ریاستیں عقیدے سے نہیں، مفاد سے چلتی ہیں/محمد امین اسد

جب ہم پاکستان کی خارجہ پالیسی یا عمومی طور پر بین الاقوامی تعلقات کا سنجیدہ مطالعہ کرتے ہیں تو ایک بنیادی مغالطہ بار بار ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ گویا ریاستیں اپنے تعلقات مذہب، زبان، رنگ یا نسل کی بنیاد پر استوار کرتی ہیں۔ یہ خیال عوامی خطابات میں تو دلکش معلوم ہوتا ہے، جذبات کو گرما دیتا ہے، اور ایک طرح کی اخلاقی برتری کا احساس بھی پیدا کرتا ہے، لیکن جب ہم حقیقت کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو یہ تصور ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ سفارت کاری کے اصل ایوانوں میں نہ مذہب کی حرارت ہوتی ہے، نہ نسل کا غرور، اور نہ زبان کی شیرینی؛ وہاں صرف مفاد کی ٹھنڈی اور بے لاگ منطق کارفرما ہوتی ہے۔

یہ ایک ایسا اصول ہے جس پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی ہر ریاست کاربند ہے۔ ریاست کا اولین فریضہ اپنے شہریوں کی بقا، معاشی استحکام اور جغرافیائی تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ چنانچہ جب فیصلے کیے جاتے ہیں تو ان کا مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ کون سا قدم قومی سلامتی کو مضبوط کرے گا، کون سا فیصلہ معیشت کو سہارا دے گا، اور کس تعلق سے خطرات کم یا مواقع زیادہ ہوں گے۔ مذہب، ثقافت یا نسلی رشتے اگر ان مقاصد کے حصول میں معاون ہوں تو انہیں استعمال کر لیا جاتا ہے، اور اگر یہ رکاوٹ بنیں تو انہیں خاموشی سے ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے۔

پاکستان کی اپنی تاریخ اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے۔ بظاہر یہ ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد مذہب پر رکھی گئی، لیکن اس کی خارجہ پالیسی کا عملی ڈھانچہ دیکھیں تو وہ خالصتاً مادی مفادات کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ ایران کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی قربت کے باوجود تعلقات ہمیشہ محتاط رہے، کیونکہ دوسری طرف خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے معاشی روابط، ترسیلات زر، توانائی کی ضروریات اور دفاعی تعاون جیسے عوامل زیادہ وزن رکھتے تھے۔ چنانچہ جب بھی مذہبی ہم آہنگی اور معاشی ضرورت میں ٹکراؤ ہوا، فیصلہ معاشی ضرورت کے حق میں گیا۔

اسی طرح اگر زبان اور نسل کو بنیاد بنایا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مثالی ہونے چاہئیں تھے۔ مشترکہ قبائل، مشترکہ ثقافت اور جغرافیائی قربت ، یہ سب عوامل ایک مضبوط رشتے کا تقاضا کرتے تھے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہاں تعلقات کی نوعیت ہمیشہ سیکیورٹی خدشات، سرحدی تنازعات اور علاقائی طاقت کے توازن سے طے ہوئی۔ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ نسلی یا لسانی رشتہ سفارت کی بنیاد نہیں بنتا، بلکہ محض ایک ثانوی عنصر رہتا ہے۔

دوسری طرف چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو دیکھیں تو وہاں مذہب، زبان، تہذیب، سب کچھ مختلف ہے، مگر تعلق غیر معمولی حد تک مضبوط ہے۔ اس کی وجہ نہ کوئی جذباتی وابستگی ہے اور نہ نظریاتی ہم آہنگی، بلکہ صاف اور سیدھا مفاد ہے: دفاعی تعاون، اقتصادی شراکت، اور ایک مشترکہ علاقائی چیلنج کا مقابلہ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس عام تاثر کو رد کرتی ہے کہ ممالک نظریاتی بنیادوں پر ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس معاملے کو مزید واضح کرتے ہیں۔ کبھی قریبی اتحادی، کبھی سخت ناقد، اور کبھی فاصلہ اختیار کرنے والا شراکت دار ، یہ اتار چڑھاؤ کسی مذہبی ہم آہنگی یا تضاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ بدلتے ہوئے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کے تحت ہوتا رہا۔ سرد جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ، ہر مرحلے پر تعلقات کی نوعیت اسی حساب سے طے ہوئی کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ طرز عمل صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست اس کا ایک اور واضح مظہر ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو اگر صرف مذہبی اختلاف کے چشمے سے دیکھا جائے تو تصویر ادھوری رہ جاتی ہے۔ درحقیقت یہ کشمکش علاقائی اثر و رسوخ، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی بالادستی کی جنگ ہے، جس میں مذہب کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، بنیاد کے طور پر نہیں۔ اسی طرح عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تعلقات اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ جب مادی مفادات تقاضا کریں تو دہائیوں پرانی مذہبی اور سیاسی دشمنیاں بھی پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔

یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ عوام کے سامنے اکثر مذہب، قومیت یا تہذیب کے نام پر جو بیانیہ پیش کیا جاتا ہے، وہ دراصل سیاست کا ظاہری چہرہ ہوتا ہے۔ یہ وہ “دکھانے کے دانت” ہیں جن کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کی جاتی ہے۔ لیکن اصل فیصلے، جو بند کمروں میں ہوتے ہیں، وہ “کھانے کے دانت” کی طرح ہوتے ہیں ، خاموش، عملی اور مفاد پر مبنی۔ یہ تضاد کسی ایک ملک کا خاصہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا عمومی اصول ہے۔

اگر ہم غیر جانبداری سے تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک ہی نتیجہ سامنے آتا ہے: ریاستیں جذبات سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔ جب بھی مذہب اور معاشی ضرورت میں تصادم ہوا، فیصلہ معاشی ضرورت کے حق میں ہوا۔ جب بھی نسلی وابستگی اور قومی سلامتی میں ٹکراؤ آیا، قومی سلامتی کو ترجیح دی گئی۔ یہی وہ اصول ہے جس پر بین الاقوامی تعلقات کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ مذہب، زبان، رنگ اور نسل سفارت کاری کے آلات تو ہو سکتے ہیں، مگر اس کی بنیاد یا محور نہیں۔ بنیاد ہمیشہ مادی مفاد، معاشی طاقت اور سلامتی کے تقاضے ہوتے ہیں۔ جو قومیں اس حقیقت کو سمجھ لیتی ہیں وہ اپنی خارجہ پالیسی کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوار کرتی ہیں، اور جو اسے نظرانداز کرتی ہیں وہ جذبات کے سمندر میں بھٹکتی رہتی ہیں۔

آج کے پیچیدہ عالمی نظام میں دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم نعروں اور جذبات سے بلند ہو کر حقیقت کا سامنا کریں۔ سفارت کا فن دراصل توازن کا فن ہے ، ایک ایسا توازن جس میں اصول بھی ہوں، مگر ان کی تعبیر مفاد کے آئینے میں کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی ریاست کو استحکام، وقار اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں