شریف برادران بارے میرا موقف/ناصر بٹ

کسی اور  کا تو پتہ نہیں مگر مجھے شریف برادران پر پورا اعتماد ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کی بہتری کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں بلکہ پوری خواہش رکھتے ہیں کہ پاکستان کی عوام کو جس قدر ممکن ہو سکے سہولیات مہیا کریں مگر ساتھ ہی میرا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان کے وسائل جتنی اجازت دیتے ہیں وہ اسی قدر عوام کو خوش رکھ سکتے ہیں۔
مجھے اس بات کا بھی سو فیصد یقین ہے کہ اس وقت پاکستان میں ان سے بہتر کوئی ایسی قیادت موجود نہیں جو پاکستان کے پیچیدہ تر معاملات کو انکی طرح حل کرنے کے قابل ہو۔
یہ میرے رائے ہے اور میں اس کے لیے دلائل رکھتا ہوں کسی کی رائے مجھ سے مختلف ہو سکتی ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
میں ان لوگوں میں سے نہیں کہ جو اپنی رائے اس خوف سے نہ دوں کہ مجھے یوتھیائے کتورے پڑ جائیں گے،پپلوتھئیے چیاؤں چیاؤں کریں گے یا خود ن لیگی مجھے سے تکرار کرنے لگیں گے مجھے جو درست لگتا ہے کہتا رہونگا اور ڈنکے کی چوٹ پر کہتا رہونگا۔
مجھے ہنسی آتی ہے کہ کوئی مجھے ن لیگ کا پیڈ لکھاری کہتا ہے اور کوئی کسی عہدے کا طلبگار بلکہ کئی لوگ تو مجھے سینیٹر ناصر بٹ سمجھ کر بھاشن جھاڑ رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ اپنا معاملہ یہ ہے کہ میں سرکار دربار سے کوسوں دور بھاگتا ہوں اور کسی بھی قسم کے فیم کا بھی طلبگار نہیں یہی وجہ ہے کہ باوجود کئی طرف سے پیشکش کے میں کبھی میں سٹریم میڈیا کا رخ نہیں کرتا اپنی تحاریر صرف فیس بک پر لکھتا ہوں آپ کی مہربانی ہے جو مجھے توجہ سے پڑھتے اور پزیرائی بخشتے ہیں۔
شریف برادران پر اپنے اعتماد کی وجہ آپکو بتائی ہے کہ مجھے یقین ہے کہ وہ پاکستان اور عوام کا بھلا چاہتے ہیں اور جان بوجھ کر کبھی عوام کو مشکلات کا شکار نہیں بنائیں گے یہی وجہ تھی کہ میں نے تیل کے مسلے پر یہ کہا تھا کہ تیل کی قیمتیں بڑھانا مجبوری تھی اور جب یہ مجبوری ختم ہو گی تو قیمتیں فوراً واپس ہونگی۔
اس پر کئی لوگ مجھ سے شرطیں لگانا چاہتے تھے کہ ایسا نہیں ہو گا کئی یہ کہتے رہے کہ ایسا کبھی ہوا ہی نہیں ان سب سے گزارش کی تھی کہ ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے بلکہ آئے دن ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہو تو پاکستان میں بھی کم ہوتی ہے۔
خیر ایک دفعہ پھر میرا یقین جیت گیا اور رات وزیراعظم اعظم شہباز شریف نے ڈیزل کی قیمت میں 135 اور پٹرول کی قیمت میں 12 روپے کمی کر دی اور ابھی دو تین دن پہلے بھی پٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کی گئی تھی۔
مجھے معلوم ہے کہ اب کئی لوگ کہیں گے کہ جنگ سے پہلے قیمت 266 روپے تھی اوراب 366 روپے ہے تو کم کہاں ہوئی؟
تو میرا جواب ہے کہ اس وقت بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 96 ڈالر فی بیرل ہے جو کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے 64 ڈالر فی بیرل تھی یہ مزید کم ہو گی تو پاکستان میں بھی تیل کا ریٹ مزید کم ہو گا۔
ان سب باتوں کے بعد میری خدا سے دعا ہے کہ کبھی پاکستان پر ایسی آزمائش نہ ڈالے جیسی ایران پر آئی اور ایران کی قوم برستے بموں کے سامنے کھڑی ہو گئی یہاں تو جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمت بڑھی تو بارہ گھنٹے میں جسطرح کی ہاہا کار مچ گئی تھی اللہ نہ کرے ایران جیسی کوئی افتاد پڑ گئی تو جانے کیا بنے گا باتوں سے البتہ ہم دنیا فتح کرنے میں نمبر ون ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں