فرعونے را موسٰی/عبدالشکور پٹھان

نو ، دس یا گیارہ بارہ سال کا لڑکا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔
اب یہ بار بار بتانے والی بات تو نہیں کہ میں بچہ ہی تھا کہ اردو کے اخبار پڑھنے لگا تھا۔ اخبار ہی کیا کاغذ پر چھپا ہوا ہر حرف، ہر لفظ مجھے اپنی جانب بلاتا تھا چاہے وہ کہانیوں کی کتابیں ہوں ، مدرسے کا قاعدہ ہو، اسکول کی کتابیں ہوں، اخبار اور رسالے ہوں ، جنتری ہو، کیلنڈر ہو۔ میں ان سب کو کئی کئی بار پڑھ ڈالتا۔ اور وہ جو کہتے ہیں کہ شکر خورے کا خدا شکر ہی دیتا ہے۔ گھر میں چاہے کوئی سازوسامان ہو نہ ہو کتابیں، رسالے وغیرہ بکھرے پڑے نظر آتے۔
یہ اور بات ہے کہ سمجھ میں بہت ہی کم آتا۔ اب آپ ہی بتائیں نقاد رسالے میں ظفر نیازی کا “ ابلیس کا روزنامچہ” اور ماہنامہ بیسویں صدی میں خوشتر گرامی کا “تیرونشتر” بھلا نو سال کے بچے کے کیا سمجھ میں آسکتا تھا۔ تیسری جماعت میں ہی کرشن چندر کی “ایک گدھے کی سرگزشت” بھی پڑھ ڈالی تھی۔
خدارا اسے آپ خود نمائی نہ سمجھیں، عرض صرف یہ کرنا تھا کہ جو کچھ بھی کاغذ پر چھپا ہوا سامنے آتا اسے پڑھ ُڈالنے کا جنون کی حد تک شوق تھا اور اسی شوق کے ہاتھوں وہ کچھ پڑھ ڈالتا جن سے ایک بچے کا کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ اسی طرح کی چیزوں میں اخبارات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس کی روداد بھی میری توجہ کا مرکز ہوتی۔ میری خاک سمجھ میں نہ آتا کہ پوائنٹ آف آرڈر کیا ہوتا ہے۔ تحریک التوا، وقفہ سوالات، توجہ دلاؤ نوٹس، کورم اور سارجنٹ ایٹ آرمز وغیرہ کن بلاؤں کے نام ہیں ۔
اور یہ ان ہی دنوں کی یعنی سن تریسٹھ چونسٹھ کی بات ہے۔ اسمبلی کی کاروائی میں ایک شعر کی گونج ہوئی جو آج بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ آپ یقین کیجئے میں نے وہ شعر پہلی بار اسمبلی کی کاروائی کی روداد میں پڑھا تھا۔ پورا شعر تو نہ جاںنے کیا تھا اس کا مصرعہ البتہ یاد ہے کہ۔۔”ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا”۔
یہ مصرعہ کچھ سمجھ آیا، کچھ نہیں آیا لیکن یاد اس لیے رہا کہ اسے اسمبلی میں غالبا” اس وقت کے قائد حزب اختلاف نے پڑھا تھا۔ یہ بھی شاید کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ البتہ یہ غیر معمولی بات تھی کہ اسے پڑھنے والے اس وقت کے آمر جنرل محمد ایوب خان کے سگے بھائی تھے۔ جی ہاں یہ سردار بہادر خان تھے جو ایوب کے دور حکومت میں ہمیشہ ان کی کھل کر مخالفت کرتے رہے اور یہ مخالفت آج کل کی سیاست کی طرح منافقانہ اور مفاد پرست مخالفت نہیں تھی جس میں دو بھائی مخالف جماعتوں میں صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ ایک برسر اقتدار رہ کر فائدے حاصل کرتا رہے۔ وقت پڑھنے پر دونوں ایک دوسرے سے آملتے ہیں ۔ مجھے اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے سامںے بے شمار مثالیں بکھری پڑی ہیں۔
