پنجاب کی دھرتی نے وارث شاہ، میاں محمد بخش، بابا بلھے شاہ اور بے شمار ایسے لوگ پیدا کیے جنہوں نے لفظوں کو صرف لکھا نہیں بلکہ جیا بھی۔ پنجاب کے کھیت، پہاڑ، بارشیں، اداس شامیں، میلوں کی رونقیں اور دیہات کی سادگی انسان کے اندر ایک خاص کیفیت پیدا کرتی ہیںاور یہی کیفیت کبھی گیت بنتی ہے، کبھی دوہڑا اور کبھی غزل۔انہی محبت بانٹنے والے لوگوں میں ایک نام چکوال کے گاؤں بڈھیال سے تعلق رکھنے والےمعروف پنجابی شاعر عمران نواز گوندل کا بھی ہے، جنہوں نے اپنی مادری زبان، اپنے لہجے اور اپنی دھرتی سے محبت کو شاعری کی صورت میں زندہ رکھا ہوا ہے۔عمران نواز گوندل اُن شاعروں میں شامل ہیں جن کی شاعری محض لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ زندگی کے مشاہدے کا عکس محسوس ہوتی ہے۔ اُن کی گفتگو میں بھی ایک سادگی، خلوص اور مٹی کی خوشبو نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ اُن لوگوں میں سے ہیں جو شہرت کے شور سے دور مگر احساس کے بہت قریب ہوتے ہیں۔
عمران نواز گوندل چکوال سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے ایک حساس اور خوبصورت لب و لہجے کے شاعر ہیں، جن کی ادبی زندگی کا آغاز موسیقی سے محبت کے ذریعے ہوا۔ بچپن ہی سے ریڈیو سننے کا شوق تھا اور اُس دور کے پنجابی، پاکستانی اور اردو پروگرام اُن کی دلچسپی کا مرکز رہے۔ فرمائشی گیتوں کی نشریات اور پرانے گیت سنتے سنتے موسیقی سے ایک گہرا تعلق پیدا ہوگیا۔ بعد ازاں لتا منگیشکر، محمد رفیع، مکیش اور طلعت محمود جیسے عظیم فنکاروں کی آوازوں نے اُن کے ذوق کو مزید نکھارا۔ روزگار کے سلسلے میں مختلف شہروں میں رہنے اور خاص طور پر سرگودھا، جھنگ اور چنیوٹ کے ادبی و ثقافتی ماحول سے وابستگی نے اُن کی شخصیت اور شاعری پر گہرا اثر ڈالا۔ وہاں موسیقی کی محفلوں، لوک فنکاروں کے پروگراموں اور پنجابی شعرا کی آڈیو کیسٹوں نے اُن کے اندر موجود شاعر کو بیدار کیا۔ مہرجعفرانجم جٹیانہ،عابدتمیمی،ریاضؔ، درؔد، حیات بھٹی اور دیگر پنجابی شعرا کو سن کر اُن کے دل میں شاعری کا شوق مزید بڑھتا گیا۔
عمران نواز گوندل نے 2014ءمیں اپنی پہلی پنجابی غزل لکھی، کیونکہ پنجابی اُن کی مادری زبان ہے اور اُن کے بقول وہ پنجابی میں سوچتے ہیں، اس لیے خیالات بھی اُسی زبان میں جنم لیتے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے اردو غزل بھی لکھی اور دوستوں و استاد شعرا سے اصلاح لی۔استادالشعراءمہر جعفر انجم جٹیانہ (سیال)، ناصر علی تائب(مرحوم) ،غلام اکبر راحت اورمہر محمود امجد ہرل جیسے سینئر شعرا کی رہنمائی اورمحمد صفدرسلیانہ، چوہدری تنویروارثی کی حوصلہ افزائی نے اُن کے فن کو مزید نکھارا۔ اُن کی پہلی پنجابی غزل کے اشعار”کچے تے کئیں تر کے دسیائے،عشق حقیقی مر کے دسیائے” ادبی حلقوں میں خاص توجہ کا مرکز بنے، جبکہ اردو کی پہلی غزل کا مطلع “جو تیرے ساتھ دن میں نے گزارے یاد آتے ہیں” اُن کے رومانوی اور احساساتی انداز کی خوبصورت مثال ہے؎
کچے تے کئیں تر کے دَسیائے
عشق حقیقی مر کے دَسیائے
اندر رکھیا ویر کی ھوندائے
سانوں مٹی کھر کے دَسیائے
سیک ھجر دا کننا اوکھائے
اکھیں ھنجو بھر کے دَسیائے
اوندے باجھوں زندگی نہی جے
مینوں ساھواں ٹھر کے دسیائے
سینے روگ وچھوڑیاں آلا
جینوں دسیائے ڈر کے دسیائے
تیرے نال میں پورا ھونداں
آس نوں تلی دھر کے دسیائے
اوکھی کائی عمرانؔ نہی منزل
کم فرھاد ھک کر کے دسیائے
عمران نواز گوندل سے ہماری پہلی ملاقات گجرات کے معروف پنجابی شاعرجناب لیاقت گڈگور صاحب کی کتاب “آؤنسیاں” کی تقریبِ رونمائی میں ہوئی۔ یہ خوبصورت ادبی تقریب “پنجابی ادبی پرچار (رجسٹرڈ) اسلام آباد” کے زیرِ اہتمام اکیڈمی ادبیات اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی۔ اس تقریب میں پنجابی ادب سے محبت رکھنے والے لوگ دور دور سے شریک ہوئے تھے۔ چکوال سے بھی ہم، کیمرہ مین عظمت شہزاد اور دیگر دوست اس تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔وہ تقریب اورمشاعرہ اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام تھا۔ پنجابی زبان، لوک لہجے اور ادبی ذوق سے بھرپور اس محفل میں مختلف شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ انہی شعرا میں ایک نام عمران نواز گوندل کا بھی تھا۔ اُس دن انہوں نے زندگی کا پہلا باقاعدہ مشاعرہ پڑھا تھا، مگر اُن کے اعتماد، لہجے اور اندازِ بیان میں کہیں بھی جھجھک محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اُن کی آواز میں ٹھہراؤ تھا اور اشعار میں احساس۔تقریب کے بعد ہم واپس آ گئے۔ چند دن بعد ایک فون کال آئی۔ دوسری طرف سے نہایت سادہ اور محبت بھری آواز میں کہا گیا؎
میں واسی سوھنی جو دا آں میرا ضلع تحصیل چکوال اے
شہر توں جہلم روڈ تے آوندا اڈا نکا جیا ھک سرکال اے
میرے پنڈ دے چار چفیروں ھن صابہ گھوکل پنچائن چکوال اے
میرا ناں اے یار عمرانؔ نواز میرے پنڈ دا ناں بڈھیال اے
میں عمران نواز گوندل بات کر رہا ہوں۔۔۔ میرا تعلق بڈھیال،چکوال سے ہے۔۔۔میں نے اُس تقریب میں پہلا مشاعرہ پڑھا تھا اور مجھے اُس مشاعرے کی ویڈیو چاہیے۔”
یہ ایک مختصر تعارف تھا۔۔۔ مگر شاید بعض تعلقات کی بنیاد صرف چند جملوں پر ہی رکھ دی جاتی ہے۔ فون پر دو تین مرتبہ گفتگو ہوئی۔ پھر ایک ویک اینڈ پر عمران نواز گوندل چکوال آئے تو ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ ہم ایک جگہ اکٹھے بیٹھے، گفتگو شروع ہوئی اور باتوں باتوں میں ایسا محسوس ہوا جیسے یہ تعلق برسوں پرانا ہو۔پھر آہستہ آہستہ یہ ملاقاتیں دوستی میں بدلتی چلی گئیں۔ شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرتا ہو کہ عمران بھائی روپوال نہ آئے ہوں یا ہم کہیں نہ کہیں ملاقات کے لیے نہ بیٹھے ہوں۔ تقریباً ہر دس دن بعد کوئی نہ کوئی میٹنگ پوائنٹ طے ہوہی جاتاہے۔ کبھی قلندری ہوٹل میںچائے کی محفل، کبھی جی چن جی ہوٹل میںادبی گفتگو، کبھی شاعری اور کبھی زندگی کے عام موضوعات۔ یہی نشستیں رفتہ رفتہ ایک مضبوط رفاقت میں بدلتی چلی گئیں۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ جب عمران نواز گوندل نے پہلی بار مشاعرہ پڑھا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اُن کا تعلق جھنگ یا چنیوٹ سے ہو۔ اُن کے لہجے میں وہی مٹھاس، وہی روانی اور وہی رنگ محسوس ہوتا تھا۔ کہیں سے بھی وہ روایتی چکوالی لہجہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ روزگار اور زندگی کے مختلف مراحل میں اُن کا جھنگ، سرگودھا اور چنیوٹ کے علاقوں سے گہرا تعلق رہا، جس نے اُن کے لہجے اور اندازِ گفتگو کو متاثر کیا۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات بھی واضح ہوتی گئی کہ عمران نواز گوندل محض ایک اچھے انسان ہی نہیں بلکہ پنجابی زبان کے ایک نہایت خوبصورت شاعر بھی ہیں۔ اگرچہ وہ اردو غزل بھی لکھ لیتے ہیں، مگر اُن کی اصل پہچان پنجابی شاعری ہی ہے۔ اُن کی غزلوں، نظموں اور دوہڑوں میں پنجاب کی مٹی کی خوشبو صاف محسوس ہوتی ہے؎
دنیاں ساری پھر ناھوں لبھنڑاں
ماں دے ورگا فر ناھوں لبھنڑاں
رج رج روسیں ھتھوں جد ایہہ
موتی جانڑائیں کر ناھوں لبھنڑاں
پیار دی گھمنڑ گھیری دے وچ
انج داویسیں گھر ناھوں لبھنڑاں
ویلے نال نہ متھا لاویں
لتاں بانہواں سر ناھوں لبھنڑاں
لاڈ پیار عمرانؔ ایہہ تینوں
ماں دا بوھتا چر ناھوں لبھنڑاں
پنجابی ہماری ماں بولی ہے۔ وہ زبان جس میں ہم نے اپنی ماؤں کی لوری سنی، دعا سنی اور اپنائیت محسوس کی۔ دنیا کی کوئی بھی زبان انسان کے لیے اپنی مادری زبان جیسی نہیں ہو سکتی۔ پنجابی زبان میں ایک عجیب قسم کی مٹھاس اور سادگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عمران نواز گوندل پنجابی میں شعر کہتے ہیں تو اُن کے لفظ سیدھے دل میں اترتے محسوس ہوتے ہیں۔انہوں نے ماں بولی کا حق بھرپور انداز میں ادا کیا ہے۔ اُن کی پنجابی غزلیں، نظمیں اور دوہڑے سوشل میڈیا پر بھی بے حد پسند کیے جاتے ہیں۔ اُن کے اشعار میں نہ صرف محبت اور درد ہے بلکہ انسان، رشتوں، وقت اور معاشرے کا شعور بھی نمایاں نظر آتا ہے ؎
ساری زندگی زر دا لالچ نہی رکھیا
بیلی رکھے گھر دا لالچ نہی رکھیا
لیراں نال ای تن عمرانؔ کجی پووئے
نکے وڈے بَر دا لالچ نہی رکھیا
یہ صرف شعر نہیں بلکہ اُن کی شخصیت کی عکاسی بھی محسوس ہوتا ہے۔ وہ سادگی، دوستی اور انسانیت کو دولت اور نمود و نمائش پر ترجیح دینے والے شاعر دکھائی دیتے ہیں۔عمران نواز گوندل کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ شاعری کو صرف مشغلہ نہیں بلکہ احساس کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک شاعر وہی ہوتا ہے جو معاشرے کو محسوس کرے، لوگوں کے دکھ کو سمجھے اور اپنی زبان سے محبت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مادری زبان کے فروغ کے لیے ہونے والی تقریبات میں ہمیشہ متحرک نظر آتے ہیں۔اسلام آباد میں “پنجابی ماں بولی” کی خدمت کے حوالے سے منعقد ہونے والے پروگراموں میں اُن کی شرکت اور کردار قابلِ تعریف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ثقافت، تاریخ اور تہذیب کی پہچان بھی ہوتی ہے۔ اگر مادری زبانیں کمزور پڑ جائیں تو قومیں اپنی اصل شناخت کھو دیتی ہیں۔عمران نواز گوندل کی شاعری میں ایک اور چیز بہت نمایاں ہے، اور وہ ہے احساس کی سچائی۔ اُن کے اشعار مصنوعی محسوس نہیں ہوتے۔ یوں لگتا ہے جیسے زندگی خود بول رہی ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سننے والا اُن کے شعر سے خود کو جڑا ہوا محسوس کرتا ہے؎
جو تیرے ساتھ دن میں نے گزارے یاد آتے ہیں
پیار بھرے اس گلشن کے نظارے یاد آتے ہیں
تیرا ملنا تیرا کھلنا تیری وہ پیار کی باتیں
تیری آنکھوں کے دلبر وہ اشارے یاد آتے ہیں
گزارے تھے جہاں اپنی رفاقت کے وہی دلبر
ندیا کے مجھے دونوں کنارے یاد آتے ہیں
جہاں ہم نے گزارا تھا حسیں بچپن کبھی مل کر
وہی محل وہی گلیاں چوبارے یاد آتے ہیں
کوئی دیکھوں حسیں چہرہ کہیں بھی یار دنیا میں
نہ جانے کیوں نشیلے نین تمھارے یاد آتے ہیں
ملا کر ہاتھ ہاتھوں میں رہیں گے ساتھ ہم دونوں
کیے وعدے تھے جو عمرانؔ وہ سارے یاد آتے ہیں
وہ اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ شاعر صرف اپنی ذات کے دکھ نہیں لکھتا بلکہ اردگرد کی دنیا کو محسوس کرکے بھی شعر کہتا ہے۔ ایک منظر، ایک آواز، ایک شام، ایک تنہائی یا کسی مسافر کا چہرہ بھی شاعر کے اندر شعر جگا سکتا ہے۔آج کے دور میں جب مادری زبانیں آہستہ آہستہ نظر انداز کی جا رہی ہیں، عمران نواز گوندل جیسے شاعر دراصل اپنی ثقافت اور زبان کے محافظ ہیں۔ وہ صرف شاعری نہیں کر رہے بلکہ پنجاب کی مٹی، اُس کے لہجے اور اُس کے جذبات کو محفوظ کر رہے ہیں۔
بے شک عمران نواز گوندل خوبصورت شعر لکھنے والے، خوبصورت لب و لہجے کے شاعر ہیں۔ اُن کی شخصیت میں عاجزی، خلوص اور اپنائیت نمایاں ہے۔ ایسے لوگ ادب کی دنیا کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ہم دل سے عمران نواز گوندل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت اُن کی تخلیقی صلاحیتوں، محبتوں اور کامیابیوں میں مزید اضافہ فرمائے تاکہ وہ اسی طرح اپنی ماں بولی، اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کی نمائندگی کرتے رہیں ؎
دکھاں دا گھمبیر وی جانوں لیندا اے
روندی رھی تے نیر وی جانوں لیندا اے
سوچی جاوے اڈاں تاں وی مردی آں
بیٹھی رہی تے تیر وی جانوں لیندا اے
کتھوں لبھاں جہڑے جاناں واردے نیں
اج دا تے دلگیر وی جانوں لیندا اے
سنگ جمیاں دے نال جے دھوکے کرئیے تے
رل کے پیتا کھیر وی جانوں لیندا اے
زرداراں دا کھور وی چنگا نہی ھوندا
زرداراں دا سیر وی جانوں لیندا اے
قیدو دا کردار سلامت بچے تاں
رانجھیا تیری ہیر وی جانوں لیندا اے
منگدی نہی عمرانؔ میں حق وراثت دا
منگ بیٹھی تے ویر وی جانوں لیندا اے


