تاریخ اور فکشن کے امتیازی رنگ دکھانے والے اشفاق بخاری نقاد،محقق ، کالم نگار ، فکشن نگارکے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا ادبی معرکہ ان کی چھے تصانیف پر مشتمل ’’لائل پور کہانی‘‘ ہے۔ اشفاق بخاری فیصل آباد شہر کے معروف علمی مرکز جی سی یونیورسٹی (گورنمنٹ کالج ) سے وابستہ رہے اور اسی کالج سے ریٹائرہوئے۔ یہ وہی کالج ہے جہاں سے ناصر عباس نیر ، طاہرہ اقبال، محمود رضا سید، شاہد اشرف، سعید احمد، شبیر قادری ، قاسم یعقوب،بطور طالب علم وابستہ رہے۔ شہزادہ حسن، احسن زیدی،رشید گوریجہ، انور محمود خالد، ریاض مجید ، جیسے اساتذہ بھی اسی ادارے سے منسلک رہے۔ آج کل طارق ہاشمی، عبد العزیز ملک ، سعید احمد، رابعہ سرفراز، ماجد مشتاق، پروین کلو اس ادارے میں علمی و ادبی چراغ جلائے ہوئے ہیں۔
اشفاق بخاری غیر معمولی آدمی تھے ۔ وہ حد درجہ مختلف ادیب اور نقاد تھے۔ ان کی تحریروں میں ان کا اپنا تجزیہ اور زاویہ نگاہ حاوی رہتا۔ انھوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے لیے اسّی کی دہائی میں حس عسکری کا انتخاب کیا مگر دل کی بیماری کے ہاتھوں وہ اسے مکمل نہ کر پائے۔ وہ اپنی سوچ اور زاویہ فکر کے حوالے سے بہت ’پکے ترقی پسند ‘تھے۔ ان کی ترقی پسندی نے انھیں شہر میں اکیلے رکھا، اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے اردگرد’ تقدیسی ادب‘ کے نام لیوا زیادہ تھے، اس لیے وہ اپنی ترقی پسندی کو اپنی تحریروں میں احتیاط اور سلیقے سے پیش کرتے رہے۔ میں بطور طالب علم ان کے بہت قریب رہا۔ ایک وقت تھا کہ میں روزانہ کی بنیاد پر ان کے پاس بیٹھتا اور ان کی تحریری دلچسپیوں کو دیکھتا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے بیٹے کے آفس میں بیٹھنے لگے تھے۔ جہاں وہ اسی روٹین کی طرح روزانہ آتے جس طرح وہ جی سی یونیورسٹی کے لیے تیار ہوتے۔ میں اور زاہد امروز اکثر ان سے ملنے اسی افس میں جاتے ۔
اشفاق بخاری کا خمیر فکشن کی شعریات سے مزین تھا۔ وہ اس قدر اعلیٰ فکشن لکھ سکتے تھے کہ شاید وہ اہم ناول دینے میں کامیاب ہو جاتے مگر انھوں نے اپنے فکشن نگار کو لائل پور کہانی میں غرق رکھا۔ وہ اپنی زندگی کے تقریبا ًپچیس سال لائل پور کہانی کے خد وخال سنوارنے میں مصروف تھے۔
لائل پور کہانی کیا ہے؟
اصل میں یہ لائل پور کی افسانوی تاریخ ہے۔ جس میں تہذیب، کردار، سماج، واقعات، قصے اور جمالیاتی تجربات سب آپس میں گندھ گئے ہیں۔ شہر کی تاریخ، تہذیب، گلی کوچوں اور تخلیقی افراد کے احوال کو خشک دستاویزی حقائق کے بجائے فکشن کے سحر انگیز اسلوب میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ یہ اردو میں یقیناً اپنی طرز کا سب سے منفرد اور پہلا کام تھا۔عالمی ادبیات میں اس طرح کی کہانیاں ملتی ہیں۔جیسے پیٹر ایکروئڈ کی London: The Biographyہے، جس میں انھوں نے لندن کو کسی بادشاہ کی تاریخ کے بجائے ایک جیتا جاگتا نامیاتی وجودبنا کر پیش کیا اور اس کی گلیوں، بواور عام لوگوں کی نفسیا ت کو فکشن نگار کی مہارت سے یکجا کیا۔ ایک اور اورخان پاموک کی Istanbul: Memories and the City ہے، جو شہر کی سوانح اور خود مصنف کی آپ بیتی کا ایک ایسا خوبصورت امتزاج ہے جہاں استنبول کی عمارات اور اس کا مخصوص کلچر ایک اداس فکشنل کردار کی طرح ابھرتا ہے۔ اگر خالص تخلیقی اور خیالی فکشن کی بات کی جائے تو اٹالو کالوینو کی Invisible Citiesایک کلاسک مثال ہے، جہاں مارکو پولو کے تخیلاتی شہروں کے ذریعے انسانی یادداشتوں، کلچر اور جذبوں کی ایسی بانی کی گئی ہے جو کسی بھی شہر نگار کے لیے تخلیقی تحریک کا سب سے بڑا سرچشمہ بن سکتی ہے۔
اشفاق بخاری نے بیٹرس ویب اور سڈنی ویب کی انڈین ڈائری سے بھی بہت فائدہ اٹھایا یا استفادہ کیا ہے۔
اشفاق بخاری کی اس تاریخی سیریز کا برطانوی سفرنامہ نگار جوڑا سڈنی ویب اور بیٹرس ویب کی کتابThe Indian Diary کے ساتھ گہرا تعلق دراصل بنیادی ماخذ اور سورس کا ہے کیوں کہ ویب جوڑے نے 1911ء اور 1912ء کے دوران لائل پور کا دورہ کر کے یہاں کے انفراسٹرکچر، آٹھ بازاروں کے نقشے، غلہ منڈی، نہری نظام اور چناب کلب کے نوآبادیاتی ماحول کو اپنی ڈائری میں بہت باریک بینی سے قلمبند کیا تھا جسے اشفاق بخاری نے اپنے مخصوص افسانوی اسلوب میں ڈھال کر شہر کی تمدنی اساس کا حصہ بنایا۔
(یہ کتاب اس لنک پر ویب سائٹ پر موجود ہے، قارئین اسے باآسانی دیکھ سکتے ہیں:
https://archive.org/details/bwb_T2-EIH-895)
لائل پور کہانی میں سفر نامہ، فکشن، تاریخ، کردار نگاری، تحقیق، انشا پردازی اور خاکہ نگاری جیسی اصناف اور ادبی فنون مل گئے ہیں۔
1۔لائل پور کہانی، چناب کلب(پہلا ایڈیشن نومبر ۲۰۰۰ء اور دوسرا مارچ ۲۰۰۳ء میں شائع ہوا)
2۔ لائل پور کہانی،چناب کلب (تاریخ و تمدن کلب، ۲۰۰۸ء)
3۔لائل پور کہانی، حلقہ اربابِ ذوق لائل پور۔ مختصر تاریخ۔۲۰۰۶ء
4۔لائل پور کہانی، ریگل چوک لائل پور۔۲۰۰۷ء
5۔لائل پور کہانی، فیض احمد فیض۔ چند نئی دریافتیں (۲۰۱۰ء)
6۔ دخترِ وزیر، ناول (ترجمہ)سوانح فیض احمد فیض کا ایک باب، ۲۰۱۴ء (بعد از وفات)
اس خوبصورت فکشن آمیز تاریخی سلسلے کے چھے والیمزشائع ہو چکے ہیں۔تحقیق سے پتا چلے گا کہ بخاری صاحب ان کے بعد کیا کیا منصوبہ رکھتے تھے اور کتنا کام ابھی ہو چکا تھا۔اس سلسلے کی پہلی کتاب “لائل پور کہانی (جلد اوّل: چناب کلب – ابتدائی دور)” نومبر 2000ء میں منظرِ عام پر آئی جس میں مصنف نے سڈنی اور بیٹرس ویب کے تاریخی مشاہدات کو بنیاد بنا کر چناب کلب کی اساس، انگریز افسران کی سرگرمیاں اور لائل پور کی نوآبادیاتی بنت کو فکشن کے رنگ میں پیش کیا ہے، جس کے بعد دوسری کتاب “لائل پور کہانی ، مارچ 2003ء میں شائع ہوئی جس میں گھنٹہ گھر کے گرد بچھے آٹھ بازاروں کی تجارتی، سماجی اور ثقافتی تاریخ اور رہن سہن کو موضوع بنایا گیا ہے، جو اس خطے کے قدیم جغرافیے یعنی ساندل بار کے خانہ بدوشوں سے لے کر جدید صنعتی شہر بننے تک کے ارتقائی سفر اور معاشی تبدیلیوں کا احاطہ کرتی ہے، تیسری کتاب حلقہ ارباب ذوق کی ادبی تاریخ بیان کرتی ہے۔ یہ محض حلقے کی تارئیخ نہیں بلکہ ادب ، تنقید ، تخلیقی سرگرمیوں کا حسین مرقع ہے، جس میں خاکہ نگاری، اور کرداروں کا ایک جہان آباد ہے۔ چوتھی کتاب’’لائل پور کہانی: ریگل چوک‘‘ اگست 2007ء میں شائع ہوئی جس میں مصنف نے ریگل چوک کو ایک مرکزی علامت بنا کر وہاں کی جیتے جاگتے کرداروں، پبلک لائف، چائے خانوں کی رونقوں اور کچہری بازار کی فکری و سیاسی تحریکوں کا نقشہ کھینچا ہے،جس میں مضافاتی قصبات، ڈیروں، لوک رنگ اور مٹی کی خوشبو کو محفوظ کیا گیا ہے۔ اسی کتاب میں نصرت فتح علی خان پر اس قدر مبسوط اور حسین خاکہ شاید ہی کسی نے لکھا ہو۔ ریگل چوک کوایک ناول کہا جائے تو شاید زیادہ مناسب ہوگا۔میں نے نقاط کے ابتدائی شماروں میں ریگل چوک کی کچھ اقساط شائع کی تھیں۔اس سلسلے یعنی لائل پور کہانی کی پانچویں اور اہم ترین منفرد دستاویز’’فیض احمد فیض: چند نئی دریافتیں‘‘مارچ 2012ء میں شائع ہوئی جو مطالعہ فیضیات میں ایک اچھوتا اور انقلابی باب ثابت ہوئی کیوں کہ یہ کتاب پہلی بار فیض احمد فیض کے خاندان اور ان کی ذات کا لائل پور کی دھرتی سے ایک گہرا اور جاندار تاریخی تعلق دریافت کرتی ہے جس میں گورنمنٹ کالج لائل پور میں فیض کے بھائی کی موجودگی، لائل پور ڈسٹرکٹ جیل میں ایلس فیض کی بیٹیوں سمیت آمد اور فیض کے “جہانِ اسیری کے پہلے دور” کی ایسی نادر و نایاب تفصیلات، انٹرویوز اور تصاویر شامل ہیں جو روایتی سوانح عمریوں سے ہٹ کر اس شہر کو فیض کی فکری و تخلیقی زندگی کے ایک اہم مرکز کے طور پر انتہائی جاندار انداز میں ثابت کرتی ہیں۔
آخری کتاب جو ان کی زندگی کئے بعد سانجھ لاہور سے شائع ہوئی ’’دُخترِ وزیر‘‘ ہے یہ liliaz Hamilton کا ناول A Vazier’s Daughter کا اردو روپ ہے۔ اسے یہ خاص نسبت حاصل ہے کہ اس میں خاندان فیض کا حوالہ ہے۔اشفاق بخاری نے دیباچے میںاس کی وضاحت کی ہے۔جس کی کچھ کڑیاں لائل پور سے جا ملتی ہیں۔
’’لائل پور کہانی‘‘ کیا ہے،اشفاق بخاری خود لکھا ہے:
’’یہ ۱۹۹۷ء کے دسمبر کے قدرے زیادہ اداس دن تھے کہ مجھے جراحتِ دل کے بعد سے زیادہ وقت گھر پر گزارنا پڑ رہا تھا تاکہ زخم بھر جائیں۔ اپنے پی ایچ ڈی (محمد حسن عسکری حیات و فن) کے طاقِ نسیاں پر دھرے کام کی جھاڑ پونچھ کرتا رہتا۔ کوئی نئی راہ نکالنے کے لیے پہروں سوچتا۔ عسکری صاحب کی الجھی ہوئی شخصیت نے اور بھی الجھاؤ پیدا کر دیے تھے۔ پھر اچانک یونہی کسی نے تیز سرسراہٹ میں سرگوشی کے انداز میں لائل پور کی کہانیوں کی کتاب کھولنے کو کہا ہو۔ میں نے جونہی ابوابِ رفتہ وا کیے جھلمل کرتا شہر اور کہانیاں ہی کہانیاں تھیں۔‘‘
سو دوستو، یہ ایک شہر کی کہانیاں ہیں، قصے ہیں، تاریخی حقائق ہیں، یادیں ہیں، بڑے فن کاروں کے ؤواقعات ہیں۔ پورے پورے خاکے ہیں۔ حال سے ماضی کا طویل سفر ہے۔ اس میں گھس جائیے اور پھر ماضی سے حال تک آنے کا راستہ بھول جائیے۔ اشفاق بخاری نے خود کہا ہے کہ وہ اسے گوندنی والا تکیہ سمجھتے ہیں۔ ماضی میں جانا اور وہیں گھومتے رہنا محض فکشن نہیں ہوتا۔ تاریخ، تہذیب اور کرداروں کی عجیب دنیا سے گزر بن جاتا ہے۔ جاگتے خواب کا نظارہ ہو جاتا ہے۔
(یہاں ’دی انڈین ڈائری‘ اور دیگر تاریخی کتب سے مماثلت کی معلومات دیتے ہوئے شرجیل بخاری کی اشفاق بخاری پر تحریر سے استفادہ کیا گیا ہے)


