انسان کے اصل رشتے اس کے والدین اور اولاد ہیں۔ والدین کے رشتے سے بہن بھائی بھی اس کے قریب ترین رشتے ہیں۔ ان کی بہبود و بقا اس کی فطری خواہش ہے۔ تاہم، ان میں سے بھی وہ اولاد کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ انھیں اپنا قائم مقام سمجھتا ہے۔ ان سےجو منفعت اسے متوقع ہوتی ہے وہ دیگر اقربا سے نہیں ہوتی۔ چنانچہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی موت کے بعد اس کا مال اس کی اولاد کے لیے نفع رسانی کا باعث بنے، جیسے اس کی زندگی میں وہ ان کے لیے نفع کا باعث تھا۔ اسی سے یہ مسلّمہ قدر پیدا ہوئی کہ ترکے کی اصل حق دار اولاد ہے۔ اس سے بدیہی طور پر یہ طے ہوا کہ اگر کسی دوسرے کو ترکے میں سے کچھ دینا ہے تو وہ سب دینے کے بعد باقی ترکہ اولاد میں تقسیم ہوگا، چاہے اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں یا صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہوں۔ یعنی، اصلا سارا ترکہ (ماترک) اولاد کا ہے، مگر عملاً انھیں بقیہ ترکہ (مابقی) تقسیم ہوتا ہے۔ تقسیم وراثت کا یہی طریقہ ہے جو قرآن مجید نے اپنے قانون وراثت میں ملحوظ رکھا ہے۔
اولاد کے علاوہ دیگر قریبی رشتہ دار جیسے والدین، بہن بھائی، اور زوجین کو بھی ترکے میں سے کچھ حصہ ملنا چاہیے، کیونکہ انسان اپنی پرورش، حمایت، معاونت اور رفاقت کے مختلف فوائد ان سے بھی حاصل کرتا ہے۔ اولاد اگر نہ ہو تو ان رشتوں کی قدر اور منفعت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ وہ بہن بھائیوں کو اولاد کی جگہ دیتا ہے، کیونکہ ان سے اسے وہ منفعت متوقع ہوتی ہے جو اولاد سے حاصل ہوتی ہے۔ بہن بھائی بھی نہ ہوں تو والدین، خاص طور پر والد یہ منفعت مہیا کرتا ہے۔ منفعت کی اس ترتیب سے اصل وارث اولاد، پھر بہن بھائی اور پھر والدین بنتے ہیں۔ قرآن مجید کے قانون وراثت میں یہی ترتیب ملحوظ ہے۔
اصل وارثوں میں سارا ترکہ (مابقی) تقسیم ہو جاتا ہے، سوائے یہ کہ ورثا عورتیں ہوں۔ ان کے لیے ترکے میں مخصوص حصے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی کفالت کی ذمہ داری ہے، جسے میت کے بعد خاندن کا جو شخص اٹھاتا ہے، اسے بقیہ ترکے کا حق دار ٹھیرایا گیا ہے۔
زوجین کا تعلق اگرچہ نسبی نہیں مگر رفاقت کے اعتبار سے سب سے قریبی ہے۔ تاہم، یہ تعلق چونکہ اٹل نہیں، طلاق سے ختم ہو سکتا ہے اور شوہر کی وفات کی بعد عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے، اس لیے رفاقت کی منفعت انھیں ایک دوسرے کی وراثت کے ایک حصے کا حق دار تو بناتی ہے مگر اصل وارث نہیں بناتی۔ اس لیے ان کا مقررہ حصہ کل ترکے میں سے دیا جائے گا۔
ترکے میں ورثا کے حصے اگر بلا امتیاز مساوی مقرر کیے جاتے تو عدل کے تقاضے پورے نہ ہوتے۔ مورث کے لیے ورثا کی خدمات، ان کی منتوع ضروریات اور ان کی رفاقت اور کفالت کے منافع یکساں نہیں۔ ان امتیازات کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے حصے مقرر ہونے چاہییں۔ مگر ان حصص کی حتمی اور منصفانہ تقسیم، جو سب کے لیے قابل قبول ہو، انسان کے علم و عقل کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ یہ معاملہ خدا کی طرف سے طے کر دیا جائے تاکہ سچے مومنین خدا کے علم و حکمت پر اپنے ایمان کے سبب اس پر صاد کریں گے اور ان کے دلوں میں دیگر ورثا کے لیے کدورت پیدا نہ ہو۔ نیز، یہ قانون ان کے ایمان و اطاعت کی آزمایش بنے، جس کا نتیجہ انھیں آخرت میں ملے گا۔
جاری۔۔۔


