لبرل دانش کی معاشرتی بیگانگی اور گھناؤنا روپ/عامر شہزاد

ہمارا سیاسی نظریہ تاریخ مرتب کرتا ہے۔ ہمارے کھڑے ہونے کی کتنی اہمیت ہے، اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم کس طرف کھڑے تھے۔
نظریہ پرست انسان، انسان دوست کیوں کر نہیں ہو سکتا، اس بات کو مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ تناؤ نے مزید واضح کر دیا ہے۔
جو تماشہ ہمارے ہاں لگا تھا، اس میں میرے لیے دو آپشن بچے تھے:
لبرل ازم اور انسانیت، اور میں نے انسان ہونا پسند کیا۔
کوئی نظریاتی قلاوہ پہنے بغیر، کسی فکری کھونٹی سے خود کو باندھنے کی بجائے، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جانا—اس فرق کے بغیر کہ مظلوم کا تعلق کس مذہب اور طبقے سے ہے۔
ایک طرف جب نسل کش صیہونی اور ایپسٹین کے خناس تھے تو میرے لیے اپنی سمت متعین کرنا مشکل نہیں رہا۔
لاشوں پر نظریاتی حیوانیت کا مظاہرہ کرنے والے لبرل دوست شاید انہیں استعماریت کو سمجھنے میں وقت لگے، جنہیں ملا کی کالی پگڑی تو نظر آتی ہے، لہو میں رنگی ہوئی داڑھی نہیں۔
جعفر پناہی جیسا بڑا ہدایت کار ملائیت سے لاکھ اختلافات کے باوجود جب ایران واپس آتا ہے کہ اسے اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہو کر سامراجی جارحیت کا سامنا کرنا ہے، تو یہ حقیقت مجھ ایسے طالب علموں پر شرحِ صدر کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے کہ یہ وقت قیام ہے، مقامِ سجدہ ریزی نہیں۔
جنگ کے دنوں میں جو کردار پر انگلی اٹھاتے ہیں، وہ ہمیشہ دشمن کے سہولت کار ہوتے ہیں۔
ایران میں ملا کا کردار اپنی جگہ اہم سوال ہے، مگر موجودہ وقت کا سوال ایران کے خلاف صیہونی اور امریکی جارحیت ہے۔
ایران پر موجودہ صیہونی اور امریکی جارحیت، یہ ملائیت کی تائید یا تردید کی بات نہیں ہے۔
یہ ایک سو ساٹھ بچیوں کے قتل کا سوال ہے، جن سے صرف اس لیے نظر نہیں چرائی جا سکتی کہ وہ عبایا پہنے ہوئے تھیں۔
اور اس غنڈہ گردی کی بات ہے جو امریکی اور صیہونی برسوں سے مشرقِ وسطیٰ میں برپا کیے ہوئے ہیں۔
افسوس ہوا ان لبرلز پر ان دنوں جن کی حالت اس مرغ کی جیسی تھی جو بے وقت بانگیں دیتا ہے اور پھر کھڈی چھری سے ذبح ہو جاتا ہے۔
لیکن پھر بھی استعماری سہولت کاری بے وقت کی بانگ سے زیادہ گھناؤنا فعل ہے۔

اپنی سماجی وراثت سے انکار نے لبرلز کو اس کھائی میں گرا دیا ہے، جہاں ان کا سماج ان کا مخاطب نہیں رہا، ہدف بن گیا ہے۔
یوں ان کی مثال دشمن کے لشکر میں موجود غصے سے سیخ پا سپاہی کی جیسی ہے۔
فطرتاً یہ طبقہ عیب جو ہے، جنہیں اپنے اردگرد سوائے خباثتوں کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔
یہ امن کے دنوں میں جنگ والی کیفیات میں ہوتے ہیں، اور جنگ چھڑ جائے تو ان مباحث کے بند سوراخوں میں انگلیاں دینے لگتے ہیں جن پر صرف سکون کے دنوں میں وقت ضائع کرنا چاہیے۔
یہ اپنے سماج سے بیگانہ ہیں اور کسی پرائی تہذیب کے ہدی خواں ہیں۔
ہمارے ان دوستوں کا بڑا مرض ردِعمل ہے، اور اب تو اس مرض کا اثر ان کی دماغی صحت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ردِعمل کا مرض اپنی اصل میں شدت پسند رجحان رکھتا ہے۔ یوں اس مجبوری کے تحت یہ طبقہ میرے لیے قابلِ رحم بھی ہے۔
مریضوں کے ساتھ حسنِ سلوک ہماری روایات کا حصہ ہے۔
ان کا تمام نظریاتی خول ری ایکشنری ہے، جس پر وہ سینہ چوڑا کر کے صرف چلنے پر اکتفا کرتے تو خیر تھی، یہ اچھلتے اور پھلانگتے پھرتے ہیں۔ بڑی ڈھٹائی سے یہ راگ الاپتے ہیں کہ ہم پاپولر بیانیے سے مختلف سوچتے ہیں، جبکہ مختلف سوچنا نرگسیت تو ہو سکتی ہے، سچائی یا حقیقت کا معیار نہیں۔
ویسے بھی ان کی بقا عوام اور سماج سے مخالف سوچنے میں ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی شناخت ہی سماج مخالف عناصر کے طور پر تشکیل دی ہے۔ یوں فی الحال سماج دشمنی لبرلز کی شناختی مجبوری ہے۔
ایسے میں ضروری نہیں ہے کہ سماجی دھارا غلط سمت پر ہی بہہ رہا ہو۔
ایپسٹین کی فائلیں کھلنے کے بعد جب ان کی درندگی پر غم و غصے کا اظہار ایک عوامی ردِعمل بنا، جو کہ ہونا بھی چاہیے تھا،
لیکن یہ طبقہ ایپسٹین کی مخالفت کی بجائے اپنے ہی سماج کو اپنا خود ساختہ آئینہ دکھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ان کا تمام زورِ قلم اس پر صرف ہو رہا تھا کہ آپ کے مدارس بچہ بازی کا گڑھ ہیں۔
کچھ یاروں نے مشورہ بھی دیا کہ حضور ہم مدارس پر تنقید کرتے رہتے ہیں،
مگر ابھی آپ کا قبلۂ اول بے نقاب ہوا ہے، یہ وقت اس کی طرف تھوکنے کا ہے، اپنے ہی لوگوں کو کوسنے کا نہیں۔
پھر معصومیت کا عالم یہ ہے کہ اپنے نظریات کی پذیرائی کی بھی تمنا رکھتے ہیں۔ یہ تمنا بری نہیں ہے، خدا تمام لبرل دانشوروں کو شہرت کے افق پر بلند مقام عطا فرمائے، لیکن آپ مقبول ہونا کدھر چاہتے ہیں؟
اس عوام میں—مذہب جس کا اوڑھنا، جہالت جس کا بچھونا، گمراہی جس کی سرشت، اور بے شعوری جس کی زندگیوں سے عیاں ہوتی ہے—یہ سب بھی اس لیے کہ وہ اس راگ پر سر نہیں دھنتے جس کے بے سرے سُر آپ الاپتے ہیں۔
عام آدمی کا خدا، جسے ہر وقت آپ اپنی علمیاتی توپ کے سامنے باندھے پھرتے ہیں، اس سے کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ آپ کی بات رواداری سے سنے گا؟ حالاں کہ آپ کو عام آدمی سے تخاطب کی تہذیب سیکھنی ہوگی۔
اور بوتل کے خمار سے نکل کر یہ سوچنا ہوگا کہ شکوہ بے جا بھی ہو تو لازم ہے شعور۔

سماجی تصورات ہمیشہ ارتقا پذیر رہتے ہیں اور ایک وقت کے بعد جب معاشرتی روایات فرسودہ ہو جائیں تو تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
معاشرتی تبدیلی بھی ایک ارتقائی عمل ہے، سماجی رویے ہمیشہ غیر شعوری طور پر تشکیل پاتے ہیں اور غیر محسوس طریقے سے بدلتے ہیں۔
تبدیلی کا سفر کبھی بھی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔
سماجی رویوں اور روایات پر بات کا ہونا، مکالماتی فضا کی تشکیل ضروری ہے۔
لیکن ایک صحت مند پیش رفت تبھی ممکن ہو سکتی ہے جب ہم تجزیہ کرتے ہوئے یہ ذہن نشین رکھیں کہ اپنی تمام فرسودگیوں سمیت یہ سماج ہمارا ہے۔
کیونکہ ہم بھی اسی معاشرے کی وہ اکائی ہیں جو اس کی دانش کی نمائندگی کرتی ہے۔
مگر لبرل دانش کا رویہ سماجی تعمیر سے زیادہ سماج دشمنی کا ہے۔
یہ عجیب قسم کے مغربی آئیڈیلزم کا شکار ہیں جو ہماری زمینی حقیقتوں سے میل نہیں کھاتا۔
روشن خیالی کو موم بتیوں سے دماغ میں روشنی محسوس کرنے سے زیادہ بہتر “بات کہنے کی تہذیب” سے آشنا ہونا ہے۔
اور دور کی تہذیبوں کے تجربات اپنے یہاں کاپی پیسٹ مارنے سے زیادہ ضروری، اپنی زمینی حقیقتوں کے مطابق مقامی انسان کو سمجھنا ہے۔
لبرل دانش کو سوچتے ہوئے بہت سے سوالیہ نشان قائم ہوتے ہیں، جو صرف سوال نہیں رہے، ان کا واضح گھناؤنا رویہ بن گئے ہیں۔
یہ ہمیشہ فلسطینی نسل کشی سے چشم پوشی کریں گے—اس کی اندرونی وجوہات کیا ہیں، اور یہ اسرائیل جیسی نسل پرست صیہونی ریاست کے لیے نرم گوشہ کیوں رکھتے ہیں، یہ معمہ شاید ان کے رات کے پچھلے پہر کے ٹویٹس ہی حل کریں۔
ان کی تمام انسان دوستی کا لمبا بھاشن کبھی بھی فلسطین میں صیہونی جارحیت کو زیرِ بحث نہیں لائے گا۔
شاید اس کی وجہ ان کی عوام کا صیہونیت مخالف مزاج اور فلسطینیوں کا مسلم پس منظر ہے۔
اور یہ ردِعمل کے مرض میں کڑھتے ہوئے کبھی اس طرف رخ نہیں پھیرتے۔
ان کا ردِعمل کا مرض اب ایسا ناسور بن گیا ہے کہ ان کے عوام مخالف جذبات انہیں کبھی بھی فلسطینی مظلوموں کی حمایت پر نہیں ابھاریں گے۔ کھینچ تان کر اگر انہیں مسئلۂ فلسطین پر بٹھا بھی دیا جائے تو ان کی سوئی حماس سے آگے نہیں بڑھے گی۔
حماس فلسطین نہیں ہے، فلسطین وہ بچے ہیں جو کبھی جوان نہیں ہو پاتے۔

یہ روشن خیال جتھا کبھی بھی استعماریت اور نوکالونیل ازم پر بات نہیں کرے گا۔
یہ مغرب کو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا ایک مغربی عورت انہیں گھٹنوں سے تھوڑا اوپر اور نیچے تک دکھائی دیتی ہے۔
میں اچھا گمان کرتے ہوئے کہہ دیتا ہوں کہ موصوفین کو استعماری شعور نصیب نہیں ہو سکا۔
اور لحاظ کرتے ہوئے یہ کہنے سے اجتناب کر رہا ہوں کہ یہ استعمار کے فکری سہولت کار اور کالونیل مشین کے پرزے ہیں۔
سامراجی قوتوں کی معاشی دہشت گردی، دنیا بھر میں جارحیت اور مذہب کی ریڈیکلائزیشن،ان کی جائے بلا سے۔

ان کو میرا ردِعمل کا مریض کہنا اس بات کو تقویت اس پہلو سے بھی ملتی ہے کہ
ان کی مذہبی مخالفت صرف اس مذہب تک محدود ہے جس کا یہ پس منظر رکھتے ہیں۔
یہ مکالمے کے نام پر پیدائشی مذہب کو ہمیشہ ٹارگٹ کرتے ہوئے ملیں گے۔
اور کبھی بھی مذہب کے سماجی کردار کو تسلیم نہیں کریں گے۔
نظریہ پرستی کی حالت یہ ہے کہ ہر وقت نظریاتی بوریاں اپنے سر پر اٹھائے پھرتے ہیں اور جو دوسرا وہ بوجھ اٹھانے سے انکار کرے، وہ ان کے نزدیک جہالت کے مطلق مقام پر فائز ہوتا ہے۔

ایک دعویٰ جو اس قبیل کے تمام افراد کا مشترکہ ہے کہ ہم غیر متعصب اور غیر جانبدار تجزیہ کرتے ہیں۔
شاید انہوں نے اپنی دانست میں خود ہی یہ طے کر لیا ہے کہ ہم غیر متعصب بھی ہیں اور غیر جانبدار بھی۔
جبکہ ہم جو ایک مدت سے ان کے قاری ہیں، ان کے لہجوں کی منفیت سے یہ حساب لگائے بیٹھے ہیں کہ کتنے بیس کا سو ہوتا ہے۔

لبرل دانش اپنے سماج سے عجیب طرح کی بیگانگی میں مبتلا ہے۔
اب اونٹ اس کروٹ بیٹھ گیا ہے کہ معاشرتی تعمیر سے زیادہ سماجی رویوں پر تنقیص ان کا محبوب مشغلہ ہے۔
عوام کی فکری نمائندگی اور شعوری ترتیب دانشور کی ذمہ داری ہے۔
اور جو دانشور سماج سے بیگانہ ہو کر قومی ارتقائی سفر کی قیادت یا اس میں شمولیت کی بجائے سماج دشمن عناصر میں شامل ہو جائے، وہ ننگا دانشور ہوتا ہے،
جو ایک تخریبی انرجی بن کر تہذیبی ناسور بن جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں