رے ڈالیو نے فارچون میں جو لکھا ہے وہ مضمون نہیں ہے۔ وہ پانچ سو سال کی تاریخ کا پوسٹ مارٹم رپورٹ ہے۔ اور پوسٹ مارٹم کا نتیجہ یہ ہے: مریض ابھی زندہ ہے لیکن علامات وہی ہیں جو موت سے پہلے ہر بار تھیں۔
ڈالیو کون ہے؟ پچاس سال عالمی مالیاتی منڈیوں میں شرطیں لگانے والا آدمی۔ نیویارک کے دو کمروں کے فلیٹ سے بریج واٹر ایسوسی ایٹس بنایا، دنیا کا سب سے بڑا ہیج فنڈ۔ ہارورڈ بزنس اسکول سے ایم بی اے۔ نیویارک ٹائمز بیسٹ سیلر کتابیں۔ دو دفعہ اس سے مل چکا ہوں اور ہر بار اس سے بہت کچھ سیکھا ہے. ڈالیو اب چھہتّر سال کی عمر میں لکھ رہا ہے:
“زیادہ تر لوگ حیران ہیں جو دنیا میں ہو رہا ہے۔ میں بالکل حیران نہیں ہوں۔ میں یہ فلم پہلے بھی دیکھ چکا ہوں۔”
ڈالیو کی فلم کا نام ہے “بگ سائیکل”۔ بڑا چکر۔ اس کا کہنا ہے کہ دنیا کے مالیاتی نظام، ملکی سیاسی نظام اور بین الاقوامی نظام، تینوں ابھرتے ہیں، بڑھتے ہیں، اور ٹوٹ جاتے ہیں۔ تقریباً پچھتر سال میں، تیس سال ادھر ادھر۔ اور یہ چکر پانچ سو سال سے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ ہر تہذیب میں۔ ہر سلطنت میں۔ ہالینڈ میں ہوا۔ برطانیہ میں ہوا۔ اب امریکہ میں ہو رہا ہے۔
ڈالیو نے اپنی کتاب “پرنسپلز فار ڈیلنگ ود دی چینجنگ ورلڈ آرڈر” میں اس بڑے چکر کو چھ مراحل میں بانٹا ہے۔ چھ قدم۔ پہلے قدم سے چھٹے قدم تک۔ عروج سے تباہی تک۔ اور ہر مرحلے میں تاریخ وہی کرتی ہے جو پہلے کر چکی ہے۔
ڈالیو کہتا ہے کہ بڑا چکر ہمیشہ کسی بڑی جنگ یا انقلاب کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جنگ ختم ہوتی ہے۔ فاتح طے کرتا ہے کہ نیا نظام کیسا ہو گا۔ نئی قیادت اقتدار مستحکم کرتی ہے۔ نیا مالیاتی نظام بنتا ہے۔ نئی کرنسی طے ہوتی ہے۔ نئے بین الاقوامی ادارے بنتے ہیں۔ نئے اتحاد قائم ہوتے ہیں۔
آخری بار یہ مرحلہ انیس سو پینتالیس میں آیا۔ دوسری جنگِ عظیم ختم ہوئی۔ امریکہ فاتح تھا۔ اس نے بریٹن ووڈز مالیاتی نظام بنایا۔ ڈالر کو عالمی ریزرو کرنسی بنایا۔ اقوامِ متحدہ بنایا۔ نیٹو بنایا۔ آئی ایم ایف بنایا۔ ورلڈ بینک بنایا۔ دنیا کے قواعد امریکہ نے لکھے۔
دوسرا مرحلہ ہے نظام سازی اور وسائل کی تقسیم جس کے تحت ادارے بنتے ہیں۔ بیوروکریسی قائم ہوتی ہے۔ وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار طے ہوتا ہے۔ تعلیم بہتر ہوتی ہے۔ انفراسٹرکچر بنتا ہے۔ قانون کی حکمرانی مضبوط ہوتی ہے۔ سرمایہ کاری بڑھتی ہے۔ لوگوں میں امید ہوتی ہے۔ معاشرے میں استحکام آتا ہے۔
امریکہ میں یہ مرحلہ پینتالیس سے ساٹھ کی دہائی تک رہا۔ مارشل پلان سے یورپ کی تعمیرِ نو۔ جی آئی بل سے لاکھوں سابق فوجیوں کو تعلیم اور مکان۔ درمیانے طبقے کا عروج۔ امریکی خواب اپنے عروج پر تھا۔
تیسرا مرحلہ: امن اور خوشحالی کا دور ہے. معیشت پھل پھول رہی ہوتی ہے۔ پیداوار بڑھ رہی ہوتی ہے۔ لوگ خوشحال ہوتے ہیں۔ قرض سستا ہوتا ہے۔ جدت آتی ہے۔ ملک دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے اور سب مانتے ہیں۔ کرنسی مضبوط ہوتی ہے۔ فوج طاقتور ہوتی ہے۔ ثقافت غالب ہوتی ہے۔
امریکہ میں یہ دور ساٹھ کی دہائی سے نوے کی دہائی تک رہا۔ سرد جنگ میں فتح۔ سوویت یونین کا خاتمہ۔ ٹیکنالوجی بوم۔ وال اسٹریٹ کا عروج۔ سلیکون ویلی۔ امریکی ڈالر دنیا کا بادشاہ۔ “تاریخ کا خاتمہ” کا اعلان ہو گیا۔ سب نے سوچا اب ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔
