مرزا حامد بیگ کے ناول ’’انارکلی ‘‘ کا نوتاریخی مطالعہ(اضافہ شدہ)- اظہرحسین اور محمد یحییٰ

(نوٹ: یہ مضمون پہلی مرتبہ ادبی رسالے “تظہیر” سے شائع ہوا تھا- اب کچھ اضافے کے ساتھ “مکالمہ” سے شائع کیا جارہا ہے -)

روئےزمین پرانسان کی تخلیق کےساتھ ہی انسانی زندگی میں تغیرو تبدل کاایک سلسلہ شروع ہوتاہے۔ جب کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے تو اہلِ فکر و دانش ان کی توجیہات ڈھونڈتےہیں اورپچھلی غلطیوں کاازالہ کرکےایسےنئےنظریات یااپنےمروجہ افکارمیں وقتی تقاضوں کےمطابق نئےخیالات شامل کرکے زندہ کردیتےہیں تاکہ معاصرمسائل کامردانہ وارمقابلہ کرسکیں اورماضی میں جس جمود کی وجہ سےمسائل اورسانحات سامنےآئے ہیں؛مستقبل میں ان کاسامنا نہ ہو۔جدیدیت نے عقل و سائنس کی دفاع میں جو مہا بیانیے پیش کیے تھے اور ہیومینزم کا پرچار کیا تھا بیسویں صدی کے دو عظیم جنگوں نے اسے مسمار کردیا اورہر طرح سے انسان کا استحصال ہوا۔ڈاکٹرطارق ہاشمی اس صورتِ حال کےبارےمیں فرماتےہیں:
“بیسیویں صدی میں دوعظیم جنگوں اورخصوصاًنوآبادیاتی نظام کےدرجہ وارخاتمےکےبعدانسانوں کونہ صرف جسمانی آزادی ملی بلکہ ذہنی آزادی بھی نصیب ہوئی ۔ذہنی آزادی کاسب سےبڑاسبب یہ ہےکہ قدیم تصورات اورافکارجن کےتحت انسان سوچتاآیاہےیاوہ قدیم نظام ہائے خیال جوانسان کےذہن کوجھکڑےہوئےتھےیااسے ایک جہت سوچنےپرمجبور کیےہوئے تھے؛یہ سوچاگیاکہ نئےاندازسےافکار،تصورات اور نظریات کو دیکھاجائے۔”(۱)
اس لیے ان جنگوں کے بعد انسانوں نے پرانے افکار و نظریات میں توسیع کرکےنئی طرز سے سوچنا شروع کیا ۔کیوں کہ اب فرد ذہنی غلامی اور سائنس کی چودھراہٹ سے آزاد ہونے کی کوششوں میں مگن تھا۔یہ صورت حال مابعد جدیدیت کو سامنے لاتی ہے۔جدیدیت نے تاریخیت کی صورت میں اپنی مرضی کا تاریخی صفحہ دنیا کے سامنے پیش کیا اور تاریخ کی سپاکی کو ہمیشہ دبیزپردوں سے ڈھانپے رکھا۔اس نے تاریخ کوحتمی،مطلق،آفاقی اور کلّی قرار دیا۔ جدیدیت نے تاریخیت کا پہرا دوسرے سماجی حقائق اورفردکےعلاوہ ادبی متون پربھی بٹھایا۔جس کی وجہ سےمتون بھی اس تاریخ کےتابع آگئےجودراڑوں اورفاصلوں سےبھرپور تھی۔مابعدجدیدیت کے تحت نوتاریخیت سامنے آئی جس نے تاریخ کو واہمہ قرار دیا اور اس میں موجود شگافوں کوختم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔بقولِ ڈاکٹرطارق ہاشمی :”نوتاریخیت اسی ذہنی آزادی کاثمرہے۔”(۲)
نوتاریخیت نے تاریخ کو غیر حتمی، غیر مطلق، مقامی اور اضافی قرار دیا۔ چوں کہ تاریخ بھی کو ئی مصنف لکھتا ہے اس لیےظاہری بات ہے کہ مصنف بھی دوسرےانسانوں کی طرح اپنےمخصوص جذبات و نظریات کا حامل ہوتاہے۔اس لیےتاریخ لکھتےوقت وہ اپنےمذہب، فرقے، مسلک،علاقےاورحکومت وغیرہ کےمتعلق سچ گوئی سے پرہیزکرتاہے۔ کیوں کہ اگروہ سچ گوئی کرتاہےتووہ مذہبی یاعلاقائی گروہوں کے جذباتی کارکنوں کےظلم کاشکار ہوسکتاہے۔یاریاست کےبیان میں سچ لکھتاہےتوریاستی جبرکاضرور بالضرورشکارہوگا۔اس لیے وہ تاریخی واقعات کے بیان میں اپنا تخیل شامل کرکےتاریخ لکھتاہےاورقدیم تاریخی کتابوں کےمطالعےسےتویہ بھی معلوم ہواہے کہ بعض تاریخی کتب بادشاہوں کی خواہش پر لکھی گئی ہیں یا جبراًمؤرخین سے لکھوائی گئی ہیں جن میں حاکموں نے خود کو منصف پیش کیا ہے اور اپنے مظالم چھپائے ہیں۔ڈاکٹرطارق ہاشمی کےنزدیک:
“تاریخ لکھتے وقت مؤرخ تخیل سے بھی کام لیتا ہےاس لیےہرن وائیٹ نے تاریخ کو Historical Imaginationکہا ہے۔یعنی مؤرخین تاریخ میں تخیل کو بھی شامل کرتے ہیں۔ جس سے تاریخ کافی حدتک کمزورہوجاتی ہے۔”(۳)
یہی وجہ ہے کہ نوتاریخیت ، تاریخیت کی حکمرانی رد کرتی ہے اور اس کے پہرے سے دوسرے مظاہر کے ساتھ ساتھ ادب کو بھی آزاد کرتی ہے۔ یہ تاریخ کی اہمیت سے یک سر انکار کرتی ہے اور نہ اسے حرفِ آخر مانتی ہے بل کہ اس میں موجود کمزوریوں اورکوتاہیوں کو سامنے لاکر حقائق منکشف کرتی ہے۔ نوتاریخیت ادب کو تاریخ کا زائدہ نہیں سمجھتی بل کہ ان دونوں کو الگ الگ حقائق کے طور پر تسلیم کرتی ہے ۔ نوتاریخیت کی نظر میں اگر ادب اور تاریخ کا تقابل کیا جائے تو ادب اس لیے آگے رہے گا کیوں کہ ادب تاریخ کے برعکس نامعلوم تک رسائی کی قوت بھی رکھتا ہے۔مختصر یہ کہ نوتاریخیت ادب کی جمالیات کو مجروح نہیں کرتی بل کہ اسے تاریخ سے آزاد کرکے اس کے اصل پیمانے یعنی جمالیات کے تحت پرکھنے کی حمایت کرتی ہے۔
ادبی اصطلاح میں تاریخیت سےمراد کسی ادیب کےفکری نظام کومحض تاریخ کی روشنی میں جانچنا،پرکھنا اورٹٹولناہے۔ تاریخیت کی اصطلاح کوپہلی بار جرمن فلسفی ‘شلیگل’ نے استعمال کیا۔تاریخیت میں مصنف اور فن پارے کا تجزیہ تاریخی تناظر میں کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس صورت حال میں کبھی تاریخ اعلا و برتر ہوجاتی ہے تو کبھی ادب کو اہمیت دی جاتی ہے ۔اس ضمن میں پروفیسراخترعلی یوں رقم طراز ہیں:
’’مصنف کی فکر کو محض تاریخ کی روشنی میں ٹٹولنا تاریخیت کہلاتا ہے۔۔۔تاریخیت ادب کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی قائل ہے،اس لیے کبھی تاریخ کو برتراور ادب کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی ادب برتر اور تاریخ کو کم تر دکھانے کی سعی کی گئی؛جبکہ یوں بھی ہوا کہ ادب و تاریخ کو یکساں حیثیت سے نوازا گیا۔‘‘(۴)
نوتاریخیت کوانگریزی زبان میں”Historicism New”کہاجاتاہے۔یہ اصطلاح ایک امریکی مفکر،ادبی مؤرخ اورنقاداسٹیفن گرین بلاٹ(Stephen Greenblatt)نےوضع کی۔اس کی مشہورکتاب”Renaissance Self fashioning: from more to shekspeare”۱۹۸۰؁ میں منظرِ عام پر آئی ۔جس میں اسٹیفن گرین بلاٹ نے یہ موقف پیش کیا کہ ادب کو تاریخ کاترجمان نہیں ہوناچاہیے کہ وہ تاریخ کےلکھےہوئےکوحرفِ آخرسمجھ کراس پراپناعمارت کھڑاکریں اورنہ ہی ادب کو آزاد و مختاررہ کر سماج کا بیان کرناچاہیے۔بلکہ ادب کوسچ اورصداقت تک پہنچنےکےلیےدیگرسماجی و تہذیبی ثبوتوں کاسہارالیناچاہیے۔اسٹیفن گرین بلاٹ کا ایک مضمون ۱۹۸۲ء میں(Genre)نامی رسالے کےایک شمارے میں شائع ہوا۔ جس میں انھوں نے پہلی مرتبہ’نوتاریخیت’ کی اصطلاح متعارف کروائی۔اس مضمون میں پہلی باریہ مباحث سامنےآئےکہ ہمیں تاریخ کوکُلی ،حتمی اوراٹل نہیں مانناچاہیےبلکہ انھیں حقیقت اور سچائی کی عینک لگاکردیکھناچاہیے۔اس نےکہاکہ تاریخ کےمطالعےکےساتھ ہمیں ان سوالوں کےجوابات ڈھونڈنےہوں گے کہ تاریخ کس طرح لکھی جاچکی ہے،اس میں مؤرخ کےذاتی پسندناپسند،ریاستی دباؤ،مذہبی کٹرپن یاجبراورآقاؤں کوخوش کرنےکےلیےکیالکھاجاچکاہے؟آیا تاریخ نے حاکم و محکوم،ظالم و مظلوم،آقا و غلام،بادشاہ اوررعایا،مُلّا اور سماج کوغیرجانب دارانہ پیش کیا ہے ؟ان کے بیان میں صداقت اور سچ کی آمیزش کتنی ہے یا وہ ریاستی و طبقاتی ظلم و جبر کا شکار ہوکر جانب داری اورجھوٹ کی طرف مائل ہوچکی ہے؟اسٹیفن گرین بلاٹ نےاس مضمون میں اپنےعہدکےمعتبرمفکرین ؛جن میں جوناتھن گولڈ برگ،لیونارڈ ٹینن ہاؤس اور لوئیس مانٹروز شامل ہیں؛کو دعوت دی کہ آئیں اوران اصولوں کی روشنی میں تاریخ کامطالعہ کریں۔
جب وہ اس نتیجے پرپہنچے کہ تاریخ کےصفحات میں ہمیں جوسچائی دکھائی گئی ہیں ؛یہ دراصل سچائی نہیں بلکہ مؤرخ کاافتادِ طبع، ریاستی جبر یامذہبی عقیدت کانتیجہ ہے۔اصل تاریخ توان متون سےکہیں زیادہ پردوں میں چھپی ہوئی ہے،لہذا انھوں نے تاریخیت کے اس نظریے سے اختلاف کیا کہ ادبی متن تاریخی متن کا زائدہ ہوتا ہے۔انھوں نے تاریخ کی مضبوط اوردقیانوسی عمارت کوتہس نہس کرکےتاریخ کو سماجی و تہذیبی حوالوں سے دیکھنا شروع کیا۔اسی خصوصیت کی بنا پرڈاکٹرطارق ہاشمی کےنزدیک ” یورپ میں نوتاریخیت کو کلچرل سٹڈی یاکلچرل مٹیرلزم کہا جاتا ہے۔”(۵) ڈاکٹر ناصرعباس نیّر کہتےہیں:
’’نوتاریخیت ادب اور خارج یا تاریخ میں براہِ راست اور سیدھے سادے رشتے کی قائل ہر گِز نہیں ۔اس کی رو سے ادب سماجی صورتِ حال اور تاریخی قوتوں کا صاف عکس نہیں ۔نئی تاریخیت ادب اور تاریخ اور دونوں کے ربطِ باہم کے ان تصورات کی حامل ہے ،جو ساختیات اور پسِ ساختیات نے دیے ہیں ۔نئی تاریخیت میں ادب اور تاریخ دونوں باقاعدہ متن اور ڈسکورس ہیں اور یہ حقیقت دونوں کو ایک منطقی اور ناگزیر رشتے کی ڈور میں باندھتی ہے۔‘‘(۶)
ادیبوں کے متون سے ہم سچائی اس صورت میں نکال سکتے ہیں جب ان کا از سرِ نو ، نو تاریخی تناظر میں جائزہ لیا جائے۔اگر ہم ادبی متون کا مطالعہ صرف تاریخ کی روشنی میں نہ کریں بل کہ ادیب سے متعلق سماجی و قانونی شواہد کو اکٹھا کر کے اسے تہذیب کا عینک لگاکر دیکھیں تو سچائی سامنے آسکتی ہے۔اس کی تائید پروفیسر اخترعلی اس طرح کرتے ہیں:’’شخصیت اور فن پارے کی حقیقت سے نوتاریخیت ہمیں بہتر طور پر روشناس کراسکتی ہے۔‘‘(۷)یہاں ہمارا موضوع مرزا حامد بیگ کے ناول انارکلی کا نوتاریخی مطالعہ ہے۔ایک سنجیدہ محقق ہونے کے ناطے مرزا حامد بیگ نےناول نگاری میں بھی تحقیق کا دامن نہیں چھوڑا اور روایت سے ہٹ کر ایک مظلوم تاریخی کردار “انارکلی “پرایسا دستاویزی شاہکار ناول تحریر کیا جس نےاس سے پہلے انارکلی پر تخلیق کیے ہوئے تمام فکشن اور تاریخ کو کٹہرے میں لاکر کھڑا کر دیا۔
ناول انارکلی بیک وقت نوتاریخی ،دستاویزی اور رومانوی ناول ہے۔جس کو مرزا حامد بیگ نےاِکتّیس(۳۱)سال کے طویل عرصہ میں تحریر کیا ۔یعنی ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ء سے لے کر ۱۳ جون ۲۰۱۷ءتک کے دورانیے میں یہ ناول مکمل ہوا۔ ظاہر ہے اس طویل مدت میں مرزاحامد بیگ کن کن مشکل مراحل سےگزرےہوں گے۔یہ ناول ایک ہزارسےزائدصفحات پرلکھاگیاتھالیکن جب خوداحتسابی کا شکارہواتوصرف ڈھائی سو صفحات پرموادکانچوڑرہ گیا۔ صدیوں سےچلتی انار کلی کی کہانی کوعظیم اہلِ علم وقلم نےفرضی اورخیالی کہانی تصورکیاتھا۔ مرزاحامد بیگ نےاُس سچائی کی کھوج لگائی ہے جو ۱۵۹۹؁ء سےلےکرموجودہ دورتک ہندوستانی مؤرخین،وقائع نویس اورادیب سامنےنہیں لائے۔جس کےمتعلق ابوالفضل کی’’آئینِ اکبری واکبرنامہ‘‘،مُلّاعبدالحمیدلاہوری کی’’بادشاہ نامہ ‘‘، محمد صالح کی’’عملِ صالح‘‘اورسب سے بڑھ کر مُلا عبدالقادر بدایونی کی ’’مُنتخب التوارخ‘‘اوردیگر درباری و غیردرباری مؤرخین اور وقائع نویسوں نے بھی خاموشی اختیار کی یا حقائق چھپائے۔یہ ناول اس سچائی کو روزِ روشن کی طرح عیاں کرنے کی کوشش ہے جس کےاشارے برطانوی تاجرولیم فنچ،طامس ہربرٹ اورروسٹونے اپنےسفرناموں میں کیےتھے۔مرزا حامد بیگ تاریخیت کی دراڑوں کو سامنے لاتے ہوئے ان ہندوستانی مؤرخین اور وقائع نویسوں پر گہری طنز اور شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’افسوس کہ عہدِ اکبری کے وقائع نویس اس ضمن میں خاموش ہیں اور عہدِ موجود کے تاریخ دانوں اور تجزیہ نگاروں نے مقبرہ انارکلی اور انارکلی بازار جیسی واضح نشانیوں کو جُھٹلاتے ہوئے انتہائی غیرذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔آج 8اکتوبر 1990ء کو ہم لگ بھگ چارسوسال پرانی ایک مبہم سی تصویرپرپڑی گردجھاڑنے کی خاطر جمع ہوئے ہیں۔ ایک دُھندلی سی تصویر،جسے ہمارےاجتماعی حافظے اور شہرِلاہور ک سینہ درسینہ روایات نے ہم تک پہنچادیا۔‘‘(۸)
ناول کااصل موضوع دانستہ طورپرمغلیہ سلطنت کےعظیم شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کی منظورِنظرکنیزانارکلی کے فراموش کردہ حقائق کی کھوج،اس کے وجود کی اصلی قبر میں منتقلی اورانسانی حقوق کی پامالی ہے۔ حامد بیگ نے اکتیس سال کے طویل دورانیے میں بیسیوں کتابوں کے وسیع مطالعے اور مشاہدے کی روشنی میں انارکلی سےجُڑی متعدد چیزوں کی کھوج لگائی ہے۔ہندوستانی مؤرخوں ،وقائع نویسوں اور ادیبوں نے انار کلی کویاتوفرضی کردارگرداناہےیااس کےمتعلق غلط آرا دیےہیں اور بعض آرا توحقائق سے دوربیان کی گئی ہیں۔حامد بیگ نے تمام آرا کومدِنگاہ رکھتے ہوئےقرین قیاس آرا پراپنے ناول کی بنیادرکھی ہے۔انھوں نےاس انارکلی کی بازیافت کی ہے جومَیل شاؤنزم کاشکار ہوکردیوارمیں زندہ چنوا دی گئی تھی۔جس جگہ پربعدمیں شہزادہ سلیم(جہانگیر)نےمقبرہ تعمیرکیاتھا۔انگریزوں کےتسلط کےبعد مقبرےکی عمارت کوچرچ میں تبدیل کیاگیااورمقبرےکی تعویذکواپنی جگہ سےہٹاکرپھراپنی جگہ منتقل نہیں کیاگیا۔مرزاحامدبیگ کے اس دستاویزی ناول میں جہاں تاریخ کے سچےاور ٹھوس حقائق پائےجاتےہیں وہاں ان کاایک اہم مقصدلاپتہ انارکلی کی لاش کواپنےاصل مدفن منتقل کرنا بھی ہے۔ مرزاحامد بیگ ناول کےاہم کردار ڈاکٹر سُرجیت کور کی زبانی ناول کا مدعا کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
’’یہ محض ایک فراموش کردہ حقیقت کی کھوج نہیں ،انسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔یہ الگ بات کہ تین سواکانوے برس گزرگئے،نہ مُدعیہ کو انصاف فراہم کرسکتا ہے نہ مُدعا علیہ کو عدالت کے کٹہرے میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ہاں اگر ہم اپنے موضوع سے انصاف کرپائے تو یُوں سمجھیے فردِ جُرم عائد ہوگئی۔لیکن خیال رہے کہ ہماری اپروچ خالصتاً ریسرچ اورینٹڈہو اور ہم رُومان پسندی کا شکار نہ ہوجائیں۔۔۔افسوس کہ عہدِ اکبری کے وقائع نویس اس ضمن میں خاموش ہیں اور عہدِ موجود کے تاریخ دانوں اور تجزیہ نگاروں نے مقبرہ انارکلی اور انارکلی بازار جیسی واضح نشانیوں کو جُھٹلاتے ہوئے انتہائی غیرذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ ‘‘(۹)
مرزا حامد بیگ نے ناول کی کہانی میں ایک ٹیم تشکیل دی ہے جس کا مقصدانار کلی پرمستند تاریخی حوالہ جات کی مدد سے اُن حقائق کا کھوج لگانا ہوتا ہےجن کو مؤرخین نے فراموش کردیا ہیں کہ آیا انارکلی واقعی ایک مظلوم تاریخی کردارگزرا ہے،اس کے متعلق مشرقی یا مغربی مؤرخین اور وقائع نویسوں کے اندازے کس حد تک درست ہیں ،یا انارکلی محض ادیبوں کے تخیل کی اختراع ہے؟اس ٹیم کا دوسراکام انارکلی پر فلم بنانا ہے جس کے لیے علم و قلم کےایسے لوگوں کی ٹیم تشکیل دی جاتی ہے جن میں طلبہ کےساتھ ماہرینِ تاریخ،انتھروپولوجی کےسکّہ بندعُلما، ماہرینِ موسیقی،ٹیلی ویژن اورفلم انڈسٹری کےناموراداکاراورٹیکنیشنز،اسکرپٹ رائٹرز،پی ایچ ڈی ڈاکٹرزاور پروفیسرز ہوتے ہیں۔حامد بیگ نے کردار بھی ایسے تراشے ہیں تاکہ تاریخیت کے جبر کو آشکارا کرنے میں کسی شائبہ نہیں اور قارئین کی تشنگی ختم ہوجائے۔
ناول کے ابتدائی حصے میں اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ یہ ناول اس روایتی تاریخ پر چوٹ ہے جو انارکلی کے متعلق گڑھ لی گئی ہے۔ ناول میں موجود ٹیم اور اس میں موجود ماہرین کو ڈاکٹر سرجیت کور پہلے ہی سیشن میں باور کراتی ہے کہ ہمارا مقصد ایک ایسی تاریخ کی بازیافت ہے جسے فراموش کردہ تاریخی حقیقت کے زمرے میں شمار کیا جاسکے۔ انار کلی کے متعلق جو اتنی تواریخ مع ’’تزک جہانگیری‘‘ خاموش ہیں تو آیا انار کلی ایک فرضی کردار ثابت ہوتا ہے؟ ہر گز نہیں کیوں کہ جہانگیر کے عہد میں شہر لاہور کے جنوب میں جو عظیم الشان مقبرہ ہے وہ آخر کس کا ہے؟ انارکلی کے زندہ دیوار میں چن دیے جانے کے چھے سال بعد ۱۶۰۵؁ء تا ۱۶۱۵؁ء کی دس سالہ درمیانی مدت میں جہانگیر کے حکم سے انار کلی کے مقبرے کی تعمیر مکمل ہوتی ہے۔ لیکن یہ وقائع نویس اس کردار کو بے نام اس لیے رہنے دیتے ہیں تاکہ شاہی وقار مسخ نہ ہوجائے یا خود ان کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوجائے۔ تاریخ پر اس طرح پردے ڈال تو گئے لیکن ان پردوں کو ہٹانا نوتاریخی مفکرین کا کام ہے۔ سب سے پہلے تو یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ انارکلی کون تھی، حقیقت تھی یا افسانہ؟ ناول میں مرزاحامد بیگ انار کلی کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ایک کنیز نادرہ، جو ایران میں پیدا ہوئی یا ملکِ ترکستان میں ، وہ کسی تجارتی قافلے کے ہمراہ ہندوستان چلی آئی یا اس کی قیمت چکائی گئی اور وہ بہ طور کنیز شاہی قلعہ لاہور تک پہنچی۔۔۔۔جب جوان ہوئی تو شہنشاہِ اکبر نے اس کے سرخ و سفید رنگت اور حسن و جمال کے سبب انار کلی کے خطاب سے نوازا اور داخلِ حرم کیا۔‘‘(۱۰)
انار کلی کے وجود کے متعلق مرزا حامد بیگ نے ممکنہ حقائق کا کھوج لگایا ہے۔ ’’تحقیقاتِ چشتی ‘‘ عہدِ انگلشیہ کےپہلےمقامی تذکرہ نگار مولوی نُور احمد چشتی کی کتاب ہے۔یہ کتاب انارکلی کی زندہ درگور ہونے کے دو سو اکسٹھ (۲۶۱)سال بعد ۱۸۶۰؁ء میں شائع ہوئی۔اس کتاب کو لاہور کے تاریخی آثار کا انسائیکلوپیڈیا کہاجاتا ہے۔ماہرین نے اس کتاب کی بہت تعریفیں کی ہیں مگر مرزا حامد بیگ کے نزدیک نُور احمد چشتی نے ہرسُنی سُنائی بات لکھ ڈالی ہے۔اس لیے کہ اس نے اکبر اور انارکلی کے بارے میں جو کچھ سنا ہے بنا کسی تحقیق کے اسے کتاب میں ڈالاہے۔البتہ نور احمد چشتی کی کتاب اس وقت کی ہے کہ جب انار کلی پر نہ فلمیں بنی تھیں اور نہ ڈراما ’’انار کلی‘‘ جو مرزا حامد بیگ کے مطابق امتیاز علی تاج کا نہیں بل کہ ایس ۔کے۔فیروز کا ہے، سامنے آیا تھا۔ مرزا حامد بیگ ،چشتی کی کتاب کے صفحہ نمبر ۱۱۲۔۱۱۳ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں:
’’انارکلی ایک خوب صورت کنیز،اکبربادشاہ کی تھی۔۔۔۔بادشاہ اُس کو اچھا چاہتا تھا ،لہذا یہ ہی ہروقت نظرِ خاص میں رہتی تھی۔حتیٰ کہ اور محل سرا کی بیگمیں اُس سے دشمنی رکھنے لگیں ۔اب کوئی کہتا ہے کہ یہ مسموم ہوکےماری گئی اور کوئی کہتا ہے کہ جب اکبر مہمِ دکن پر گیا ہُوا تھا تو یہ کسی مرض سے فوت ہوگئی ۔۔‘‘(۱۱)
مُلا عبدالقادر بدایونی کی ’’منتخب التواریخ‘‘میں سلیم کی شادیوں کا ذکر ہوا ہے۔ مختلف وزیروں اور امرا کی بیٹیوں سے سلیم کی شادیاں ہوئیں جن کی تعداد سولہ تک بتائی جاتی ہے۔ ان خواتین میں کچھ مسلمان اور کچھ ہندو شامل تھیں۔ اکبر چوں کہ آزاد خیال شخص تھا اس لیے اس نےبیٹےکی شادیوں میں بہ یک وقت اسلامی اور ہندؤانہ رسومات ادا ہوتے۔سلیم نے تیرہویں شادی اکبری عہد کے سابق گورنر کابل و پنجاب زین خان کولتاش کی بیٹی صاحب جمال سے کی۔ اکبر اس شادی کے اس لیے خلاف تھے کیوں کہ زین خان کولتاش کی والدہ اکبر کی انگہ تھی ۔ اس حساب سے زین خان ، اکبر کا دودھ شریک بھائی تھا۔ اکبر کی کوششوں کے باوجود سلیم نے یہ شادی کرلی۔ یہ زمانہ ڈاکٹر حامد بیگ کے مطابق ۱۸ جون ۱۵۹۶؁ء کا تھا اور انہی دنوں سلیم کا انارکلی سے معاشقہ عروج پر تھا۔ (۱۲) ’’سکینتہ الاولیا‘‘جہانگیر کے پوتےاورشاہجہان کے بیٹے شہزادہ داراشکوہ کی فارسی زبان میں لکھی گئی کتاب ہے۔جس میں داراشکوہ نے ’’باغِ انارکلی‘‘ کے نام سے ایک باغ کا ذکر کیا ہے ۔ باغ لفظ کے نیچے اضافت سے ملکیت ظاہر ہوتی ہے یعنی ’’انار کلی کا باغ‘‘۔یہ بھی انار کلی کی حقیقت کا ایک ثبوت ہے۔
ان حقائق کو پیش کرنے کا مقصدقارئین کےلیے وہ نو تاریخی(حقیقی) حوالے مہیا کرنا ہیں جن کے بعد یہ شبہ ختم ہوجاتا کہ انار کلی محض ایک افسانہ تھی۔ ان حقائق کے بعد انار کلی کی موت اور اس سے متعلق واقعات کی جانچھ کرنا بھی نوتاریخی مطالعے کا حصہ ہے۔ جس طرح انارکلی کو فرضی پیش کیا گیا بالکل اسی طرح اس کی موت کے واقعے کو بھی عہد اکبری اور بعد کے مؤرخین نے محض داستانوی رنگ دیکھ کر تاریخ پر پردے ڈالے اور جبریت کو بے نقاب نہیں کیا۔ انار کلی کی موت کو سچ اور واضح طور پر پیش کرنے کی کوشش میں مرزا حامد بیگ نے ادہم خان کی موت کا واقعہ درج کیا ہے۔ ادہم خان اکبر کا دودھ شریک بھائی تھا۔جنھوں نے اکبرکے وکیل اور وزیر ،شمس الدین کو قتل کیا تھا۔ اکبر کو جب پتہ چلا تو طیش میں آکر ادہم خان کو مُکّا رسید کیا جس سے وہ بے ہوش ہوگیا۔ اکبر نے حکم صادر کیا کہ اس کو دیوان خانے کی چھت سے( جو بارہ گز بلند تھی ) بے ہوشی کی حالت میں گرایا جائے۔ ادہم خان نہیں مرا اس لیے یہ عمل دوبارہ دہرایا گیا اور یوں وہ موت کی آغوش میں چلا گیا۔ اس واقعے کو پیش کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس طرح کے اور بھی سفاکی پر مبنی واقعات پیش آئے ہوں گے۔ اگر اکبر اپنے دودھ شریک بھائی کا یہ حال کرسکتا ہے تو ایک کنیز کو دیوار میں چنوا دینا اس کےلیے مشکل امر نہیں۔ لیکن تاریخ نے یہ ظالمانہ صفحات پس پشت رکھے ہیں۔ انار کلی کی موت کے متعلق مرزا حامد بیگ لکھتے ہیں:
’’سینہ درسینہ روایت کےمطابق ۱۵۹۹ء میں اکبر نے انار کلی کو زندہ درگور کردیا۔ یہ ایک طرح سے حبسِ دم کی سزا تھی اور اُس کی نفسیاتی توجیہہ یہ کی جاتی ہے کہ بادشاہ ظالم نہیں۔ اُس نے گردن اُڑانے یا ہاتھی سے کچلوا کر جان لینے کا حکم صادر نہیں کیا اور ملزمہ کو محض پابند کردیا، دیوار کے بیچ۔ اب اگر دم گھٹنے سے کسی کی موت واقع ہوجائے تو بادشاہ کیا کرے؟۔‘‘(۱۳)
یہ بات بھی اہم ہے کہ ابوالفضل نے ’’آئین اکبری‘‘ میں ہر چھوٹی بڑی سزا کا ذکر کیا ہے لیکن دیوار میں چنوا کر مارنے کی سزا کا ذکر وہاں نہیں ملتا۔یہ ذکر آخر وہ کرتا کیوں؟ ابوالفضل کو ’’دین الہی‘‘ کے تحت اکبر نے اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا۔ اکبر کا خلیفہ ہوتے ہوئے وہ کس طرح سچ اور حق لکھتا بلکہ وہی لکھتا جو بادشاہ کا حکم ہو۔ ابوالفضل کو حامد بیگ نے ایسا مؤرخ ثابت کیا ہے جنھوں نے اپنی کتابوں ’’آئینِ اکبری‘‘ اور ’’اکبر نامہ‘‘ میں اکبر، اکبری عہد اور دینِ الہی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ ان کی نظر میں اکبر ایک روحانی اور وجدانی کرامات سے معمور شخصیت تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابیں عہدِاکبری اور انارکلی کے متعلق اصل حقائق کے ضمن میں خاموش ہیں۔مرزا حامد بیگ ناول کے اندر ابوالفضل کی تاریخیت کو آشکارا کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ابوالفضل نے ’’اکبرنامہ‘‘میں لکھا ہے کہ ایک رُوحانی اور ماورائی قسم کی مسرت نے شہنشاہِ اکبر کے جسم کو اپنے قبضہ میں لے لیاتھااورخُدا کی دلکشی نے اپنی مقدس شُعائیں اکبر پر برسانا شروع کردی تھیں۔‘‘(۱۴)
