رجعت پسندی اور ادب/منصور ساحل

کسی بھی معاشرے میں جب رجعتی سوچ کا استعاراتی دیا جلنا شروع ہوتا ہے تو یہ محض سیاسی منشوروں یا معاشی پالیسیوں کی تبدیلی تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ یہ آگ ثقافت، تعلیم، فنون لطیفہ اور بالخصوص ادب کی پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ تاریخ کے صفحات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی رجعت پسندی نے سر اٹھایا وہاں ایک خاص قسم کا ادب پروان چڑھا ایسا ادب جو نہ صرف مقبول ہوا بلکہ اپنی مقبولیت کے زور پر اس رجعتی دور کو مزید تقویت اور دوام بخشتا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ رجعتی عہد اور رجعتی ادب کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم ہو جاتا ہے جسے توڑنا انتہائی مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ رشتہ ایک ایسا خود کار طریقہ کار ہے جو معاشرے کو جمود کی طرف دھکیلتا ہے اور تنقیدی شعور کو مفلوج کر دیتا ہے۔
رجعت پسندی کا تصور محض ماضی کی طرف لوٹنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ نظریاتی اور ثقافتی رویہ ہے جو تبدیلی ترقی اور جدت کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کے ماننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی ایک سنہری دور تھا (چاہے وہ مذہبی، تہذیبی یا سیاسی اعتبار سے ہو ) اور موجودہ تمام تر مسائل کا حل صرف اور صرف اسی ماضی کی اندھی تقلید میں مضمر ہے۔ یہ سوچ جتنی پرکشش نظر آتی ہے اتنی ہی خطرناک بھی کیونکہ یہ پیچیدہ مسائل کے سادہ جوابات دیتی ہےتنقیدی شعور کو غیر فعال کرتی ہے اور فکری سستی کو ایک خوبی کا درجہ دے دیتی ہے۔
ادب اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ ادب عوام کے جذبات خیالات اور تصورات کو تشکیل دینے کی زبردست طاقت رکھتا ہے۔ جب رجعتی دور اپنے عروج پر ہوتا ہے تو معاشرے میں عدم تحفظ، مایوسی اور بے یقینی کے جذبات غالب ہوتے ہیں۔ لوگ مستقبل سے خائف ہوتے ہیں تیز رفتاری سے بدلتی ہوئی دنیا سے تنگ آچکے ہوتے ہیں اور ایسی چیزیں تلاش کرتے ہیں جو انھیں تسلی، سکون اور یقین دلائیں۔ یہ وہ حساس ترین موقع ہوتا ہے جب رجعتی ادب منظر عام پر آتا ہے ایسا ادب جو پرانی روایات اقدار اور نظریات کو خوبصورت اور جذباتی لفظوں میں پیش کرتا ہےجو ماضی کو جنت کی مانند دکھاتا ہے اور حال کی تمام برائیوں کا ذمہ دار “بدعات” اور “مغربی اثرات”(مخصوص معنوں میں)کو ٹھہراتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ رجعتی ادب کی پہچان کیا ہے تو
رجعتی ادب کو عام طور پر چند نمایاں خصوصیات سے پہچانا جا سکتا ہے اور یہ خصوصیات ہی اس کی بے پناہ مقبولیت کا راز بھی ہیں۔
اولا یہ ادب انتہائی سادہ اور سہل ہوتا ہے۔ یہ پیچیدہ فلسفیانہ سوالات سے بچتا ہےابہام اور تضاد کو اپنے اندر جگہ نہیں دیتا اور قاری کو سیدھے سادے مانوس اور محفوظ راستے دکھاتا ہے۔ یہ ادب قاری کی ذہنی توانائی نہیں چھینتا بلکہ اسے آرام دیتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی کشش ہے۔
ثانیا یہ جذباتی اپیل پر زور دیتا ہے۔ یہ قاری کے جذبات کو مخاطب ہوتا ہے اس کے خوف، غصے، مایوسی اور تنہائی کو استعمال کرتا ہے اور اسے ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں سب کچھ سیاہ اور سفید ہے کوئی سرمئی دائرہ نہیں کوئی الجھن نہیں۔ اس دنیا میں اچھے اور برے کی شناخت آسان ہےاور قاری کو خود فیصلہ کرنے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی۔
تیسری یہ ادب تنقید کی بجائے تعظیم، سوال کی بجائے تسلیم اور جدت کی بجائے تکرار کو فروغ دیتا ہے۔ یہ قاری کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ پہلے سے جو جانتا ہے وہی سچ ہے اسے مزید سوچنے یا سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح یہ ادب قاری کے خود اعتمادی کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے اور اسے یقین دلاتا ہے کہ وہ ہمیشہ درست راستے پر تھا۔انہی خصوصیات کی بدولت رجعتی عہد میں رجعتی ادب قبول عام کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ عوام جو تبدیلی کے غیر یقینی سفر سے تھک چکے ہوتے ہیں ایسے ادب کو اپنائیت اور سکون کا ذریعہ پاتے ہیں۔ وہ اسے پڑھتے ہیں اسے سنتے ہیں اسے پھیلاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ ادب ان کی فکری شعور کا لازمی جزو بن جاتا ہے۔ ناشر اس قسم کے ادب کو شائع کرنے پر زیادہ منافع دیکھتے ہیں میڈیا اسے زیادہ جگہ دیتا ہے اور ایوارڈز بھی اسی قسم کی تخلیقات کو ملنے لگتے ہیں۔ چنانچہ ایک ایسا ماحول تخلیق ہو جاتا ہے جہاں رجعتی ادب نہ صرف مقبول ہے بلکہ واحد مقبول صنف بن کر رہ جاتا ہے۔
یہاں وہ خطرناک موڑ آتا ہے جب یہ مقبول رجعتی ادب خود اپنے دور کو دوام بخشنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا فیڈ بیک لوپ ہے جو خود کو مسلسل تقویت دیتا ہے۔ مقبول عام رجعتی ادب لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات مستحکم کرتا ہے کہ ماضی ہی سنہری دور تھا موجودہ مشکلات کا حل صرف پرانے راستوں پر واپسی ہے اور جو لوگ نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کریں وہ گمراہ، ملک دشمن یا بے بنیاد مغرب زدہ ہیں۔خصوصیات کی طرح یہ عمل بھی کئی طریقوں سے رونما ہوتا ہے اور ان طریقوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
پہلا طریقہ یہ ہے کہ رجعتی ادب ایک اجتماعی یاداشت اور شناخت تشکیل دیتا ہے۔ جب لوگ بار بار ایک ہی قسم کی کہانیاں نظمیں اور ناول پڑھتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں ایک خاص قسم کی دنیا بن جاتی ہے ایک ایسی دنیا جو ماضی میں کہیں موجود تھی (چاہے وہ حقیقت میں کبھی موجود ہی نہ ہو) اور جسے وہ واپس لانا چاہتے ہیں۔ یہ ادب ان کے خوابوں، خواہشوں اور خوفوں کو تشکیل دیتا ہے۔ یہ انھیں بتاتا ہے کہ وہ کون ہیں؟ ان کی اصلیت کیا ہے؟اور انھیں کس چیز پر فخر ہونا چاہیے۔ اس طرح یہ ادب ایک جعلی اجتماعی شعور تخلیق کرتا ہے جو رجعتی سوچ کو فطری اور ناگزیر بنا دیتا ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ ادب متبادل بیانیوں اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کا کام کرتا ہے۔ جب مارکیٹ میں صرف رجعتی ادب کو جگہ ملتی ہےجب اسے تمام پلیٹ فارم ملتے ہیں تو تخلیقی،اورجنل اور ترقی پسند ادب کے لیے کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ نئے لکھنے والے جو کچھ نیا کہنا چاہتے ہیں یا تو خود سینسرشپ کا شکار ہو جاتے ہیں اپنے خیالات کو خود ہی دبانے لگتے ہیں یا پھر انھیں کوئی سننے والا نہیں ملتا۔ ناشر انھیں شائع کرنے سے گریز کرتے ہیں میڈیا انھیں نظر انداز کرتا ہے اور قارئین ان سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اس طرح رجعتی ادب ایک ایسا ماحول تخلیق کرتا ہے جہاں تنقیدی سوچ دم توڑ دیتی ہے اور فکری یک رنگی چھا جاتی ہے۔
تیسرا طریقہ تعلیمی نظام سے متعلق ہے۔ جب رجعتی ادب مقبول ہوتا ہے تو تعلیمی نصاب میں بھی وہی شامل کیا جاتا ہے اور وہ بھی بطور بہترین ادب کے۔۔ طلبہ اسی ادب کو پڑھتے ہیں اسی پر پرکھے جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی سوچ بھی اسی ڈگر پر چلنے لگتی ہے۔ اساتذہ ادب جو خود اسی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں متبادل ادب سے یا تو ناواقف ہوتے ہیں یا اسے نصاب میں شامل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یوں رجعتی دور نئی نسل کو اپنے سانچے میں ڈھال لیتا ہے اور اپنے تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔
تاریخ میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں مغرب میں مخصوص عہد میں ایک خاص قسم کا ادب فروغ پایا جو نسل پرستی قوم پرستی اور رہنما کی پرستش پر مبنی تھا۔ اس دور میں بڑے ادیبوں کو جلاوطن ہونا پڑا جبکہ چھوٹے درجے کے رجعتی لکھنے والے قومی ہیرو بن گئے۔ سوویت یونین میں سوشلسٹ حقیقت پسندی نے دہائیوں تک ادب پر غلبہ حاصل کیا یہ بھی اپنی نوعیت کی ایک رجعت پسندی ہی تھی جہاں ایک جھوٹی اور مثالی تصویر پیش کی جاتی تھی اور کوئی بھی حقیقت پسندانہ یا تنقیدی آواز کچل دی جاتی تھی۔
اردو ادب کے مختلف ادوار میں بھی ہم نے یہ رجحان دیکھا۔ جب مذہبی اور قوم پرست رجعت پسندی نے زور پکڑا تو ایسا ادب مقبول ہوا جو ماضی کے تہذیبی اور مذہبی تصورات کو خیالی شکل میں پیش کرتا رہااورحال کی تمام تر خرابیوں کا ذمہ دار مغرب، لبرل ازم، یا جدیدیت کو ٹھہراتا رہا۔
یہاں خطرہ اس وقت عروج پر پہنچ جاتا ہے جب یہ سلسلہ ایک مستقل جمود میں بدل جائے کوئی نئی آواز سننے کو تیار نہ ہو کوئی نیا خیال برداشت کرنے کے قابل نہ رہے اور تنقیدی سوچ کو دشمنی اور ووجوید تضحیک کی نظر سے دیکھا جانے لگے۔ ایسے میں ادب کا اصل مقصد فنا ہو جاتا ہے۔ ادب محض ایک آلۂ تسکین بن کر رہ جاتا ہے ایک نشے کی طرح جو قاری کو حقیقت سے بھگانے کا کام کرتا ہے نہ کہ اس کا سامنا کرنے کا۔
لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنے ادب کا انتخاب شعوری طور پر (اسی تناظر میں)کریں (کیوں کہ یہ ادب شعوری طور پر سامنے لایا جاتا ہے) اور پہچانیں کہ کون سی تحریر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور کون سی ہمیں سوچنے سے بچاتی ہے۔ رجعتی عہد میں رجعتی ادب تو مقبول ہو گا ہی یہ ایک سماجی نفسیاتی حقیقت ہے جسے نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں لیکن دانشوروں ناقدین، اساتذہ، ناشرین اور باشعور قارئین کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمود کے اس چکر کو توڑنے کی بھرپور کوشش کریں۔ انھیں چاہیے کہ وہ متبادل آوازوں کو فروغ دیں تنقیدی اور ترقی پسند ادب کی حوصلہ افزائی کرے اور نوجوان نسل کو یہ سکھائیں کہ ادب کا مقصد آرام دینا نہیں بلکہ سوال کرنا ہے جواب دینا نہیں اور حقیقت کے تلخ پہلو دکھانا ہےنہ کہ ماضی کے میٹھے فریب کی نمائش ۔۔۔۔حقیقیت میں یہ کام آسان نہیں ہےلیکن یہ ضروری ہے۔ ورنہ ادب اور معاشرے کا یہ اتحاد ہمیشہ ماضی کی تاریک گلیوں میں بھٹکاتا رہے گااور ایک روشن جمہوری ترقی پسند اور کھلا مستقبل محض ایک دھوکا اور ایک ناقابل حصول خواب بن کر رہ جائے گا۔۔۔

اپنا تبصرہ لکھیں