لیڈی ویلنگڈن ہسپتال لاہور میں جو افسوسناک واقعہ پیش آیا، وہ واقعی نہایت افسوسناک تھا۔ بعد میں جو حکومتی ایکشن ہوا، وہ بھی قابلِ بحث ہے۔ میں نے اس پر نہ لکھا ہے اور نہ ہی لکھوں گا۔ مجھے گوجرہ شہر سے ایک کنسلٹنٹ کی کال آئی کہ تمہارے اندر کا انقلابی کیڑا کہاں گیا، جو تم نے لاہور میں ہوتے ہوئے بھی ایک لفظ نہیں لکھا؟ میں نے جواب دیا: “ساڈی بس اے، جو کیڑا تھا وہ مر چکا ہے۔”
اصل مسئلہ اور تشویشناک بات ہماری کمیونٹی کا عمومی رویہ ہے، جس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔
جب ویڈیو وائرل ہوئی اور سوشل میڈیا پر ٹرائل شروع ہوا تو ہماری کمیونٹی کے چند عناصر (بشمول سینئر ممبران) نے بجائے ڈیمیج کنٹرول کرنے کے، جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔ یوں عوام کو سوشل میڈیا پر مزید پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملا اور اس واقعے کو مزید گھمبیر بنا دیا گیا۔
جب حکومتی ایکشن ہوا، لوگ معطل ہوئے اور کچھ ڈاکٹرز کو ملازمت سے نکالا گیا، تو انہی عناصر کو بعد میں احساس ہوا کہ انہوں نے کیا کر دیا۔ مگر تب تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔
اس واقعے کے بعد میری لاہور کے چند معروف پروفیسرز سے بات ہوئی۔ سب کا یہی کہنا تھا:
“شافع صاحب، ممکن تھا کہ سینئر پروفیسرز اور فیکلٹی ڈیمیج کنٹرول کر لیتے، حکومت اور اربابِ اختیار کو مطمئن کر لیتے، مگر جب آپ کے اپنے لوگوں نے ہی معاملہ بگاڑ دیا (اور بعد میں اس پر افسوس بھی کیا)، تو ہم کیا کرتے؟”
یہ سن کر ہم سب خاموش ہو گئے۔
ہمارے پیشے کو اس نہج تک پہنچانے میں سب سے زیادہ کردار ہمارا اپنا ہے۔ جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے، ہمارے نام نہاد نمائندے ذاتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے معاملات طے کر لیتے ہیں اور کمیونٹی کے مفاد کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹانگ کھینچنا (Leg pulling) اور پروفیشنل حسد اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہم ذاتی فائدے کے لیے اپنے ہی کولیگ کو پیچھے دھکیلنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ لیڈی ویلنگڈن والے واقعے کو ہی دیکھ لیں، اگر چند شرپسند ڈاکٹرز اس معاملے کو نہ اچھالتے تو شاید یہ اتنا نہ پھیلتا۔ مگر جو ہونا تھا، ہو گیا۔
پروفیشنل حسد اپنے عروج پر ہے۔ ایک واقعہ سنیے: ایک سینئر رجسٹرار سرجری نے ایک مریض کا لیپروسکوپک کولی سسٹیکٹومی (پتے کا آپریشن) ایک لاکھ بیس ہزار میں طے کیا۔ تمام تیاری مکمل تھی، مگر مریض نہ آیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایک پروفیسر نے وہی آپریشن پچپن ہزار میں کر دیا۔ اب کوئی بتائے کہ کس دیوار پر سر ماریں؟ حالانکہ دونوں کے آپس میں اچھے تعلقات تھے۔
ایک اور مثال: میری جاننے والی ایک ڈاکٹر صاحبہ، جو حاملہ ہیں اور ہائی رسک پریگننسی میں ہیں، انہیں لاہور کے ایک ٹیچنگ ہسپتال کی پروفیسر نے بیڈ ریسٹ تجویز کیا۔ مگر ان کے سرکاری ہسپتال کے ایم ایس نے کہا کہ وہ اس میڈیکل کو نہیں مانیں گے، اور اپنے ہسپتال کی گائناکالوجسٹ سے ریسٹ لکھوا کر لانے کو کہا۔ جب وہ وہاں گئیں تو گائناکالوجسٹ نے ریسٹ لکھنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں پتا چلا کہ ایم ایس نے دباؤ ڈالا تھا کہ میڈیکل نہ لکھا جائے۔ اب بتائیں، انسان کہاں جائے؟ کس سے انصاف مانگے؟ ایسی مثالیں بے شمار ہیں۔
ہمارے پیشے کا سب سے بڑا مسئلہ ہم خود ہیں۔ ہماری انہی چھوٹی، غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ ورانہ حرکات کی وجہ سے حکومت، اربابِ اختیار، محکمہ صحت اور بیوروکریسی ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ انہیں معلوم ہے کہ ہم متحد نہیں ہیں۔ ایک ڈاکٹر کو نوکری سے نکالا جائے تو احتجاج کرنے کے بجائے، لوگ اس کی جگہ لینے کے لیے قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے ایک 17ویں گریڈ کا افسر بھی 20ویں گریڈ کے پروفیسر پر حاوی ہو جاتا ہے۔
تو اب چاہے روئیں، چیخیں، ماتم کریں یا سوشل میڈیا پر کچھ بھی کر لیں—جب تک ہم خود کو درست نہیں کریں گے، کوئی ہماری عزت نہیں کرے گا۔
لہٰذا اڑتا تیر مت لیں، ہیرو بننے کی کوشش نہ کریں، اپنی ڈیوٹی پر آئیں، ڈیوٹی مکمل کریں، جو سہولیات ہسپتال میں موجود ہیں انہی کے مطابق نسخہ لکھیں اور گھر چلے جائیں۔ بلاوجہ حاتم طائی بننے کی کوشش نہ کریں، ورنہ نوکری بھی جائے گی، لائسنس بھی منسوخ ہو سکتا ہے، ایف آئی آر بھی درج ہو سکتی ہے، اور اگر عوام کو موقع ملا تو وہ الگ بدسلوکی کریں گے۔


