ہمارے معاشرے میں ایک عجیب منظر بار بار دکھائی دیتا ہے، الفاظ کی ایک چمک دمک ہے، خطابت کا ایک شور ہے، نصیحتوں کا ایک سیلاب ہے مگر جب انسان ان الفاظ کے پیچھے جھانک کر دیکھتا ہے تو اکثر وہاں ایک خلا محسوس ہوتا ہے۔ بظاہر دین کی باتیں، تقویٰ کی نصیحتیں اور زہد کے قصے سنائے جاتے ہیں، لیکن عمل کی زمین پر وہ سب کچھ کہیں دکھائی نہیں دیتا اور یہی تضاد ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ بن چکا ہے۔ دین کی تعلیمات ہمیشہ سے انسان کو سچائی، عدل اور دیانت کی طرف بلاتی رہی ہیں، منبر اس لیے قائم ہوا تھا کہ وہاں سے انسانیت کی بھلائی کی بات کی جائے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے امید پیدا کی جائے مگر وقت کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں نے اس مقدس مقام کو ایک ایسے اسٹیج میں بدل دیا جہاں الفاظ تو بہت ہوتے ہیں مگر کردار خاموش رہتا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہمارے ہاں دین کے نام پر بولنے والوں کی کمی نہیں، ہر طرف وعظ سنانے والے موجود ہیں، مسجدوں میں، ٹی وی چینلز پر، سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر، ہر جگہ نصیحتوں کی ایک دنیا آباد ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان نصیحتوں کا اثر بھی اسی رفتار سے ہمارے معاشرے میں نظر آتا ہے، اگر ہم دیانت داری سے اپنے اردگرد دیکھیں تو جواب اکثر مایوس کن ہوتا ہے۔ ہم ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو منبر پر کھڑے ہو کر عدل کی بات کرتے ہیں، انصاف کے قصے سناتے ہیں، حکمرانوں کو نصیحت کرتے ہیں مگر جب اپنی زندگی کی باری آتی ہے تو وہی اصول کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں، یہی وہ تضاد ہے جس نے عام انسان کے دل میں شکوک پیدا کیے ہیں، جب الفاظ اور عمل کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے تو اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔
انسانی تاریخ میں اخلاقی قیادت ہمیشہ عمل سے پیدا ہوئی ہے، صرف تقریر سے نہیں، جن لوگوں نے معاشروں کو بدلا انہوں نے پہلے اپنے کردار کو مثال بنایا، ان کے الفاظ اس لیے اثر رکھتے تھے کیونکہ ان کے پیچھے سچائی کا وزن ہوتا تھا، مگر جب کوئی شخص زہد کا لباس پہن کر دنیاوی مفادات کی دوڑ میں شامل ہو جائے تو پھر اس کے الفاظ کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک اور دلچسپ مگر افسوسناک پہلو بھی ہے، دین کی باتیں کرنے والے اکثر دنیا کی بے ثباتی پر بڑے زور سے گفتگو کرتے ہیں، وہ بار بار یاد دلاتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے، یہاں کچھ بھی مستقل نہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اسی دنیا کی جمع پونجی کے معاملے میں وہی لوگ سب سے زیادہ حساس نظر آتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا فانی ضرور ہے مگر اس کی دولت جمع کرنے کا شوق کبھی ختم نہیں ہوتا اور یہ تضاد صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔
جب عام آدمی دیکھتا ہے کہ مذہبی زبان استعمال کرنے والے افراد بھی وہی کمزوریاں رکھتے ہیں جو دوسرے لوگوں میں ہیں بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ، تو اس کے ذہن میں ایک خطرناک سوچ جنم لیتی ہے، وہ دین کو نہیں بلکہ دین کے نمائندوں کو دیکھ کر فیصلہ کرنے لگتا ہے، یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اعتماد ٹوٹتا ہے اور معاشرہ اخلاقی بحران کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اس مسئلے کا ایک پہلو اور بھی ہے جس پر کم بات کی جاتی ہے، بہت سے لوگ دین کو ایک ایسی علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں جو انہیں معاشرے میں احترام دلا سکے، لمبی داڑھی، تسبیح، مخصوص لباس اور مذہبی زبان۔۔۔ یہ سب چیزیں بظاہر زہد کی علامت بن جاتی ہیں مگر اگر ان علامتوں کے پیچھے کردار موجود نہ ہو تو وہ صرف ایک ظاہری پردہ بن کر رہ جاتی ہیں۔
اصل زہد انسان کے لباس میں نہیں بلکہ اس کے رویے میں نظر آتا ہے، ایک سچا مذہبی انسان وہ ہے جس کے فیصلوں میں انصاف ہو، جس کی زبان میں سچائی ہو اور جس کے دل میں خوف خدا ہو اگر یہ تین چیزیں موجود نہ ہوں تو ظاہری عبادتیں بھی اپنا اثر کھو دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں ایسے لوگوں کا ذکر بڑے احترام سے کیا جاتا ہے جنہوں نے خاموشی سے نیکی کی، بغیر کسی دعوے کے انصاف کیا اور بغیر کسی شور کے انسانیت کی خدمت کی۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو مسلسل حق و صداقت کی باتیں تو کرتے ہیں مگر مشکل وقت میں خاموش ہو جاتے ہیں، وہ دراصل معاشرے کے اخلاقی توازن کو کمزور کرتے ہیں، کیونکہ سچائی کی اصل آزمائش تقریر میں نہیں بلکہ عمل میں ہوتی ہے۔
ہم نے اپنے معاشرے میں ایک اور رجحان بھی دیکھا ہے، جب طاقتور کے سامنے بولنے کا وقت آتا ہے تو اکثر زبانیں بند ہو جاتی ہیں، لیکن جب کمزور طبقوں کو نصیحت کرنے کا موقع ملتا ہے تو وعظ کے دریا بہنے لگتے ہیں، یہ رویہ صرف منافقت ہی نہیں بلکہ ایک طرح کی اخلاقی کمزوری بھی ہے۔ دین کی اصل روح تو یہ ہے کہ انسان ظلم کے سامنے کھڑا ہو، وہ طاقت کے سامنے بھی سچ کہنے کی ہمت رکھے، مگر جب دین صرف تقریر کا موضوع بن جائے اور کردار کا حصہ نہ رہے تو پھر اس کی تاثیر ختم ہونے لگتی ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ معاشرے میں موجود تمام مذہبی افراد ایسے نہیں ہوتے، بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو خاموشی سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، وہ نہ تو شہرت کے طلبگار ہیں اور نہ ہی منبر کے شور میں اپنی آواز بلند کرتے ہیں مگر انہی لوگوں کے کردار سے معاشرے میں امید باقی رہتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ دین کی بات کرنے والے موجود ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ دین کو صرف الفاظ تک محدود کر دیا گیا ہے، جب دین کردار کا حصہ بن جائے تو معاشرے میں تبدیلی خود بخود آتی ہے، انصاف عام ہوتا ہے، دیانت داری بڑھتی ہے اور انسان ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے لگتے ہیں، مگر جب دین صرف تقریر اور علامتوں تک محدود ہو جائے تو پھر وہ معاشرے کو بدلنے کے بجائے صرف ایک رسم بن کر رہ جاتا ہے۔ آج کے دور میں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم الفاظ سے زیادہ کردار کو اہمیت دیں، ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جو لوگ سچائی کی بات کرتے ہیں کیا وہ خود بھی اسی سچائی پر قائم ہیں، کیونکہ اصل اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب قول اور فعل کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے۔
شاید یہی وہ سوال ہے جو ہر سننے والے کے دل میں خاموشی سے پیدا ہوتا ہے، جب منبر سے بلند آواز میں حق و صداقت کی باتیں سنائی دیتی ہیں تو دل میں ایک امید جاگتی ہے مگر پھر ذہن یہ بھی پوچھتا ہے کہ کیا یہ الفاظ صرف تقریر کا حصہ ہیں یا واقعی زندگی کا بھی، معاشرے کی اصل طاقت اسی سوال کے جواب میں چھپی ہوئی ہے، اگر کبھی ایسا وقت آ جائے جب الفاظ اور عمل ایک دوسرے کا عکس بن جائیں تو شاید پھر منبر کی آواز بھی زیادہ سچی محسوس ہو اور معاشرے کا ضمیر بھی زیادہ مطمئن، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دین کو الفاظ سے نہیں بلکہ کردار سے پہچانا جاتا ہے اور کردار وہ آئینہ ہے جس میں انسان کا اصل چہرہ صاف نظر آ جاتا ہے۔