لیکن ڈالیو کہتا ہے کہ خوشحالی کے بیج میں ہی تباہی کا جرثومہ ہوتا ہے۔ اچھے وقت میں لوگ زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ زیادہ قرض لیتے ہیں۔ خطرات بھول جاتے ہیں۔ آخری بحران اتنا پرانا ہو جاتا ہے کہ اسے یاد رکھنے والے مر چکے ہوتے ہیں۔ اور یہیں سے چوتھا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔
چوتھا مرحلہ: ضرورت سے زیادہ خرچ، قرض، اور تفاوت کیونکہ خوشحالی کے دور میں خرچ بڑھتا ہے۔ قرض بڑھتا ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی ہے۔ حکومت وعدے کرتی ہے جو پورے نہیں ہوتے۔ پنشن، صحت، فلاح و بہبود، سب پر خرچ بڑھتا ہے۔ ٹیکس یا تو بڑھتا نہیں یا اتنا نہیں بڑھتا جتنا خرچ بڑھ رہا ہے۔ فرق قرض سے پورا ہوتا ہے۔ قرض بڑھتا رہتا ہے۔
اسی مرحلے میں بیوروکریسی بھاری ہو جاتی ہے۔ ادارے سست ہو جاتے ہیں۔ اصلاحات مشکل ہو جاتی ہیں۔ امیر اور طاقتور مل کر قواعد اپنے حق میں بناتے ہیں۔ عوام کو لگتا ہے نظام ان کے خلاف ہے۔ بے اعتمادی بڑھتی ہے۔
امریکہ میں یہ دور دو ہزار سے شروع ہوا۔ ڈاٹ کام بلبلہ پھوٹا۔ عراق جنگ۔ پھر دو ہزار آٹھ کا مالیاتی بحران۔ بینکوں کو بچایا گیا۔ عام آدمی کو نہیں بچایا گیا۔ قرض بڑھتا رہا۔ عدم مساوات بڑھتی رہی۔ درمیانہ طبقہ سکڑتا رہا۔
ڈالیو کہتا ہے کہ ہم اس وقت پانچویں مرحلے میں ہیں۔”
پانچویں مرحلے کی تین نشانیاں ہیں:
پہلی: حکومتی قرضے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور جغرافیائی سیاسی تنازعات بڑھ رہے ہیں جن سے پیسے کی قدر اور حفاظت پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔ لوگ فیاٹ کرنسیوں سے نکل کر سونے کی طرف جا رہے ہیں۔ آج سونا ریکارڈ بلندی پر ہے۔ امریکہ کا قومی قرض اڑتیس کھرب ڈالر ہے۔ ایک ماہرِ معاشیات کا کہنا ہے اصل عدد ایک سو کھرب ہے۔ امریکہ پچھلے پانچ مہینوں سے ہر ہفتے پچاس ارب ڈالر قرض لے رہا ہے۔
دوسری: ملکوں کے اندر دولت، آمدنی اور اقدار کے بڑے فرق پیدا ہو رہے ہیں جو دائیں اور بائیں بازو کی عوامیت کو جنم دے رہے ہیں۔ ڈالیو لکھتا ہے کہ امریکہ میں اسے MAGA اور WOKE کہتے ہیں۔ اختلافات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ سمجھوتے سے حل نہیں ہوتے۔ خانہ جنگی سے قبل کی قسم کی صورتحال ہے۔ صدر شہروں میں فوج تعینات کر رہا ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ انتخابات معمول کے مطابق ہوں گے بھی یا نہیں۔ ڈالیو یاد دلاتا ہے: انیس سو تیس کی دہائی میں چار بڑی جمہوریتیں، جرمنی، جاپان، اٹلی اور اسپین، آمریت بن گئیں۔ جمہوریت اس وقت ٹوٹتی ہے جب اختلاف اتنا بڑھ جائے کہ قانون پر اعتماد ختم ہو جائے۔
تیسری: انیس سو پینتالیس کے بعد بنایا گیا کثیر الجہتی، قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام ٹوٹ رہا ہے۔ نیٹو جیسے اتحاد کمزور ہو رہے ہیں۔ اس کی جگہ طاقت کی سفارت کاری آ رہی ہے۔ ڈالیو صاف لکھتا ہے: گرین لینڈ، وینزویلا، ایران، چین، روس، سب کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ انیس سو پینتالیس سے پہلے کے دور سے مشابہ ہے جب بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی تھیں اور بحری طاقت سفارت کاری کا آلہ تھی۔
چھٹا مرحلہ بس جہنم میں چھلانگ یے. عظیم بدنظمی۔ جنگ۔ نظام کا انہدام.
ڈالیو فارچون میں لکھتا ہے کہ ہم پانچویں مرحلے میں ہیں۔ لیکن فروری دو ہزار چھبیس میں، ایران پر حملے کے بعد، اس نے ایکس پر لکھا:
“یہ آفیشل سمجھ لیں: موجودہ عالمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ میری زبان میں، ہم بڑے چکر کے چھٹے مرحلے میں ہیں جہاں عظیم بدنظمی ہے، کوئی قاعدہ نہیں، طاقت ہی حق ہے، اور بڑی طاقتوں کا تصادم ہے۔”
پانچ سو سال کی تاریخ پڑھنے والا آدمی کہہ رہا ہے: ہم چھٹے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
آخری بار چھٹا مرحلہ کب آیا تھا؟ انیس سو انتیس سے پینتالیس۔ عظیم کساد بازاری۔ فاشزم کا عروج۔ دوسری جنگِ عظیم۔ پانچ سے سات کروڑ انسان مرے۔ ایٹم بم گرا۔ سلطنتیں ختم ہوئیں۔ نقشے دوبارہ بنے۔ پرانا نظام ملبے میں بدلا اور نیا نظام شروع ہوا۔
ڈالیو لکھتا ہے کہ چھٹے مرحلے میں تجارتی جنگیں ہوتی ہیں، ٹیکنالوجی جنگیں ہوتی ہیں، جغرافیائی سیاسی جنگیں ہوتی ہیں، سرمایے کی جنگیں ہوتی ہیں، اور آخر میں فوجی جنگیں ہوتی ہیں۔ تب ہوتی ہیں جب تنازعہ وجودی بن جائے اور کسی اور طریقے سے حل نہ ہو سکے۔
آج کیا ہو رہا ہے؟ تجارتی جنگ جاری ہے، ٹرمپ نے ٹیرف لگائے ہوئے ہیں۔ ٹیکنالوجی جنگ جاری ہے، چین کو چپس سے محروم کیا جا رہا ہے۔ سرمایے کی جنگ جاری ہے، پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ جغرافیائی سیاسی جنگ جاری ہے، گرین لینڈ پر نظر ہے، وینزویلا کو دھمکایا جا رہا ہے۔ اور فوجی جنگ؟ ایران جل رہا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہے۔ تیل ایک سو بیس ڈالر فی بیرل تک گیا۔ پاکستان اور بنگلادیش میں توانائی بحران سے چار روزہ ورکنگ ویک نافذ ہو چکی ہے۔ جی سیون نے تیل کے ذخائر کھولنے سے انکار کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں ہر دس فیصد اضافہ عالمی مہنگائی میں آدھا فیصد بڑھا دے گا۔
اب چکر مکمل کیجیے۔
پہلا مرحلہ: نیا نظام بنتا ہے۔ دوسرا: ادارے بنتے ہیں۔ تیسرا: خوشحالی آتی ہے۔ چوتھا: قرض بڑھتا ہے، تفاوت بڑھتا ہے۔ پانچواں: مالیاتی بحران، اندرونی تقسیم، بین الاقوامی تنازعات۔ چھٹا: عظیم بدنظمی، جنگ، نظام کا خاتمہ۔
اور پھر؟
پھر پہلا مرحلہ دوبارہ۔ نیا فاتح۔ نیا نظام۔ نیا دور۔ اور پھر وہی چکر۔ دوبارہ۔
ڈالیو لکھتا ہے: “آنے والا وقت اس سے یکسر مختلف ہو گا جس کی لوگوں کو عادت ہو چکی ہے۔ یہ وقت انیس سو پینتالیس کے بعد کے دور سے زیادہ انیس سو پینتالیس سے پہلے کے ہنگامہ خیز دور سے مشابہت رکھے گا۔”
اور مضمون کے آخر میں ایک جملہ لکھتا ہے جو پانچ سو سال کی تاریخ کا خلاصہ ہے:
“کچھ بھی مقدر نہیں ہے۔ کچھ امکان ہے کہ ہمارے رہنما لڑیں نہیں بلکہ لوگوں کو قریب لائیں اور وہ مشکل فیصلے کریں جو ضروری ہیں۔”
پھر وقفہ۔
“انسانی فطرت جیسی ہے، مجھے امید نہیں ہے۔”
یہ پانچ سو سال ہے جو بول رہے ہیں۔ ہالینڈ ٹوٹا۔ اسپین ٹوٹا۔ برطانیہ ٹوٹا۔ ہر بار وہی چھ مراحل۔ ہر بار وہی اسباب۔ ہر بار وہی نتائج۔ اور ہر بار انسان نے یہی سوچا کہ “اس بار مختلف ہو گا۔
اس بار بھی مختلف نہیں ہو گا۔ کیونکہ اسباب وہی ہیں۔ قرض بے قابو ہے۔ قومیں تقسیم ہیں۔ طاقتیں ٹکرا رہی ہیں۔ قواعد ختم ہو چکے ہیں۔ طاقت ہی حق ہے۔ اور جب طاقت ہی حق ہو تو سب سے زیادہ قیمت وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کے پاس طاقت نہیں ہوتی۔
ہمیشہ سے ایسا ہوا ہے۔ ہمیشہ ایسا ہو گا۔