وہ دن اور وہ لوگ ہی کچھ اور طرح کے تھے۔ سردار بہادر خان جیسے لوگ ہماری سیاسی تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جنہوں نے ہمیں سکھایا کہ اصول اور جمہوری اقدار، خاندان اور رشتوں سے بالا تر ہوتے ہیں۔ اور وہ بھی جب ایک بھائی ملک کا مطلق العنان حکمران تھا اور دوسرا حزب اختلاف کی نشستوں سے عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہا تھا۔ ایوب کے سگے بھائی ہونے کے باوجود وہ ان کی پالیسیوں کے سخت ترین نقاد تھے۔ “ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے” اس وقت کے نظام حکومت اور نوکر شاہی میں موجود بے ضابطگیوں اور اقرباء پروری اور نااہل افراد کی تقرریوں پر طنز تھا۔ بدقسمتی سے آج اس سے کہیں زیادہ الو شاخوں پر بیٹھے ہیں اور گلستان کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
ہر دور میں ایسے ضرور گذرے ہیں جو کسی قیمت پر زہر ہلاہل کو قند کہنے پر تیار نہیں ہوتے لیکن ان کی قدر جب بڑھ جاتی ہے جب وہ ایسے گھرانوں اور ایسے ماحول میں جنم لیتے ہیں جہاں دنیا جہان کی نعمتیں اور آسائشیں میسر ہوں لیکن وہ انہیں تیاگ کر مشکل راہوں پر چل پڑیں۔
تپتی راہیں مجھ کو پکاریں
دامن پکڑے چھاؤں گھنیری
اور قدرت بھی بعض اوقات عجیب تماشے دکھاتی ہے۔ فرعون کے گھر میں موسٰی کو پروان چڑھاتی ہے۔ سردار بہادر خان سے ایک اور ہستی یاد آئی جو بڑے بااثر خاندان میں پیدا ہوئیں لیکن جنہوں نے سچ کی خاطر گلوں کو چھوڑ کر کانٹوں کا انتخاب کیا۔
وجے لکشمی پنڈت، موتی لعل نہرو کی بیٹی اور جواہر لعل نہرو کی چھوٹی بہن۔ آزادی سے پہلے یو پی کی وزیر بنیں جو کسی بھی ہندوستانی خاتون کے لیے پہلا موقع تھا اور یہی مسز پنڈت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔ نہ صرف یہ بلکہ سوویت یونین، امریکہ اور برطانیہ میں ہندوستان کی سفیر رہیں۔انہیں ان کی خود اعتمادی، حاضر جوابی اور عالم اقوام میں ہندوستان کا مقدمہ لڑنے کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے لیکن مجھے وہ وجے لکشمی پنڈت یاد ہیں جو نہ صرف اپنے بھائی کی خواہ مخواہ کی آئیڈلسٹ پالیسیوں سے اختلاف رکھتی تھیں بلکہ اسی بھائی کی لاڈلی بیٹی اندراگاندھی جب تخت پر براجمان ہوئی اور اس نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تو اس غیر جمہوری اقدام کی سب سے سخت مخالفت کرنے والوں میں وجے لکشمی پنڈت سب سے آگے تھیں۔
یہاں میں سردار بہادر خان اور وجے لکشمی پنڈت کی شخصیت اور حالات کے بارے میں کچھ نہیں بتا رہا۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک پر تعیش ماحول اور اشرافیہ کی زندگی گزارنے کے مواقع کے باوجود سچ کا مشکل راستہ اختیار کرنا کتابوں،کہانیوں اور فلموں میں تو ممکن ہے، حقیقی زندگی میں یہ اتنا آسان نہیں ہوتا اور چند ایک ہی ہوتے ہیں جو اس راہ سے سرخرو ہوکر گزرتے ہیں۔
ایسے پراگندہ طبع ، منفرد مزاج والے اور باوضع لوگ اب دوا میں ڈالنے جتنے بھی نہیں ملتے۔ کل سروجنی نائیڈو کے بارے میں پڑھتے ہوئے مجھے وجے لکشمی پنڈت یاد آئیں۔ وہ یاد آئیں تو یاد آیا کہ نہرو کے مقابل ایوب خان تھے اور ان کے بھی بھائی ،ُمسز پنڈت کی طرح حزب مخالف تھے۔ سوچا کیوں نہ دوستوں کو بھی اس یاد میں شریک کروں۔
یہ باتیں میرے ہم عمر اور ہم عصر دوستوں کو تو یاد ہوں لیکن بچوں کو بھی بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ گئے وقتوں میں کیسے کیسے لوگ گذرے ہیں۔
ڈھونڈ انہیں اب چراغِ رخِ زیبا لے کر

اپنا تبصرہ لکھیں