لیڈر بننے کا سفر استقامت: مشکل وقت میں قیادت کی پہچان(17)-مصور خان

قیادت کا اصل امتحان آسان حالات میں نہیں بلکہ مشکلات اور آزمائشوں کے وقت ہوتا ہے۔ جب حالات سازگار ہوں، وسائل دستیاب ہوں اور راستہ ہموار ہو تو ہر شخص خود کو لیڈر ثابت کر سکتا ہے، مگر جب رکاوٹیں بڑھ جائیں، راستے بند ہونے لگیں اور امیدیں مدھم پڑنے لگیں، تب استقامت ہی وہ صفت ہے جو ایک سچے لیڈر کو نمایاں کرتی ہے۔ استقامت دراصل ثابت قدمی، حوصلے اور اپنے مقصد سے وابستگی کا نام ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو لیڈر کو حالات کے سامنے جھکنے کے بجائے ڈٹ کر کھڑے رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
استقامت کا مطلب صرف مشکلات برداشت کرنا نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد جاری رکھنا ہے۔ ایک لیڈر کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقتی ناکامیوں سے مایوس نہ ہو بلکہ انہیں سیکھنے کا ذریعہ بنائے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑی کامیابیاں ہمیشہ طویل جدوجہد اور استقامت کے بعد حاصل ہوتی ہیں۔ جو لیڈر جلد ہمت ہار جائے، وہ نہ خود کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ ہی اپنی قوم کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی زندگی استقامت کی ایک بے مثال مثال ہے۔ مکہ کے دور میں آپ ﷺ کو شدید مخالفت، ظلم اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ طائف میں لہو لہان ہونے کا واقعہ ہو یا سماجی و معاشی بائیکاٹ، ہر مرحلے پر آپ ﷺ نے صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا، مگر اپنے مشن سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے۔ یہی استقامت تھی جس نے ایک کمزور معاشرے کو ایک مضبوط اور متحد امت میں بدل دیا۔
برصغیر میں خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی زندگی استقامت کا روشن باب ہے۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کے دوران تقریباً 35 سال سے زائد عرصہ مختلف جیلوں میں گزارا، مگر اپنے اصول—عدم تشدد، امن اور اصلاح—سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہ ہٹے۔ ان کی ثابت قدمی اس بات کا ثبوت ہے کہ سچی قیادت طاقت سے نہیں بلکہ صبر اور اصولوں پر ڈٹے رہنے سے جنم لیتی ہے۔
پاکستان کی معاصر تاریخ میں بشیر احمد بلور(Bashir Ahmad Bilour)اور  میاں افتخار حسین کی (Mian Iftihar Hussain)کی قیادت استقامت کی ایک زندہ مثال ہے۔ 2008 کے بعد جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اپنے عروج پر تھی، تب یہ دونوں رہنما اپنے عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے۔ بشیر احمد بلور نے دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ میاں افتخار حسین نے اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی دینے کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔ ان کی یہ استقامت ثابت کرتی ہے کہ سچا لیڈر مشکل ترین حالات میں بھی اپنے عوام کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔
تاریخ میں  میاں محمد نواز شریف (Nawaz Sharif)کی قیادت بھی استقامت کی ایک اہم مثال پیش کرتی ہے۔ 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے شدید دباؤ اور پابندیوں کی دھمکیاں دی گئی لیکن اس نازک وقت میں انہوں نے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ قدم استقامت اور خودمختاری کی ایک نمایاں مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
عالمی سطح پر  ہو چی منہ(Ho Chi Minh) کی قیادت استقامت کی ایک عظیم مثال ہے۔ انہوں نے ویتنام کی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی، بڑی طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور شدید مشکلات کے باوجود اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔ ان کی استقامت نے ایک کمزور قوم کو مضبوط بنایا اور آزادی کی راہ دکھائی۔
اسی طرح  ونسٹن چرچل(Winston Churchill) کی قیادت بھی استقامت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب برطانیہ شدید دباؤ اور خطرات کا شکار تھا، چرچل نے اپنی قوم کا حوصلہ بلند رکھا اور کسی بھی قیمت پر ہار نہ ماننے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کی قیادت نے نہ صرف قوم کو متحد رکھا بلکہ مشکل ترین حالات میں بھی مزاحمت اور حوصلے کی مثال قائم کی۔
استقامت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ لیڈر اپنی قوم کو مایوسی سے بچائے۔ مشکل حالات میں لوگ اپنے لیڈر کی طرف دیکھتے ہیں۔ اگر لیڈر خود کمزور پڑ جائے تو پوری قوم کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر اگر لیڈر ثابت قدم رہے تو وہ دوسروں کے لیے امید کی کرن بن جاتا ہے۔ اسی لیے ایک سچا لیڈر صرف خود نہیں لڑتا بلکہ دوسروں کو بھی حوصلہ دیتا ہے۔
آج کے دور میں استقامت کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ لوگ جلد نتائج چاہتے ہیں اور جب فوری کامیابی نہیں ملتی تو ہمت ہار جاتے ہیں۔ یہی رویہ قیادت کو کمزور کر دیتا ہے۔ ایک سچے لیڈر کو چاہیے کہ وہ طویل المدتی سوچ اپنائے اور مشکلات کے باوجود اپنے مقصد پر قائم رہے۔
میری ناقص رائے کے مطابق استقامت وہ صفت ہے جو ایک عام انسان کو غیر معمولی لیڈر بنا دیتی ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو ناکامی کو کامیابی میں بدل دیتی ہے اور مشکلات کو مواقع میں تبدیل کر دیتی ہے۔ ایک لیڈر جو استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ نہ صرف خود کامیاب ہوتا ہے بلکہ اپنی قوم کو بھی کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ استقامت قیادت کی روح ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو لیڈر کو ہر حال میں مضبوط رکھتی ہے اور اسے اپنے مقصد تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو قیادت کو وقتی کامیابی سے نکال کر دائمی عظمت تک پہنچاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں