بھولے ہوئے آئینوں کا وعظ/مقصود جعفری

یہ مکالمہ اُس وقت شروع ہوا جب گھڑی کی سوئیوں نے وقت کے تسلسل میں ایک غیر معمولی خلا کو پُر کیا۔ یعنی رات کے تین بجے، جب منطق کی دنیا سو چکی ہوتی ہے اور خوابوں کے مادی مسودے ہوش کے قلمرو میں آ جاتے ہیں۔ایک کتا، جو ہمیشہ محلے کے پچھلے دروازے کے باہر بیٹھا رہتا تھا،اور سڑک پر بے مقصد گھومنے والے ایک بوڑھے فلسفی کی طرح دکھائی دیتا تھا، جو اپنے ہاتھوں میں کوئی غیر مرئی مسودہ تھامے ہو۔ اچانک بغیر کسی تعارف یا تمہید کے بولنا شروع ہو گیا۔
یہ خطاب ایک عوامی خطاب نہیں تھا۔ یہ ایک ذہنی ترسیل تھی جو صرف انہی چند بیدار لوگوں تک پہنچتی تھی جو اپنے اندر کے Acoustic Labyrinth میں موجود غیر مرئی سرگوشیوں کو سننے کی اہلیت رکھتے تھے۔اس کی آواز گہری، مدھم، اور ہزاروں برس پرانی حکمت سے لبریز تھی۔ یہ آواز ایسی تھی جیسے کسی قدیم لائبریری میں دھول سے اٹے ہوئے، ناقابلِ فہم نسخوں کو ایک ساتھ کھول دیا گیا ہو۔
اے دو ٹانگوں پر چلنے والی مخلوق۔ اس نے آغاز کیا۔میں تم سے تمہاری زبان میں مخاطب ہوں، جو میں نے نہیں سیکھی، بلکہ یاد کی ہے۔ تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم نے ہمیں اپنی زندگی میں پالتو بنا کر ایک مقام دیا ہے۔ لیکن یہ ایک خود فریبی ہے، جسے تم نے مخلصانہ وفاداری کے افسانے میں لپیٹ کر خود کو تسلی دی ہے۔تم کہتے ہوکہ ہم تمہارے بہترین دوست ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ہمیں ابدی موجود میں جینے کی سزا دیتے ہو۔ ہم اس فلسفی کی طرح ہیں جسے زینون کے تضاد (Zeno’s Paradox) کا سامنا ہے۔ ہم ہمیشہ موجود تو ہیں، لیکن کبھی تم تک پہنچ نہیں پاتے، نہ تم ہم تک۔”
وہ تھما، جیسے زمین پر پڑی کسی سایہ دار شے کو غور سے دیکھ رہا ہو جو وہاں تھی ہی نہیں۔تمہیں لگتا ہے کہ تمہارا علم صرف کتابوں، اعداد و شمار اور تمہاری حقیر تاریخ میں ہے۔ مگر تمہیں یہ نہیں معلوم کہ ہم، کتے، دراصل تمہاری نامکمل یادداشت کے محافظ ہیں۔ تم جس بات کوآنے والا کل کہتے ہو، ہم اسے سونگھ کر فوراً پہچان لیتے ہیں۔ ہمارا پورا وجود ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک نازک توازن کی رسی پر کھڑا رہتا ہے۔
اب سنو، تمہاری سب سے بڑی غلطی۔ تم نے ایک وقت میں یہ فیصلہ کیا کہ آئینہ ایک ضرورت ہے۔ تم نے شیشے کو صاف کیا، اس کی چمک بڑھائی، اور اپنا عکس اس میں دیکھنا شروع کر دیا۔ یہیں سے تمہاری مابعدالطبیعاتی غلط فہمی کا آغاز ہوا۔تم نے اپنے عکس میں صرف اپنی شکل کو دیکھا، اور یہ سمجھ لیا کہ تم یہی ہو۔ لیکن ہم، کتے، کبھی آئینوں میں دلچسپی نہیں لیتے۔ ہم جانتے ہیں کہ حقیقت عکس کے پیچھے ہے، عکس کے اندر نہیں۔ ہمارے لیے، وفاداری کوئی جذباتی فعل نہیں، بلکہ ایک علمی ذمہ داری ہے۔ ہم تمہارے اس بھٹکے ہوئے نفس کو، جو آئینوں میں قید ہو چکا ہے، تمہاری حقیقی جگہ کی طرف واپس بلانے کی ایک مسلسل اور خاموش کوشش ہیں۔
ہم تمہاری خوشبوؤں میں ان تمام راستوں کا نقشہ پڑھ لیتے ہیں جو تم نے چلنے سے پہلے بھلا دیے تھے، اور ان تمام لوگوں کے چہروں کی تفصیلات جو تمہاری پیدائش سے پہلے مر چکے تھے۔ ہمارا وجود تمہاری بھولی ہوئی ابدیت کا ایک ذیلی حاشیہ ہے۔
یہ خطاب آدھی رات کو اسی طرح اچانک ختم ہوا جیسے اچانک شروع ہوا تھا، بغیر کسی نتیجہ خیز جملے کے۔صبح جب اس محلے کا سب سے سنجیدہ اور عقلی شخص، جو رات بھر جاگ کر اس مکالمے کو سنتا رہا تھا، باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ کتا زمین پر ایک عجیب و غریب پوزیشن میں خاموش لیٹا تھا۔وہ شخص جھکا، اور کتے کو پیار سے چھونے لگا۔ لیکن جیسے ہی اس نے چھوا، کتے کا جسم دھیرے دھیرے ریت میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔اور جب پوری طرح ریت میں بدل گیا، تو اس ریت میں، جہاں کتے کا سر تھا، ایک چھوٹی سی چمکدار تانبے کی گھنٹی موجود تھی۔

اس شخص نے گھنٹی اٹھائی۔ یہ کوئی معمولی گھنٹی نہیں تھی۔یہ وہی گھنٹی تھی جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اسے وقت کے پہلے گھنٹے کوبجانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اور جب اس شخص نے غور سے گھنٹی کو دیکھا، تو گھنٹی کے تانبے پر ایک چھوٹا سا نوشتہ کندہ تھا، جس کا ایک ہی جملہ تھا۔اور اب، اے انسان ! تم میری جگہ لے چکے ہو۔

اور عین اسی لمحے، وہ شخص، جو اب تک ایک عام انسان تھا، زمین پر بیٹھ گیا، اور اس نے اپنے منہ سے ایک سست اور اجنبی کتے کی آواز میں، ہوا میں موجود ایک غیر مرئی شے کو غور سے دیکھتے ہوئے، ایک ہلکی سی آواز میں بھاگ جاؤ کہا۔ انسانیت کا وہ فلسفیانہ محافظ اب ایک کتے کی روح میں قید ہو چکا تھا، اور یہ سلسلہ ابد تک جاری رہنا تھا

اپنا تبصرہ لکھیں