“ تم ہم سے مباشرت کا انتخاب چھین سکتے ہو لیکن محبت کا حق نہیں “
جو بستیاں تم نے جلا کر راکھ کیں
ان کی عورتوں نے اپنے ڈوپٹوں سے پرچم بنا لیے ہیں
اب وہ بین نہیں کرتیں…. انصاف مانگتی ہیں
وہ جان چکی ہیں انہیں پڑھایا گیا نصاب غلط تھا
“ رقص سے خدا نہیں روٹھتا
گھنگھرؤں کی جھنکار سے ظالموں کے ایوان لرز جاتے ہیں “
سینہ کوبی کرنے والے ہاتھ گریبان پکڑنا سیکھ چکے
روتی آنکھوں میں آنسووں کی بجائے للکار اتر آئی ہے
“ تم بیاہتاوں کے شوہر گٹروں میں پھینک سکتے ہو
لیکن ماؤں کے آنچل تاتار نہیں کر سکتے
تم نے ہماری کشتیوں کو توڑ کر ان سے تیر نیزے اور کلہاڑے بنائے
جن سے ہمارے جسم نوچے ، سر کاٹے اور چادروں کے ساتھ روحوں کو بھی زبح کر دیا “
نکاح اور دستار کے نام پر نوچے جانے والے جسموں پر کانٹے اگنے لگے ہیں
صدیوں سے رسموں کا بوجھ اٹھانے والی بیل نما عورتیں
انکار کا حوالہ بن رہی ہیں
“ ہماری بانسریوں سے اب ساز نہیں پھوٹتا
غصہ ٹپکتا ہے
ہمارے رباب کی لے مترنم نہیں رہی
ہم نے ان کے سَروں پر چھرے باندھ لیے ہیں“
جن کے جسموں کو تقدس میں لپیٹ کر کتوں کے آگے ڈالا جاتا رہا
ان کی بچہ دانیوں میں مزاحمت اُگ رہی ہے
زندہ رہنے کی بھیک مانگتے ہاتھ
ہوا میں مُکے لہرا رہے ہیں
ناچ میں تھرکتے جسموں نے آسمان سے منہ پھیرا
اور کرچی کرچی تَن کو زندگی کی بوری میں بھر کر
پرانے زمانوں کی کتابوں کو آگ میں جھونک دیا
دیوتا اب نئی ابتدا کریں گے
عورتیں پورا انسان ہوں گی


