کیا ہمارے ادبی بابے کہانی گیر تھے ؟-عبدالستار

باتوں کا ہار بنانے میں شاید ہی ہم سا کوئی ہو ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں باتوں کا منجن خوب بکتا ہے ، یہاں وہی کامیاب ہوتا ہے جو زیادہ چرب زبان ، باتوں کا گالڑ اور قصے کہانیوں کی زنبیل سے کبوتر نکالنے کا فن خوب جانتا ہو ، اشفاق احمد کو پڑھتے ہوئے اس حقیقت کا ادراک بخوبی ہونے لگتا ہے ، یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم ادب نہیں پڑھ رہے بلکہ کسی ناصح کی نصیحتیں پڑھ رہے ہیں ، یہی معاملہ شہاب نامہ کے ساتھ ہے ، یوں لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے شخص کو پڑھ رہے ہیں جو اپنا بیوروکریٹک کیریئر انجوائے کرنے کے بعد درویش باصفا بن گیا ہو ، زندگی کی مکمل بہاریں دیکھ لینے کے بعد آخر میں حقیقی گیان نصیب ہوا ہو اور بس اب اسی کی گردان جاری ہو ۔
یہ تلقین بابے خیالی سی باتوں کے گرد لفظوں کا ایک ایسا تانا بانا سا بنتے ہیں کہ اوسط درجے کے قاری کے ذہن میں مصنف کے متعلق جو تصور و تاثر قائم ہوتا ہے وہ ایک ایسے بابے کا ہوتا ہے جس کے پاس حل المشکلات کی روحانی کنجی موجود ہوتی ہے اور ان کے پاس ایک ایسی گیدڑ سنگھی ہوتی ہے جو قسمت والوں کو ملتی ہے وغیرہ ۔
بانو قدسیہ ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی ، نسیم حجازی ، واصف علی واصف اور بابا یحییٰ نے کچھ اسی قسم کا ادب تخلیق کیا ہے کہ جس کی کوکھ سے تقلیدی و تعظیمی اذہان تو پیدا ہو سکتے ہیں لیکن تخلیقی یا چیلنج کرنے والے قطعاً نہیں ، بڑوں سے سن رکھا ہے کہ ان بابوں نے اپنی بیٹھکوں میں روحانی مرکز بھی قائم کر رکھے تھے جہاں نوجوان نسل کو تابع فرمان بننا سکھایا جاتا تھا ، سوال کی بجائے تسلیم ، تحقیق کی بجائے پیروی ، تنقید کی بجائے اطاعت اور تخلیق کی بجائے من و عن قبول کرنا سکھایا جاتا تھا ۔
ادب تو سماج کا حقیقی عکاس اور چہرہ ہوتا ہے ، معاشرے میں پائی جانے والی اونچ نیچ ، بدصورتی و خوبصورتی ، تفریق و تصادم کا تذکرہ ایک معیاری ادب میں ناگزیر ہوتا ہے ۔
حقیقی ادب تو سوچنا سکھاتا ہے ، سوالات کے انبار لگا دیتا ہے ، تنقیدی و تخلیقی صلاحیتوں پر گہری ضرب لگاتا ہے ، دوسری طرف ہمارے ہاں کے روحانی بابوں نے جو ادب تخلیق کیا ہے اس کے ثمرات ہم کچھ اس انداز میں ملاحظہ کر رہے ہیں کہ یہ دھرتی فکری و تخلیقی اعتبار سے بانجھ ہو چکی ہے ، ادبی میلوں میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے ، طلباء وطالبات کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ کس قسم کی کتابوں کو اپنے مطالعہ کا حصہ بنانا ہے اور کن سے دور رہنا ہے ، روایتی کتابیں دھڑا دھڑ بک رہی ہوتی ہیں جبکہ ایسی کتابیں جو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں وہ گرد میں اٹی کی اٹی رہ جاتی ہیں ۔
ظاہر ہے جس طرح کے لوگوں کو یہاں پروموٹ کیا گیا ہے انہی کو منظر نامہ پر سجا کر رکھا جاتا ہے ، ڈاکٹر مبارک علی ، پرویز ہودبھائی ، سید سبط حسن ، علی عباس جلالپوری ، علامہ نیاز فتح پوری اور ڈاکٹر مبارک حیدر کو یہاں کون پڑھتا ہے ، بہت سے تو ان کے ناموں سے ہی آشنا نہیں ہوں گے ، جب یہ حال ہے تو تخلیقی اذہان کہاں سے آئیں گے جناب ؟
اس طرح کی کتابیں تو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں ، سوال پر مجبور کرتی ہیں اور سب سے بڑھ کر سوچ کے زاویوں میں اضافہ کرتی ہیں ، جبکہ دوسری طرف جذباتیت ، تسلیم اور تلقین بابوں کے گرد حلقہ دست بوساں قائم کرنے کی حد تک کا معاملہ ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں