پاکستان کو درپیش موسمیاتی آفات کا سلسلہ اب کوئی وقتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک مسلسل حقیقت بن چکا ہے۔ ہر سال کہیں سیلاب گھروں کو بہا لے جاتا ہے اور کہیں پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے پھٹنے کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔ ماضی میں ہمارا طرزِ عمل زیادہ تر ردِعمل پر مبنی رہا، یعنی نقصان ہونے کے بعد امداد پہنچائی گئی۔ مگر اب آہستہ آہستہ ایک نئی سوچ جنم لے رہی ہے جس کا مرکز یہ ہے کہ نقصان ہونے سے پہلے اقدام کیا جائے۔ اسی سوچ کو ایک منظم شکل دینے کے لیے Integrated Risk Informed Systems for Anticipatory Action (IRIS) جیسے اقدامات سامنے آ رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پیشگی اقدامات کا تصور اب قومی اور صوبائی نظاموں میں جگہ بنا رہا ہے۔
ملتان اور پشاور میں اس منصوبے کا آغاز محض ایک رسمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہم محض ہنگامی امداد تک محدود رہنے کے بجائے حکمرانی کے ڈھانچے میں پیشگی اقدامات کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جرمن حکومت کی معاونت، GIZ کے ذریعے، اور World Food Programme کے اشتراک سے اس منصوبے کا مقصد ایسے نظام وضع کرنا ہے جو خطرات کی پیشگی معلومات کو بروقت عملی اقدام میں تبدیل کر سکیں۔ اسی طرح Act International جیسے شراکت دار اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ انسانی ہمدردی کی مہارت کو قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
اس پورے تصور کی بنیاد نہایت سادہ مگر مؤثر ہے۔ پاکستان میں آنے والی آفات اکثر اچانک نہیں ہوتیں بلکہ ان کے آثار پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے علاقے، خصوصاً راجن پور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان، دریائے سندھ کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے ہر سال سیلابی خطرات کا سامنا کرتے ہیں، جن پر بالائی علاقوں خصوصاً سرحد پار بہنے والے پانی کا بھی اثر ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ہماری روایتی حکمتِ عملی یہی رہی کہ کارروائی اس وقت کی جائے جب نقصان ہو چکا ہو۔ شمالی علاقوں جیسے چترال اور سوات میں صورتحال مختلف ضرور ہے مگر خطرہ اتنا ہی سنگین ہے، جہاں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلابوں کا اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں بھی خطرے کی علامات پہلے سے موجود ہوتی ہیں، مگر نظام ہمیشہ بروقت حرکت میں نہیں آ پاتے۔
IRIS اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے، جہاں ابتدائی وارننگ کو عملی اقدام سے جوڑا جا رہا ہے۔ مربوط خطراتی تجزیہ، بہتر ڈیٹا سسٹمز اور پہلے سے طے شدہ اشاریوں کے ذریعے یہ منصوبہ اس قابل بناتا ہے کہ پیش گوئی کی بنیاد پر امداد بروقت فراہم کی جا سکے۔ یہاں نقد امداد کا کردار خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پیشگی اقدامات کا مطلب صرف خطرے کی پیش گوئی نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ کمزور طبقات تک مدد اس وقت پہنچے جب وہ ابھی نقصان سے بچ سکتے ہوں۔ اس طرح سوشل پروٹیکشن کے نظام کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ساتھ جوڑ کر نقد امداد کو بحران سے پہلے فراہم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

اس ضمن میں National Disaster Management Authority جیسے قومی اداروں کی شمولیت نہایت اہم ہے۔ پیشگی اقدامات کو وقتی منصوبوں سے نکال کر مستقل نظام کا حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ یہ ریاستی ڈھانچے میں جڑ پکڑیں۔ اس کے لیے مختلف سطحوں پر ہم آہنگی، ذمہ داریوں کی واضح تقسیم، اور اس بات کا حوصلہ درکار ہے کہ فیصلے صرف نقصان کے بعد نہیں بلکہ خطرے کے امکان پر بھی کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اعتماد کا عنصر بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، چاہے وہ فیصلہ سازوں کا ہو یا ان کمیونٹیز کا جو ان نظاموں پر انحصار کریں گی۔
اس تبدیلی میں ڈونرز کا کردار بھی کلیدی ہے۔ جرمن حکومت کی معاونت صرف مالی تعاون تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک سوچ کی نمائندگی کرتی ہے جس میں ردِعمل کے بجائے پیش بندی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جب مالی وسائل محدود ہوں، یہ سرمایہ کاری طویل المدتی استحکام کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے اور ادارہ جاتی مضبوطی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔
عملی سطح پر World Food Programme کا کردار اس وژن کو حقیقت میں بدلنے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ نقد امداد کے وسیع تجربے اور مؤثر ترسیلی نظام کے ذریعے یہ ادارہ نہ صرف تکنیکی مہارت فراہم کرتا ہے بلکہ زمینی سطح تک رسائی بھی یقینی بناتا ہے۔ دوسری جانب ACT International جیسے شراکت دار مقامی سطح پر رابطے اور کمیونٹی شمولیت کو مضبوط بناتے ہیں تاکہ پیشگی اقدامات محض کاغذی نہ رہیں بلکہ عملی شکل اختیار کریں۔
تاہم اس پورے عمل کی کامیابی کا دارومدار صرف نظام یا شراکت داری پر نہیں بلکہ تسلسل پر ہے۔ پیشگی اقدام کے لیے نظم و ضبط درکار ہوتا ہے، جہاں فیصلے تاخیر کے بجائے ڈیٹا کی بنیاد پر کیے جائیں اور وسائل اس وقت فراہم کیے جائیں جب خطرہ ظاہر ہو، نہ کہ جب نقصان ہو چکا ہو۔ یہ دراصل ایک فکری اور عملی تبدیلی ہے جسے اپنانا آسان نہیں مگر ناگزیر ہے۔
جنوبی پنجاب اور شمالی علاقوں کے لوگوں کے لیے اس کا مطلب نہایت واضح ہے۔ اگر سیلاب سے پہلے نقد امداد مل جائے تو ایک خاندان اپنے مویشی محفوظ مقام پر منتقل کر سکتا ہے، خوراک ذخیرہ کر سکتا ہے یا اپنے گھر کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بروقت مدد لوگوں کو ممکنہ خطرات کے لیے تیار ہونے یا محفوظ مقام پر منتقل ہونے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ فوائد محض نظری نہیں بلکہ عملی ہیں، جو نقصانات کو کم کرنے اور انسانی وقار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
IRIS جیسے اقدامات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ پاکستان اب آہستہ آہستہ اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ بحران کا مقابلہ صرف بعد میں نہیں بلکہ پہلے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس سوچ کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ ملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے پورے تصور کو بدل سکتی ہے، جہاں آفات کو محض برداشت کرنے کے بجائے ان کا پیشگی مقابلہ کیا جائے۔
آخرکار، پیشگی اقدام صرف ٹیکنالوجی یا پیش گوئی کا نام نہیں بلکہ ایک نیت کا اظہار ہے۔ یہ اس عزم کی علامت ہے کہ ہم ردِعمل کے بجائے تیاری کو ترجیح دیں اور کمزور طبقات کو اپنی حکمتِ عملی کے مرکز میں رکھیں۔ IRIS جیسے اقدامات، ڈونرز کی معاونت اور تجربہ کار اداروں کی شراکت کے ساتھ، پاکستان کو اسی سمت میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یہ کوششیں وقتی منصوبوں سے نکل کر مستقل نظام کا حصہ بن پاتی ہیں یا نہیں۔
کالم نگار سابقہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہلال احمر پاکستان ہیں اور انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک اور دیگر بین الاقوامی انسانی اداروں کے ساتھ بطور مشیر کام کیا ہے۔ ان کے مضامین انسانی خدمات کے نظام، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی پالیسی پر مرکوز ہیں۔


