سوشل میڈیا کا ہر صارف یہ بات محسوس کرتا ہے کہ اسے ہر وقت کچھ نہ کچھ کہنے اور شیئر کرنے کی تحریک ملتی ہے۔
سوشل میڈیا اپنے صارف کے اندرہر طرح کے اظہار اور ہر نوع کی اشیاد ر اشیا کے صَرف کی ختم نہ ہونے والی بھوک پیدا کرتا ہے۔وہ اپنے صارف کی ذات کے ایک ایک سچ، شوق، سرگرمی، خیال، رائے، تجربے ،اگر یہ نہ ہوں تو پرانی یادوں کو شیئر کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔
چناں چہ صارف ،سوشل میڈ یا پر ، ہر وقت کچھ نہ کچھ شیئر کرنے کے لیے باقاعدہ اضطراب محسوس کرتا ہے۔یہ اضطراب کی ایک نئی قسم ہے۔وجودی مفکروں خصوصاً ہائیڈگر نے اضطراب کو وجود کے پرشکوہ عناصر سے متعارف ہونے کا ذریعہ کہا تھا۔ جب کہ سوشل میڈیا کاپیدا کردہ اضطراب، لالچ اور خوف کےالجھے ہوئے جذبات کاآمیز ہ ہے۔
فالورزبڑھانے، لائیکس، کمنٹس کے ذریعے شہرت بڑھائے چلے جانے کا لالچ۔ اور یہ خوف کہ اگر دو دن سوشل میڈیا پر کچھ شیئر نہ کیا تو گویامعدوم ہوجاؤں گا۔ سکرین سے معدومی کا یہ خوف، دنیا سے معدومی کے ڈر کی صورت اپنا اظہار کرتا ہے۔اس لیے کہ سوشل میڈیا صارف رفتہ رفتہ ،دنیا میں اپنے ہونے اور اپنے جداگانہ وجود کا اثبات ، سکرین پر اپنی مسلسل موجود گی کی صورت کرنے لگتا ہے۔
اس کے لیے دنیا بس وہی ہے جو سکرین پر ظاہر ہورہی ہے،اور وہ اسی دنیا کا شہری (netizen)بننے میں راحت اور کچھ صورتوں میں لذت محسوس کرنے لگتا ہے(اس لیے کہ اسے دوسروں کی فوری توجہ حاصل ملتی ہے جس کا تجربہ وہ حقیقی زندگی میں کم کم کرتا ہے) ۔
اپنی معدومی کے خوف پر غالب آنے کی کوشش کے طور پر وہ کچھ نہ کچھ ، سکرین پر لکھنے یا محض اپنی تصویریں ، دل چسپ عنوانات کے ساتھ شیئر کرنے لگتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ عام طور پر حقیقی داخلی تحریک کے بغیر بھی لکھتا ہے ۔کسی حقیقی مسئلے پر رائے ظاہر کرنے کی ذمہ داری کے حقیقی احساس کے بغیر لکھتا ہے۔
بیش تر اوقات وہ لکھتا نہیں ،گھسیٹتا ہے۔ کئی بار وہ گھسیٹتا نہیں، بڑبڑاتا ہے ۔ وہ محض سکرین سے معدومی کے اندیشے پر قابو پانے کی کوشش کے طور پر لکھتا یا بڑبڑاتاہے۔
یہ کوشش ہی حقیقت میں اسے ذہنی آزادی سے محروم کرتی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے جبر کے تحت اظہار کرتا ہے ۔
اس کے ذہن میں سب خیالات،خود اس کے اپنے حقیقی وجود کی تشویش وتجربے سے پیدا نہیں ہوتے۔ اس کے ذہن کی باگ ،کسی اور کے ہاتھ میں عام طور پر ہوا کرتی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے اس حقیقت پر کہ وہ جبر کا شکار ہے، اضطراب محسوس نہیں ہوتا۔فاؤسٹ نے اپنی روح گروی رکھی تھی، یہ اپنے ذہن کی آزادی کا سواد کرتا ہے،دام وام پر جھگڑا کیے بغیر۔سوشل میڈیا پر آنے سے پہلے، اس کے پاس ‘سماجی ذات ‘ تھی،اب اس پر ، ڈیجیٹل ذات کی ایک نئی تہ چڑھ آئی ہے۔
وہ پہلے بھی آزادی سے محروم تھا، اب مزید محروم ہے۔آئرنی یہ ہے کہ وہ آزادی سے ،بہ صد مسرت محروم ہے۔
( زیر طبع کتاب ’’سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا ‘’ کے مقدمے سے اقتباس)


