ہے۔ دیکھنے میں لگتا ہے کہ قرطاس و قلم کے یہ مزدور دور پرے سے کام پہ آتے ہیں۔ لیکن انکو کسی کام یا تفریح آرام کے لئے چھٹی نہیں ملتی۔ اس سے بہتر ہے کہ وہ دوبارہ اسکول میں داخلہ لے لیں۔ وہاں کم از کم آدھی چھٹی تو ھوتی ہے۔ اسکو تفریح recess بھی کہتے ہیں۔

اور بس اسی آدھی چھٹی اور تفریح کو غنیمت جانتے ہوۓ ادیب کی آدھی ادھوری تحریر ختم ہو جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں