پچاس سال سے ایران-امریکہ دشمنی موجود ہے، تاریخ کے بوجھ کے ساتھ ساتھ حالیہ جنگ میں خامنہ ای اور دیگر سینئر قیادت کی شہادت اور انتہائی جانی و مالی نقصان کی موجودگی میں اگر کسی کو یہ خوش فہمی تھی کہ ایک دن کے مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ہنستے ہنستے معاہدے کا اعلان ہو گا، تو یہ سادگی ہے۔ ہاتھوں سے لگائی اب دانتوں سے کھولنی ہیں۔ خوش آئند یہ ہے کہ مذاکرات کی “ناکامی” کا لفظ طرفین نے استعمال نہیں کیا اور ابھی بھی فریقین کے کچھ لوگ اسلام آباد میں موجود گفتگو کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کیلئے یہ بڑی کامیابی ہے کہ ایک ملک جسے دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کی کوشش کئی ممالک کرتے رہے، امن کے سفیر کے طور پہ اپنی حیثیت مستحکم کر گیا ہے۔ وہ آگ جس میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کئی بڑے بڑے ملک گھبرا رہے تھے، پاکستان نے ہاتھ جھلسائے بنا اسے بجھانے کی اپنی سی کوشش کی۔ تنازعہ جو بھی شکل لے گا، جنگ میں خود کو اہم فوجی طاقت منوانے کے بعد اب پاکستان نے خود کو امن کے ثالث کے طور پہ بھی منوا لیا ہے اور اس تنازعے کے فٹ نوٹ میں ہمیشہ اس حیثیت میں رہے گا۔
آنے والا وقت البتہ نازک ہے۔ اگرچہ فریقین کے الفاظ، چہرے اور باڈی لینگوئج کسی ناکام مذاکرات والی فرسٹریشن کا اظہار نہیں کر رہے لیکن اس وقت کم از کم تین ممالک اس جنگ کے دوبارہ آغاز اور ایران کی مکمل بربادی کے شدید متمنی ہیں۔ ایسے میں ممکن ہے کہ نار نمرود بھڑک اٹھے اور سوائے کسی امر ربی کے بجھ نہ پائے، بھلے بھڑکانے والے خود بھی بھسم ہو جائیں۔ ایک ڈوبتی ہوئی عالمی طاقت ہمیشہ فرسٹریشن کا شکار ہوتی ہے اور غلط فیصلے کرتی ہے (جیسا کہ برطانیہ نے کئیے تھے) بالخصوص جب آپ کے اردگرد “شرارتی مشیر” افراد اور ریاستوں کی صورت موجود ہوں۔
پاکستان کا بطور ریاست اور پاکستانیوں کا بطور قوم ایسی صورت میں سخت امتحان ہو گا۔ مہنگائی کی شدت حکومت کو مجبور اور عوام کو بے بس کر دے گی۔ دوسری جانب بطور ریاست ہم پر ایران پہ زمینی حملہ کیلئے راہداری دینے کا دباؤ بھی بڑھے گا جسے شاید ہم سنبھال لیں۔ مگر سب سے نازک معاملہ ایران-سعودی معاملہ ہو گا۔ پاکستان کی کوششوں سے سعودی اس جنگ میں انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی ایران سے فقط ایک فرمائش رہی ہے کہ وہ ہمارے دفاعی پارٹنر پہ حملوں سے باز رہے اور ہمیں مشکل میں نہ ڈالے۔ ایسے میں جب ایرانی حکومت اور عوام پاکستان کے کردار پہ ممنون اور تشکر کے نعرے لگا رہے ہیں، امید ہے کہ ایرانی حکومت پاکستان کی اس درخواست کو سنجیدگی سے لے گی اور اپنے ان “بدمعاش عناصر” کو بھی قابو رکھے گی جو شاید قیادت کی منظوری کے بغیر بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ایران ہمارے تمام تر خلوص کے باوجود بھی اس واحد درخواست کو ماننے میں ناکام رہا تو پاکستان کو شاید پاک-سعودی دفاعی معاہدے کے مطابق کردار ادا کرنا پڑے اور وہ بے قصور ہو گا۔
اس تمام میں ہمیں ضرورت ہے کہ اب ہم ناصرف بطور ریاست بلکہ بطور پاکستانی شہری بھی پاکستان کو مقدم رکھیں۔ اس وقت ہر قسم کی سیاسی و مسلکی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہمیں بطور قوم متحد رہنا پڑے گا۔ بہت سے ممالک و عناصر کی دلی خواہش ہے کہ اس تنازعے میں پاکستانی قوم تقسیم کا شکار ہو کر ایک آسان ہدف بنے اور وہ فائدہ اٹھا جائیں۔ ہمیں اس وقت اپنی ریاست کی فہم، ارادے، کردار اور فیصلوں پہ مکمل اعتماد کرنا ہو گا کہ وہ پاکستان کے بہترین مفاد میں ہی ہیں۔ اگر ہم کسی بھی وجہ سے اس وقت تقسیم کا شکار ہونے یا ریاست کو کمزور کرنے کا باعث بنے تو شاید اس تنازعے کے اختتام پہ سب سے زخمی فریق ہم ہوں گے۔


