ہمارے ہاں ایک متضاد طرزِ فکر ہمیشہ سے پروان چڑھتا رہا ہے۔بچپن سے یہ تصور ہمارے ذہنوں میں ڈالا جاتا ہے کہ دولت سکون نہیں دیتی، امیر لوگ بے چین ہوتے ہیں، ان کی نیند گولیوں کی محتاج ہوتی ہے اور دوسری طرف عملی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص پیسے کے حصول کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ سوال یہ ہے کہ سچ کیا ہے؟ کیا واقعی دولت سکون چھین لیتی ہے یا یہ محض ایک تسلی بخش کہانی ہے جو محرومی کو برداشت کرنے کے لیے گھڑ لی گئی ہے؟ ایک معروف کہانی یاد آتی ہے۔۔۔لومڑی اور انگور کی۔ جب لومڑی بار بار کوشش کے باوجود انگور حاصل نہیں کر پاتی تو آخر میں کہتی ہے کہ انگور تو ویسے ہی کھٹے تھے۔ یہی رویہ ہم میں بھی نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں پھیلائی جانے والی یہ سوچ اکثر ایک دفاعی نفسیات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب انسان کسی چیز کو حاصل نہیں کر پاتا تو وہ اس چیز کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اپنے دل کو مطمئن کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ غریب طبقے میں یہ جملہ عام ہے کہ “پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا” جبکہ وہی شخص اگر موقع ملے تو بہتر زندگی، اچھی سہولیات اور مالی آسودگی حاصل کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔
اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ موجودہ دور میں پیسہ ایک بنیادی ضرورت سے بڑھ کر ایک طاقت بن چکا ہے۔ یہ طاقت نہ صرف انسان کو بہتر خوراک، تعلیم، علاج اور رہائش فراہم کرتی ہے بلکہ اسے ایک باوقار زندگی جینے کا موقع بھی دیتی ہے۔ وہ شخص جو روزانہ یہ سوچ کر سوتا ہے کہ کل بچوں کے لیے روٹی کہاں سے آئے گی، وہ سکون کی نیند کیسے سو سکتا ہے؟ اس کے مقابلے میں وہ شخص جس کے پاس وسائل موجود ہیں، کم از کم بنیادی پریشانیوں سے آزاد ہوتا ہے۔لیکن یہاں ایک اہم نکتہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پیسہ سکون کا ذریعہ ضرور ہے، لیکن سکون کی ضمانت نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے تمام امیر لوگ مطمئن اور خوشحال ہوتے جبکہ حقیقت اس کے برعکس بھی نظر آتی ہے۔ بے شمار ایسے افراد ہیں جن کے پاس دولت کی فراوانی ہےلیکن اندرونی سکون ناپید ہے ، اپنوں سے فاصلے بڑھ گئے ہیں اور زندگی بے مقصد محسوس ہوتی ہے۔
اصل مسئلہ پیسے کا نہیں۔۔۔ بلکہ اس کے استعمال اور اس کے ساتھ جڑے نظریات کا ہے۔ اگر دولت کو صرف عیش و عشرت، نمود و نمائش اور دوسروں پر برتری کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ سکون کے بجائے مزید بے چینی پیدا کرتی ہے۔ لیکن اگر یہی دولت محنت، دیانت اور حلال ذرائع سے حاصل کی جائے اور اسے اعتدال کے ساتھ خرچ کیا جائے تو یہ نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔اسلام بھی اسی متوازن سوچ کی تعلیم دیتا ہے۔ دین اسلام دولت کے خلاف نہیں بلکہ ناجائز طریقے سے حاصل کی گئی دولت کے خلاف ہے۔ حلال رزق کمانا نہ صرف جائز بلکہ عبادت کے درجے میں آتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین رزق وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھ کی محنت سے کمائے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو خود کفیل، محنتی اور باوقار دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ محتاج اور احساسِ کمتری کا شکار۔یہاں ہمیں اپنی سوچ کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں کو یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ امیر ہونا بری بات ہے، بلکہ یہ سکھانا چاہیے کہ امیر کیسے بننا ہے اور کس طرح بننا ہے۔ انہیں یہ بتانا چاہیے کہ دولت کمانا کوئی گناہ نہیں، لیکن کسی کا حق مار کر یا غلط راستہ اختیار کر کے دولت جمع کرنا یقیناً تباہی کا راستہ ہے۔
معاشرتی طور پر بھی ہمیں اس منافقت سے نکلنا ہوگا جہاں ہم ایک طرف امیروں کو برا کہتے ہیں اور دوسری طرف خود ویسا بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے معاشی مضبوطی ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی مضبوطی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ایک اور پہلو جس پر غور کرنا ضروری ہے وہ حسد اور موازنہ ہے۔ اکثر لوگ دوسروں کی خوشحالی دیکھ کر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ یہ سب ناجائز طریقے سے حاصل کیا گیا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف منفی ہے بلکہ انسان کو اپنی ترقی سے بھی روک دیتی ہے۔ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ ہر کامیاب شخص بددیانت نہیں ہوتا، بہت سے لوگ اپنی محنت، لگن اور مستقل مزاجی سے آگے بڑھتے ہیں۔ہم دوسروں کو نیچا دکھانے کے بجائے خود کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ اگر کوئی شخص ہم سے زیادہ کامیاب ہے تو ہمیں اس سے سیکھنا چاہیے نہ کہ اس پر الزام تراشی کرنی چاہیے۔ یہی رویہ ہمیں آگے لے جا سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ غربت صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ مسلسل محرومی انسان کی سوچ کو محدود کر دیتی ہے، اس کے خواب چھوٹے کر دیتی ہے اور اسے ایک دائرے میں قید کر دیتی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ “پیسہ سکون نہیں دیتا” ایک ادھورا سچ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ پیسہ بنیادی سکون فراہم کرتا ہے، لیکن مکمل سکون کے لیے ایمان، قناعت اور شکر ضروری ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بعض اوقات یہ تصور پیدا کر دیا جاتا ہے کہ سکون صرف عبادات میں ہے اور دنیاوی وسائل کی کوئی اہمیت نہیں۔ بلاشبہ نماز، ذکر اور عبادات انسان کے دل کو سکون دیتی ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دنیاوی ضروریات کو نظر انداز کر دیں یا دوسروں پر یہ حکم لگانا شروع کر دیں کہ کون کتنا دیندار ہے۔ ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم کسی کے ایمان یا عبادات کا فیصلہ کریں۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص بظاہر کمزور نظر آئے لیکن اللہ کے نزدیک اس کا مقام بہت بلند ہو، کیونکہ وہ لوگوں کی مدد کرتا ہو یا خلوصِ نیت سے زندگی گزار رہا ہو۔اسلام ہمیں یہی توازن سکھاتا ہے۔ ایک طرف محنت اور رزقِ حلال کی ترغیب، دوسری طرف قناعت اور شکر کا درس۔ اگر انسان کے پاس دولت ہو مگر شکر نہ ہو تو وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا اور اگر شکر ہو مگر وسائل نہ ہوں تو زندگی مشکل ضرور ہوتی ہے مگر دل میں ایک عجیب سا اطمینان رہتا ہے۔لہٰذا درست راستہ یہ ہے کہ ہم دونوں چیزوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ نہ تو دولت کو مکمل طور پر رد کریں اور نہ ہی اسے زندگی کا واحد مقصد بنائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، محنت کریں، حلال طریقے سے کمائیں، اور اپنی ضروریات کے ساتھ ساتھ دوسروں کی مدد بھی کریں۔ سکون کا تعلق صرف جیب سے نہیں بلکہ دل سے بھی ہے۔ پیسہ ضروری ہے۔۔۔لیکن کافی نہیں۔ اصل سکون اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان کے پاس حلال رزق ہو، دل میں اطمینان ہو اور زندگی میں مقصد ہو۔ یہی وہ توازن ہے جو ہمیں نہ صرف ایک کامیاب بلکہ ایک باوقار اور مطمئن انسان بنا سکتا ہے۔اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم پرانی سوچ کے قیدی بنے رہنا چاہتے ہیں یا ایک تعمیری اور حقیقت پسندانہ راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ سکون نہ صرف کمائی میں ہے بلکہ کمائی کے طریقے اور نیت میں بھی پوشیدہ ہے۔


