تیسرا کاندھا/مقصود جعفری

کھڑکی کی درزوں سے چھن کر آنے والی تکبیروں کی گونج نے کمرے کی منجمد خاموشی میں پہلی دراڑ ڈالی۔ ہوا میں عطرِ ،حنا، اور سویوں کی ملی جلی خوشبو رچی ہوئی تھی جو باہر گلی سے اٹھ کر اس کے کمرے تک پہنچ رہی تھی۔

​اس نے استری شدہ سفید کلف لگے کرتے کو دیکھا جو بستر پر یوں سیدھا اور بے حرکت پڑا تھا جیسے کسی کا انتظار کر رہا ہو۔ اس نے آہستہ سے کرتہ پہنا۔کلف کی سختی نے اس کی گردن کو چھوا تو اسے اپنے وجود کا احساس ہوا۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنے بال سنوارے۔ آئینے میں عکس تو اسی کا تھا، لیکن آنکھوں میں ایک ایسا ہجوم تھا جو دراصل اس کے اردگرد کہیں نہیں تھا۔

​دروازے پر ایک ہلکی سی دستک ہوئی۔اس نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا اور قدم بڑھائے۔ کنڈی کھولی تو سامنے چوکیدار لڑکا کھڑا تھا۔عید مبارک صاحب۔۔۔۔۔! میں بس پچھلے مہینے کی تنخواہ لینے آیا تھا۔ لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا۔اس نے جیب سے پیسے نکال کر لڑکے کو دیے۔ خیر مبارک… رکو، اندر آؤ، سویاں کھا کر جانا۔ نہیں صاحب، بہت مہربانی۔ آج تو جلدی گھر جانا ہے، بچے نئے کپڑے پہن کر انتظار کر رہے ہوں گے۔ لڑکا مڑا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر گیا۔

​وہ وہیں کھڑا خالی سیڑھیوں کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے دروازہ بند کر دیا۔باہر گلی میں نمازِ عید ختم ہو چکی تھی۔ وہ بالکونی میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ لوگ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔
دایاں کاندھا،
بایاں کاندھا،
پھر دایاں کاندھا۔
ہر ملاقات میں ایک حرارت تھی، ایک تکمیل تھی۔

وہ اوپر سے اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔اچانک اسے اپنے بازوؤں میں ایک شدید بے نام سی طلب محسوس ہوئی۔ اس کے سینے کا خالی پن اس قدر بھاری ہو گیا کہ اسے سانس لینا دشوار لگنے لگا۔وہ تیزی سے بالکونی سے اندر آیا۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا۔ اس نے کمرے کے چاروں طرف دیکھا۔ صوفے، کرسیاں، میز… سب اپنی اپنی جگہ پر مکمل اور بے نیاز تھے۔

وہ الماری کی طرف بڑھا۔ اس نے کپڑوں کے ڈھیر میں سے ایک پرانا، بھاری اونی کوٹ نکالا—وہ کوٹ جس میں برسوں پرانی کسی کی خوشبو اب تک قید تھی۔اس نے اس کوٹ کو لکڑی کے ایک چوڑے ہینگر پر پہنایا اور اسے دروازے کی اندرونی کنڈی کے ساتھ یوں لٹکا دیا کہ کوٹ کے خالی بازو قدرے آگے کو پھیلے ہوئے محسوس ہوئے۔

​وہ دو قدم پیچھے ہٹا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے سفید کلف لگے کرتے کو درست کیا، اور چہرے پر ایک رسمی مگر پرجوش مسکراہٹ سجا کر کوٹ کی طرف بڑھا۔اس نے اپنے بازو پھیلائے اور ہینگر پر لٹکے کوٹ کو گلے لگا لیا۔
دایاں کاندھا… کوٹ کی اون سرد اور کھردری تھی۔
بایاں کاندھا… اچانک اس کے سینے کو ایک عجیب سی حرارت محسوس ہوئی۔ ایک دھڑکن، جو اس کی اپنی نہیں تھی۔ تیز، گرم اور زندہ دھڑکن۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
پھر تیسری بار دایاں کاندھا… ایک جانی پہچانی، مانوس سی آواز نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ *”عید مبارک”*

​اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ برسوں بعد کسی نے اسے اتنی گرمجوشی سے گلے لگایا تھا۔ وہ گلے ملنے والے کو دیکھنے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹا۔دروازے پر لٹکا ہوا کوٹ اب اپنے قدموں پر کھڑا تھا اور اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔وہ حیرت سے کچھ کہنے کے لیے آگے بڑھا لیکن اس کے قدم نہیں اٹھے۔ اس نے گھبرا کر اپنے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی۔ اس کے دونوں ہاتھ لکڑی کے ایک چوڑے ہینگر کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

اس نے نیچے دیکھا… اس کا اپنا وجود ہڈیوں اور گوشت سے عاری، ایک خالی سفید کرتے کی صورت دروازے کی کنڈی سے جھول رہا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں