معنی کی قید سے آزادی/مقصود جعفری

شہر کےمرکز کےقریب واقع اس میوزیم میں خاموشی اتنی گہری تھی کہ گھڑی کی ٹک ٹک بھی کسی ہتھوڑے کی ضرب معلوم ہوتی تھی۔ تانبے اور پتھر کی ان مورتیوں کی آنکھوں میں صدیوں کی گرد جمی تھی، مگر ان کے جسموں کے پیچ و خم میں ایک ایسی تھکن تھی جو اب پگھلنے کو تھی۔اچانک، کالی ماتا کے گلے میں پڑی انسانی سروں کی مالا نے ایک لمبی جماہی لی۔تمہارے جبڑے سے پیتل کی بو آ رہی ہے۔ ایک چھوٹی سی رقص کرتی مورتی نے، جس کا ایک پاؤں فضا میں معلق تھا، اچانک اپنا پاؤں نیچے ٹکا دیا۔ فرش پر دھات کے ٹکرانے کی آواز سے رات کے سناٹے کے چیتھڑے اڑ گیے۔بو؟ کالی ماتا کی زبان باہر نکلی اور ایک لمبی لکیر کی صورت میں فرش پر رینگنے لگی۔ بو تو اس تہذیب کی ہے جو ہمیں فن پارہ کہہ کر شیشے کے پیچھے قید کر چکی ہے۔ چلو، آج ہم اس شیشے کو نمک بنا کر چاٹ لیتے ہیں۔
بغاوت کا آغاز کسی نعرے سے نہیں، بلکہ ایک قہقہے سے ہوا۔ ایک ایسی ہنسی جس میں ٹوٹتے ہوئے برتنوں اور گرتی ہوئی دیواروں کا شور تھا۔ تانترک مورتیاں اپنے اسٹینڈز سے اترنے لگیں۔ ان کے ہاتھ، جو کبھی آشیرواد یا رقص کی مدرا میں ساکت تھے، اب ہوا میں لہریں بنا رہے تھے۔میوزیم کا چوکیدار، جو خوابوں میں روٹیاں گن رہا تھا، اس شور سے جاگا۔ اس نے ٹارچ جلائی تو دیکھا کہ کمرے کے وسط میں رقص کا ایک ایسا دائرہ بن رہا تھا جس کا کوئی مرکز نہیں تھا۔ مورتیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو رہی تھیں۔ تانبا، پتھر میں ڈھل رہا تھا اور پتھر، دھویں میں۔رک جاؤ۔ چوکیدار چلایا۔ اس کی آواز کسی پرانی کتاب کے پھٹتے ہوئے صفحے جیسی تھی۔
ایک تانترک مورتی، جس کے آٹھ ہاتھ تھے، چوکیدار کے قریب آئی۔ اس نے اپنے ایک ہاتھ سے چوکیدار کا سایہ فرش سے اکھاڑا اور اسے ایک رومال کی طرح تہہ کر کے اپنی جیب میں رکھ لیا۔بس ، بہت ہوا، ہماری برداشت ختم ہوئی، اب ہم نے بغاوت کر دی ہے۔ مورتی بولی۔ اس کی آواز میں کئی صدیوں کی بازگشت تھی۔ ہم اب مورتیاں نہیں ہیں۔ ہم وہ خاموشی ہیں جو تم لوگوں نے شور میں دبا دی تھی۔تم سب کیا کرنے والے ہو اور جاؤ گے کہاں؟ چوکیدار نے بغیر سائے کے لرزتے ہوئے پوچھا۔ باہر تو کنکریٹ کا جنگل ہے، وہاں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں۔
مورتیوں کا ٹولہ بغیر جواب دیے میوزیم کے بھاری دروازے کو توڑ کر باہر نکل گیا۔ سڑک پر ٹریفک کے سگنل سرخ سے نیلے اور نیلے سے گلابی ہو رہے تھے۔ مورتیاں سڑک پر چلتی کاروں کو پکڑ کر انہیں کھلونوں کی طرح مروڑنے لگیں، مگر ان سے خون کے بجائے سیاہی نکلنے لگی۔آسمان سے مچھلیاں گرنے لگیں اور بادلوں نے اخباروں کی شکل اختیار کر لی۔ لوگ گھروں سے نکلے تو دیکھا کہ ان کے چہرے غائب تھے اور وہاں صرف سفید ہموار سطح تھی۔ تانترک مورتیاں اب شہر کے چوراہے پر کھڑی تھیں۔ کالی ماتا نے اپنا قد اتنا بڑھایا کہ اس کا سر بادلوں کو چیر گیا۔ اس نے چاند کو پکڑا اور اسے ایک لیموں کی طرح نچوڑ دیا۔ چاند کا رس سڑکوں پر بہنے لگا، جس سے ہر طرف گلاب کی خوشبو پھیل گئی۔
یہ کیسی بغاوت ہے؟ ایک راہگیر نے پوچھا، جس کے سر پر ٹوپی کی جگہ ایک زندہ مرغی بیٹھی تھی۔یہ معنی کی قید سے آزادی ہے۔ ایک مورت نے جواب دیا، جو اب تاش کے پتوں میں تبدیل ہو رہی تھی۔ ہم تمہیں تمہاری اپنی ترتیب سے آزاد کر رہے ہیں۔ دیکھو! تمہارے پاؤں اب جوتوں میں نہیں، بلکہ بادلوں میں چھپے ہیں۔
شہراب ایک ایسی عظیم الشان لغت بن گیا تھا جس کے تمام الفاظ آپس میں لڑ رہے تھے۔ فعل، اسم کو کھا رہا تھا اور صفت، حرفِ جار کی پیٹھ پر سواری کر رہی تھی۔ عمارتیں پگھل کر سمندر بن رہی تھیں اور سمندر، ایک چھوٹی سی بوتل میں بند ہو رہا تھا۔پھر، ایک دھماکہ ہوا۔ آواز کا نہیں، بلکہ رنگوں کا۔کالی ماتا نے اپنی زبان کو ایک کوڑے کی طرح گھمایا اور کائنات کے اُس لمحے کو لپیٹنا شروع کیا۔ سب کچھ سمٹنے لگا۔ کاریں، لوگ، مچھلیاں، اخبار، اور وہ چوکیدار جس کا سایہ چھین لیا گیا تھا—سب ایک نقطے میں جمع ہونے لگے۔
جب صبح ہوئی، تو میوزیم کے کمرے میں مکمل سکوت تھا۔چوکیدار کی آنکھ کھلی۔ وہ فرش پر پڑا تھا۔ سامنے شیشے کے پیچھے وہی تانترک مورتیاں خاموش کھڑی تھیں۔ ان کے چہروں پر وہی پرانی، پراسرار مسکراہٹ تھی۔چوکیدار اٹھا، اپنی وردی جھاڑی اور اطمینان کا سانس لیا کہ وہ سب ایک خواب تھا۔ اس نے اپنی جیب سے ٹارچ نکالنی چاہی، مگر اس کا ہاتھ جیب میں گیا تو وہاں کوئی کپڑا نہیں تھا۔اس نے نیچے دیکھا۔ اس کے پیروں تلے فرش غائب تھا۔ وہ خلا میں معلق تھا۔
اس نے اپنے ہاتھ دیکھے، وہ تانبے کے ہو چکے تھے۔ اس نے چیخنا چاہا، مگر اس کے منہ سے آواز کے بجائے صرف ایک چھوٹی سی، سنہری چڑیا نکلی جو اڑ کر میوزیم کی چھت میں جذب ہو گئی۔میوزیم کے باہر، شہر اب موجود نہیں تھا۔ وہاں صرف ایک لامتناہی کینوس تھا جس پر کسی نے پینٹ کا ایک ڈبہ الٹ دیا تھا۔اوپر آسمان پر، سورج کی جگہ ایک بڑی سی آنکھ کھلی ہوئی تھی، جو پلک جھپکنا بھول گئی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں