متحدہ عرب امارات سے اہل تشیع کا انخلاء: انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ایک لمحہء فکریہ/شیر علی انجم

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جارحیت کے جواب میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات پر جو حملے کیے، ان پر خود امریکی صدر نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایران ہمارے اڈوں کو اس قدر نشانہ بنائے گا۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں تقریباً پچاس ہزار امریکی فوجی اور بیس سے زائد اڈے موجود ہیں۔ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خطاب میں اپنے اتحادیوں سعودی عرب، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات ، قطر اور اردن کا ایران کے خلاف جنگ میں پوری طرح ساتھ دینے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔
دوسری طرف کچھ عرب تجزیہ نگاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے ذریعے خلیجی ممالک کی حفاظت کے لیے جن ممالک نے امریکہ کو اڈے دیے تھے، آج وہی اڈے ان ممالک کی بقا کے لیے خطرہ بن گئے ہیں اور امریکہ ان ممالک پر ایرانی حملے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی زمین استعمال کرتے ہوئے ایران پر مسلسل بمباری روکنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی بجائے تمام غصہ ان ممالک میں قانونی طور پر نوکریاں اور کاروبار کرنے والے اہل تشیع پر نکالا جا رہا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات سرفہرست ہے۔
متحدہ عرب امارات تمام مذاہب کے ماننے والوں کو کھلی آزادی دیتا ہے، مگر اہل تشیع کے ساتھ اس کا رویہ دہائیوں سے ناروا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں دبئی نے پاکستان سے آنے والوں پر دو ملین ڈالر کا ڈپازٹ کا تقاضا کیا، حالانکہ وہ اس رقم پر چھ فیصد سود بھی وصول کر رہا تھا۔ دوسری طرف دبئی مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے 1.4 ٹریلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ جو عالم انسانیت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
دبئی جغرافیائی لحاظ سے تقریباً 4,114 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ایک چھوٹا سا ملک ہے جو صحرا اور سمندر (فارس کی خلیج) پر مشتمل ہے۔ اس کی تعمیر و ترقی مصنوعی جزیروں (جیسے پام جزیرے، ورلڈ آئی لینڈز)، لینڈ ری کلیمیشن اور جدید انفراسٹرکچر پر مبنی ہے، مگر اس کی بنیاد ان غیر ملکی مزدوروں اور کاروباریوں کی محنت پر کھڑی ہے جن میں اہل تشیع بھی شامل ہیں۔
اب جس طریقے سے دبئی کے حکمران اہل تشیع کو بے رحمی سے ڈیپورٹ کر رہے ہیں، وہ یقیناً افسوسناک ہے۔ یہ لوگ دبئی کی تعمیر و ترقی میں حصہ دار رہے ہیں، مگر عقیدے کی وجہ سے ان کی خدمات کو نظر انداز کر کے انہیں غیر انسانی سلوک کے ساتھ واپس بھیجا جا رہا ہے۔ راقم نے دبئی سے واپس آنے والے کئی افراد سے براہ راست ملاقات کی جو مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے براہ راست کال آئی، شناخت مکمل کرنے کے بعد کہا گیا کہ پاسپورٹ اور ٹکٹ تیار کریں اور فلاں وقت تیار رہیں۔ عین وقت پر سرکاری اہلکار کمپنیوں اور رہائش گاہوں پر پہنچ جاتے ہیں، انہیں لے جا کر جیل بھیج دیتے ہیں جہاں موبائل، پرس سب کچھ ضبط کر لیا جاتا ہے اور زیادہ تر لوگوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر رکھا جاتا ہے۔
میرا ایک دوست دبئی میں اہم عہدے پر تھا، وہ بھی واپس آ گیا۔ اس نے بتایا کہ کمپنی کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے گاڑیاں، مکانات اور بینک اکاؤنٹس اس کے نام پر تھے۔ اچانک کال آئی اور شناخت کے بعد جانے کو کہا گیا۔ امیگریشن آفس پہنچا تو دو ہال بھرے لوگ موجود تھے، جن میں کچھ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں۔ پوچھا تو پتا چلا کہ ان کے موبائل سے شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تصویر برآمد ہوئی تھی۔ اس نے درخواست کی کہ گاڑیاں اور جائیداد منتقل کرنے کا وقت دیا جائے، مگر کئی گھنٹے انتظار کے بعد صرف پاور آف اٹارنی دینے کی اجازت ملی۔ ہزاروں کاروباری لوگ ایران، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں اپنی پراپرٹی فروخت کرنے کی مہلت تک نہیں دی جا رہی۔
دیکھا جائے تو متحدہ عرب امارات کے حکمران کا یہ رویہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ عالمی انسانی حقوق کے اعلامیہ (UDHR) کے آرٹیکل 17 کے مطابق کوئی بھی شخص اپنی جائیداد سے arbitrarily (بے جا) محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کے انٹرنیشنل کووننٹ (ICCPR) کے آرٹیکل 13 کے تحت قانونی طور پر موجود غیر ملکی کو صرف قانون کے مطابق اور اپنے خلاف وجوہات پیش کرنے کے حق کے ساتھ ہی ڈیپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 26 کے تحت مذہبی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت ہے۔ اقوام متحدہ کی مائیگرنٹ ورکرز کنونشن اور CERD (Convention on the Elimination of All Forms of Racial Discrimination) بھی مذہبی/فرقہ وارانہ بنیاد پر امتیازی سلوک اور بغیر وجہ کے گرفتاری/ڈیپورٹیشن کی مذمت کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے ماضی میں بھی متحدہ عرب امارات پر پاکستانی شیعہ رہائشیوں کو بغیر الزام، بغیر مقدمہ اور بغیر اپیل کے موقع کے ڈیپورٹ کرنے کی مذمت کی تھی۔ موجودہ صورتحال اسی تسلسل کی حامل ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ کاروباری جائیدادوں اور تنخواہوں کے حقوق کو بھی پامال کرتے ہیں۔
ایران مسلسل کہتا رہا ہے کہ ہم کسی برادر اسلامی ملک کے خلاف نہیں، بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی اڈے ہمارا اصل ہدف ہیں جو خود ان ممالک کی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔ مگر متحدہ عرب امارات کا اہل تشیع کے ساتھ رویہ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اسرائیل سے زیادہ شیعوں سے خوف اور نفرت ہے۔ یہ رویہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا پر اس حوالے سے کوئی خبر نہیں نشر ہو رہی، حالانکہ سوشل میڈیا ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے۔ دبئی سے پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر آنے والے فلائٹوں میں زیادہ تر ڈیپورٹ ہونے والے لوگ ہوتے ہیں۔
راقم نے بلتستان سے تعلق رکھنے والے کراچی میں ایک درجن کے قریب لوگوں سے خصوصی ملاقات کی۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ ہمیں مجرموں کی طرح پکڑ کر بے دخل کیا گیا۔ کمپنیوں میں ہمارے بقاجات، سروس کے حقوق اور دیگر معاملات سب وہیں رہ گئے اور ہمیں بے سروسامان، بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کا یہ رویہ نہ صرف اہل تشیع کے لیے بلکہ انسانی وقار اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ جب خلیجی ممالک خود امریکی اڈوں کی وجہ سے خطرے میں ہیں تو غصہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر نکالنا کیسا انصاف ہے؟ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور پاکستان کی حکومت اس معاملے پر آواز اٹھائیں۔ ورنہ یہ صرف ایک فرقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ تمام تارکین وطن اور مزدوروں کے حقوق کا مسئلہ بن جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں