کتاب کی عمر کتنی ہے؟(1)-قاسم یعقوب

آپ کو شاید حیرانی ہو بائبل، گلگامش، فزکس میٹافزکس(ارسطو)، اوڈیسی (ہومر)، ایلیڈ، اشٹادھیائی(پاننی)، مہابھارت، رگ وید وغیرہ نام کی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ یہ سب جدید دور یعنی کاغذ کی ایجاد کے بعد کی جمع آوری ہے۔
کتاب؟ یعنی صفحوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کے تحریر کو پیش کرنا۔
کتاب کا تصور بہت جدید ہے۔ اگر انسان کی لاکھوں سال کی عمر لگائی جائے تو کتاب کی عمر ایک ڈیڑھ ہزار سال سے زیادہ نہیں بنتی۔ یاد رہے ،یہاں کتاب کہا جا رہا ہے، تحریر نہیں۔ عموماً ہم کتاب اور تحریر کو ایک سمجھ کے اب تک کتاب کو قدیم انسانی تاریخ کا حصہ سمجھتے آئے ہیں۔ ویسے بھی جب جدید شکل اس قدر حاوی ہو جائے تو اس کا جواز قدیم ازمنہ سے جوڑ لیا جاتا ہے۔
کتاب کا جدید تصور جو کوڈیکس شکل میں ہے ایسا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ یعنی کسی ایک موضوع یا مختلف موضوعات پر جمع شدہ تحریروں کو صفحے کے اوپر صفحہ جوڑ کے باندھا جائے اور کتاب بنائی جائے۔پہلے بہت مختصر تحریریں ہوتی تھیں، جن کا بنیادی مقصد محفوظ کرنا تھا۔ تحریر کو’’ اشاعت‘‘ کی غرض سے نہں لکھا جاتا تھا کہ لوگ اسے پڑھیں گے اور جگہ جگہ پہنچے گی۔(لکھنے والا صفحہ یعنی پاپائرس ، چمڑا یا ویلم، یا مٹی کی تختی یا درخت کی چھال کا پراسس کوئی آسان عمل نہیں تھا۔، اس کے ماہر کم کم موجود تھے) اپنی بات کو پڑھوانے کا بنیادی کام زبانی روایت سے جڑا تھا۔ یعنی سینہ بہ سینہ ہی ایک بات دوسروں تک منتقل ہوتی۔برصغیر میں مہابھارت، ویدیں، پاننی کی اشٹادھیائی ، یا یونان میں ارسطو افلاطون کی کتابیں ، گلگامش، الیڈ اوڈیسی وغیرہ سب زبانی اور سینہ بہ سینہ تحریریں تھیں جنھیں بعد میں لکھا گیا۔ انھی تحریروں کی تشریح کرکے بہت بعد میں پھر کتابیں لکھی گئیں۔ تحریر کا بنیادی مقصد دوسروں کو پڑھوانا کیوں نہیں تھا؟ اس کے جواب سے پہلے کاغذ کی ایجاد سے پہلے تحریر کا زمانہ دیکھنا ضروری ہے۔
کاغذ کی ایجاد سے پہلے چار طریقوں سے زیادہ تر تحریر کو محفوظ کیا جاتا تھا:
چمڑا
پاپائرس
درختوں کی چھال
اور مٹی کی تختیاں
یہ تمام چیزیں بہت مشکل سے میسر آتیں۔ بلکہ ان کو طاقت ور (شاہی خاندان) اور اس کو بنانے کے فن کے ماہر افراد ہی اپنی دسترس میں رکھتے۔ آپ ذرا خود سوچئیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ جانوروں کی کھالوں سے ویلم یا چمڑے کو خشک کرکے اس پہ تحریریں لکھی جائیں؟ یا پاپائرس جیسی مشکل ایجاد پر لکھا جائے اور اُسے اشاعت کی غرض سے اتنی ہی تعداد میں پیدا کرکے جگہ جگہ بھیج دیا جائے؟ درختوں کی چھالوں۔، جانوروں کے کھالوں اور مٹی کی تختیوں کو تحریر کے قابل بنانا کوئی آسان عمل تھا؟ چناں یہ لکھنے کا یہ سارا عمل چند افراد کی دسترس تک محدود تھا۔ تحریر کوئی ’’آسودہ‘‘ عمل نہیں۔ چند لائنیں، خیال کا کچھ حصہ ہی لکھا جاتا اور اسے محفوظ کرنے کے لیے جمع کیا جاتا۔عموماً یہ مذہبی اشکوک ہوتے، اقوال ہوتے، یا کسی بڑے آدمی کی اہم باتیں ہوتیں یا پھر شاہی فرمان یا معاہدے وغیرہ ہی ہوتے۔ لمبی تحریریں یا کتابی تھیسس ممکن ہی نہیں تھا۔ کاغذ کی ایجاد دوسری صدی عیسویں کی ہے ۔ پتا نہیں اب یہ بات درست ہے کہ نہیں۔ کاغذ کی ایجاد کا سہرا چین کے ایک شاہی اہلکار سائی لون کے سر کو دیا جاتا ہے۔ ایک لمبے عرصے تک کاغذ چین کی سرحدوں کے اندر محفوظ رہا۔ پھر کاغذ چین سے کب نکلا اور کب باقی دنیا نے کاغذ جیسی نئی ایجاد کو استعمال کیا؟ اس حوالے سے طویل کہانی ملتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ، 751ء میں وسطی ایشیا کے مقام تلاس پر چینی اور عباسیوں افواج کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی جس میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں بہت سے چینی فوجی قیدی بنا لیے گئے، جن میں کاغذ سازی کے ماہر کاریگر بھی شامل تھے۔ ان قیدیوں نے اپنی آزادی کے بدلے مسلمانوں کو کاغذ بنانے کا وہ قدیم اور خفیہ نسخہ سکھا دیا۔ اس طرح یہ علم چین کی سرحدوں سے نکل کر پہلی بار اسلامی دنیا میں داخل ہوا اور سمرقند میں کاغذ بنانے کا پہلا باقاعدہ کارخانہ قائم کیا گیا، جس نے آگے چل کر پوری دنیا میں علم کی اشاعت کا نقشہ بدل دیا۔ یہ واقعہ بھی اٹھویں صدی کا ہے یعنی اسلامی خلافت کے ادوار کو گزرے بھی تین سو سال گزر چکے تھے۔

آٹھویں صدی سے پہلے کاغذی کتاب کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ ۔۔۔ جتنی بھی کتابیں قبل از مسیح ادوار کی آج کل دکھائی دیتی ہیں، سب بعد میں لکھی گئی ۔ لہٰذا یہ تشریحیں ہیں، یادداشتیں ہیں یا گھڑی ہوئی روایات ہیں۔ انسانی تاریخ بہت ظالم ہے جو بہت طاقت سے ڈسکورس بنا دیتی ہے۔ ارسطو، افلاطون کی کوئی تحریر اُس دور کی موجود نہیں۔ یہ سب تحریریں بعد میں لکھی گئی۔ ان کا سورس صرف یاد داشت ہے۔ ارسطو یا افلاطون نے کوئی کتاب نہیں لکھی۔ بلکہ سینہ بہ سینہ چلتی زبانی روایت کو بعد میں ضبطِ تحریر میں لایا گیا۔مزے والی بات یہ کہ قبل از مسیح کی زیادہ تر دریافتیں پوری تحریریں بھی نہیں ہیں۔ آثارِ قدیمہ سے جو کچھ ملتا ہے وہ اکثر پاپائرس کے جلے ہوئے ٹکڑے، مٹی کی تختیوں کے کرچی کرچی حصے یا چمڑے کے وہ نمونے ہوتے ہیں جن پر صرف چند الفاظ ہی باقی بچتے ہیں۔ارسطو یا افلاطون کے دور کا کوئی بھی “مکمل” نسخہ آج دنیا میں موجود نہیں ہے۔ جو کچھ ہے، وہ بعد کے دور کے کاتبوں کی نقل در نقل ہے۔ اب ذرا دیکھ لیجئے۔ ہم کیسے افلاطون افلاطون، ارسطو ارسطو کرتے نہیں تھکتے۔۔
گلگامش کی کہانی تو سراسر دھوکہ ہے۔اور تو اور گلگامش جس زبان میں ہے وہ سومری ہے، جو ہزاروں سال پہلے مر چکی تھی۔ اس کے رسم الخط کو سمجھنے کے لیے جولغت بنائی گئی ہے، وہ بھی آثارِ قدیمہ سے ملنے والی دیگر تختیوں پر مبنی ہے۔ ۔۔۔یہ مممکن ہے کہ ایک لفظ کا مطلب کچھ اور ہو، لیکن جدید ماہرین اسے اپنے موجودہ مذہبی یا ثقافتی تصورات کے تحت کوئی اور معنی دے دیے۔۔

قدیم دور میں کتاب یعنی کسی تحریر کا کوڈیکس شکل میں ہونے کا کوئی تصور موجود نہیں۔ مگر ہم فلاں کی کتاب، فلاں کی کتاب کا نام لیتے نہیں تھکتے۔۔
اس پہ ذرا تفصیل سے بات کی جائے گی ۔
(یہ گفتگو دوستوں میں عرصے سے جاری تھی جسے تحریر میں لایا گیا ہے)
(جاری ہے)

اپنا تبصرہ لکھیں