اٹلانٹا، امریکہ میں 1946 سے ایک ادارہ CDC یعنی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کام کر رہا ہے۔ ان کی 2021 کی ایک رپورٹ جاری ہوتی ہے جس کے مطابق امریکن آبادی میں ہر 44 میں سے 1 بچہ آٹزم کی علامات کے ساتھ ڈائگنوز ہو رہا ہے۔ اسی ادارے کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق ہر 27 لڑکوں میں سے ایک لڑکا اور ہر 116 میں سے 1 لڑکی آٹزم کے ساتھ ہے۔ اور آج سال 2026 میں کم و بیش یہی ریشو پاکستان میں بھی ہے۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ ہر 50 میں سے ایک بچہ آٹزم کے ساتھ ہے۔
آٹزم کم سے کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ 4 سال تک کی عمر میں اپنی واضح نشانیوں کے ساتھ ظاہر ہو چکا ہوتا ہے۔ آٹزم ہوتا کیا ہے؟ میری وال پر پن کی گئی پہلی تحریر میں بڑی تفصیل سے یہ لکھا ہوا ہے۔
عقل و دانش ان بچوں میں کتنی ہوتی ہے؟
31 فیصد بچے دانشورانہ پسماندگی یعنی Intellectual Disability کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ان میں آئی کیو 70 سے کم ہوتا ہے۔
25 فیصد بچے بارڈر لائن یعنی 71 سے 85 آئی کیو کے درمیان آتے ہیں۔
44 فیصد کا آئی کیو ایورج اور ایورج سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایورج 85 ہے، اس سے اوپر بھی کئی آٹسٹک بچے ہوتے ہیں۔
یہ پوری دنیا میں امیر، غریب، گورے، کالے، ہر نسل اور ہر مالی حیثیت کے بچوں میں ہوتا ہے۔ ہاں، دنیا بھر کے غریبوں میں شناخت یا تو ہو ہی نہیں پاتی یا بہت دیر سے ہوتی ہے۔ پاکستان میں ان بچوں کو جھلا یا سائیں وغیرہ عام دیہاتوں میں کہا جاتا ہے۔
میڈیکل ٹیسٹنگ
اس کی میڈیکل ڈیٹیکشن یعنی میڈیکل ٹیسٹنگ کوئی نہیں ہے۔ بچے کے رویوں کو ہی نوٹ کر کے پروفیشنل آٹزم کی شناخت کرتے ہیں۔ عموماً یہ بچے بات نہیں کرتے، آنکھوں میں نہیں دیکھتے، اپنے آپ میں گم رہتے ہیں اور چڑیا جیسے پروں کو پھڑپھڑاتی ہے ویسے ہی اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہیں۔ خود سے کھانا نہیں کھاتے، کپڑے نہیں بدل سکتے اور اپنی ضرورت کسی کو بتا نہیں سکتے، نہ خود سے پوری کر سکتے ہیں۔
وجوہات کیا ہیں؟
ریسرچز ہمیں بتاتی ہیں کہ اس میں جینیٹکس کا خاصا عمل دخل ہے، مگر کسی مخصوص جین کی میوٹیشن کو فی الحال آٹزم سے منسلک نہیں کیا جا سکا۔
بڑی عمر کے جوڑوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں آٹزم کا رسک زیادہ ہے۔
جس جوڑے کے ہاں ایک آٹسٹک بچہ ہے، 2 سے 18 فیصد تک رسک ہوتا ہے کہ اگلا بچہ بھی آٹزم کے ساتھ ہو سکتا ہے۔
کچھ لوگ بچپن میں دی گئی ویکسینیشن سے اسے جوڑتے ہیں، مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
بے شمار کیسز میں تلاش کے باوجود بھی اس کی وجوہات غیر معلوم ہی رہ جاتی ہیں۔
آٹزم کے ساتھ کون سے مسائل پیش آ سکتے ہیں؟
تقریباً 40 فیصد آٹسٹک بچے بالکل بھی بات نہیں کرتے۔ والدین سپیچ تھراپسٹ کے پاس جاتے ہیں، جبکہ ان کی سپیچ پروڈکشن کا مسئلہ نہیں ہوتا۔
31 فیصد بچے عقل و دانش کی پسماندگی کے ساتھ ہوتے ہیں اور 25 فیصد بارڈر لائن ہوتے ہیں، اس لیے ایسے بچوں کو ذاتی صفائی، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور زندگی گزارنے میں کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
تقریباً 50 فیصد آٹسٹک بچے خود کو انجانے میں نقصان پہنچا لیتے ہیں۔ باہر جائیں تو گم ہو جاتے ہیں، یعنی واپس گھر نہیں آ سکتے۔
تقریباً 33 فیصد بچوں کو پوری دنیا میں برے ناموں، چھیڑ چھاڑ اور دیگر بچوں کی طرف سے تنگ کرنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جسے ہم Bullying کہتے ہیں۔
28 فیصد خود کو زخمی کرنے کا رویہ رکھتے ہیں۔ اگر ان کو نظروں کے سامنے نہ رکھا جائے تو اپنا سر کہیں مار کر زخمی ہو جائیں گے، اپنے ہاتھوں اور بازؤں کو دانتوں سے کاٹیں گے اور اپنی جلد کو ناخنوں اور دانتوں سے ادھیڑ دیں گے۔
علاج کیا ہے؟
امریکہ جیسے ملک میں ایک آٹسٹک بچے کی کیئر پر سالانہ ایورج 60 ہزار ڈالر اخراجات آتے ہیں۔ اور پوری دنیا میں ان بچوں کی تھراپیز اور Intellectual Disability کو ڈیل کرنے میں والدین کی اپنی زندگی اور سرمایہ سب ختم ہو جاتا ہے، مگر یہ سب کر کے ہم نتائج بہت ہی کم حاصل کر پاتے ہیں۔
ہم ان بچوں کو ان کی دنیا سے اپنی دنیا میں لانے کی سعی کرتے ہیں، جو بہت ہی مشکل ہے۔ ایسے بچوں کے دنیا بھر سے والدین پہلے پہل اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے، مگر دس بارہ سال بعد آٹزم کو سمجھنا شروع کرتے ہیں۔
ہم نے ان بچوں کے مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر کرنے کے لیے بس محنت کرنا ہوتی ہے۔ وہ اتنی ہی کر سکتے ہیں جتنی ہماری مالی حیثیت ہے۔ ہم پوری دنیا کے انسان اتنی میڈیکل جدت اور ترقی کے باوجود اسے مکمل طور پر ٹھیک یا ریورس کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
سٹیم سیل تھراپی اور بائیو ریزونینس (Bioresonance) طریقۂ تشخیص آٹزم کے ٹریٹمنٹ میں دنیا کے چند ممالک میں استعمال ہونے لگا ہے، اور کچھ لوگوں کی طرف سے اس کے مثبت نتائج بھی موصول ہو رہے ہیں۔
والدین کو گائیڈ کر دیا جائے یا تھوڑا سا گائیڈ کر دیا جائے اور وہ خود ہی بچے کے ساتھ کام کرنے لگیں، ایسا بہت مشکل ہے۔ پروفیشنلز سالہا سال کی محنت اور نت نئی ایجادات و تحقیقات کے ساتھ کئی قسم کے آٹسٹک بچوں کو ڈیل کرتے ہیں۔ جیسا کام وہ کر سکتے ہیں وہ والدین نہیں کر سکیں گے۔ بات پھر وہی کہ والدین نتائج کا مطالبہ بڑی جلدی کرنے لگتے ہیں، جبکہ سالہا سال کی محنت کے بعد ہم 5 سے 20 فیصد تک کسی ایک دو ایریا کو بہتر بنا پاتے ہیں۔
بچے کو بالکل بھی بغیر کسی تھراپی کے چھوڑ دیں تو سیلف ریگولیٹڈ تھوٹس اور تنہائی اس کی رہی سہی کاگنیشن اور سیلف اویئرنیس بھی ختم کر دیتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت ان بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے بنائے۔ میرا محکمہ سپیشل ایجوکیشن آٹزم کو انرول نہیں کرتا، کیونکہ پوری دنیا میں ان بچوں کو ابتدائی عمر میں ون ٹو ون ٹیچنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ہمارے پنجاب میں تین سو سکولوں میں سٹوڈنٹس ٹیچر ریشو پہلے ہی ایورج سے زیادہ ہے۔ اگر ہم ایک ادارے میں صرف ایک آٹسٹک بچہ بھی داخل کریں تو 300 کوالیفائیڈ اساتذہ بھرتی کرنے پڑیں گے، مگر ہر ادارے میں ایک بچہ تو نہیں ہوگا، پانچ سے دس ایورج میں آئیں گے، اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ یعنی اربوں روپے کا پراجیکٹ ہے۔
مگر حکومت چاہے تو کیا نہیں کر سکتی۔ اور ہم کوشش کریں گے، ان شاءاللہ حکومت پاکستان ضرور ان بچوں کو اون کرے گی۔ والدین سے ملتا ہوں، وہ تو اس مہنگائی کے دور میں اپنا کچن ہی بمشکل چلا رہے ہیں۔ آٹسٹک بچے پر 50 ہزار سے 2 لاکھ ماہانہ کتنے والدین لگا سکتے ہیں؟ سو میں شاید دو چار۔
بڑے شہروں میں پرائیویٹ سکول آٹزم کو ڈیل کرتے ہیں، مگر فیس بہت زیادہ ہے۔ اور نتائج بہت کم ہونے کی بنا پر والدین اپنے شہر کے سب سکولوں میں اپنا بچہ لے جا چکے ہوتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کرواتے، سب فراڈ ہے، پیسے بٹور رہے ہیں، نان پروفیشنل ہیں وغیرہ۔
حالانکہ اس معذوری میں بچوں کی بہتری کے چانس ہوتے ہی بہت کم ہیں۔ اور اس بات کو وہ والدین نہیں مان سکتے جن کے جگر کا گوشہ ان کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہوتے ہوئے بھی اس روشنیوں اور شور کی دنیا سے قطع تعلق کیے ہوئے ہو، اور وہ کسی بھی آواز پر رسپانس نہ کرتا ہو۔