ان بیانات کو دیکھتے ہوئے ابوالفضل کی درج کردہ تاریخ کو مستند ماننا محققانہ لوازمات کے خلاف ہے۔تاریخ نے ہمیشہ یہ جبر کیا ہے کہ حقائق پر دبیز تہیں چڑھائیں۔ انار کلی کے زندہ درگور کرنے کے واقعے کا ذکر ایک طرف تو سرے سے عہد اکبری کے مؤرخین نے کیا نہیں ہے تو دوسری طرف اٹھارویں صدی عیسوی اور اس کے بعد کے مسلم مؤرخین نے اس واقعے کو جھٹلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔لیکن حقائق سنجیدہ محققین کے ہاتھوں خود کو آشکارا کرتے ہی ہیں۔مرزا حامد بیگ نے عرق ریزی سے کام لیتے ہوئے ایسے مواد تک رسائی حاصل کی ہے جس کو جھٹلانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ڈاکٹر حامد بیگ کی نوتاریخی تحقیق کے مطابق برطانوی تاجر ولیم فنچ نے اپنے سفرناموں ’’Early travels in india‘‘اور’’Voage to the east‘‘میں انار کلی کے مدفن کے متعلق کچھ شواہد پیش کیے ہیں۔ان سفرناموں میں Early travels in india کوولیم فوسٹرنےترتیب دےکر’’اکسفورڈ یونی ورسٹی لندن‘‘سے ۱۹۶۱ءمیں شائع کیا۔ ولیم فنچ لندن کا ایک بڑا تاجر تھا جو عہدِ جہانگیری میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے کیپٹن ہاکنز اور کیلنگ کے ایما پر ہندوستانی تاجروں کو نِیل فروخت کرنے ہندوستان آیا تھا۔یہ کیپٹن ہاکنز کے ساتھ ۲۴ اگست ۱۶۰۸؁ء کو سُورت کی بندرگاہ پر بحری جہاز میں اُترا تھا ۔جہاں اکبر آباد سے براستہ دلی،انبالہ اور سلطان پورہ سے ہوتا ہوا فروری ۱۶۱۱؁ء کو انارکلی کے زندہ درگور کرنے کے ٹھیک ۱۲ سال بعد لاہور پہنچااور یکم اگست ۱۶۱۱؁ء تک لاہور میں مقیم رہا۔اِسی اثنا میں گذشتہ پانچ برس سے مقبرہ اناکلی زیرِ تعمیر تھا۔اُن چھے مہینوں میں ولیم فنچ نے بادشاہ سے تعلق کی بنا پر قلعہ لاہور کو بہت اندر سے دیکھا ۔مثلاً اندرون قلعہ ،شاہ بُرج،نولکھا اور شیش محل کی عمارات کوبھی دیکھا۔اس نے اپنے سفرنامہ “Early travels in india”کے صفحہ پچاس (۵۰)پر انارکلی کے زندہ درگور کرنے کا واقعہ لکھا ہے مگر انارکلی کو اکبر کی بیوی کہا ہے اس لیے کہ وہ لونڈی اور بیوی میں فرق نہیں کرسکتے۔ مرزا حامد کے مطابق ولیم فنچ اپنے سفرنامے ’’Early Travels in india‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ شکر گنج سے ذرا فاصلے پر شیخ فرید کی ایک خوبصورت مسجد ہے اور اُس سے آگے باغات کو نکل جانے والے راستے میں دانیال شاہ کی ماں کا مقبرہ زیر تعمیر ہے۔ جو اکبر کی بیگمات میں سے ایک تھی اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سلیم اس کے ساتھ ملوث تھا۔ اس کا نام انار کلی یا ’رس بھرا انار‘ تھا۔ اکبر کو اس بات کا پتہ چلا تو اس نے انارکلی کو فوری طور پر دیوار میں زندہ چنوا دیا، جہاں وہ مر گئی۔ اور اب بادشاہ جہانگیر نے اپنی محبت کی یادگار کے طور پر چار مربع باغ سے محصور پتھر کا ایک گراں بہا مقبرہ ، ۔۔۔۔تعمیر کرنے اور مقبرہ کے گنبد کی بیرونی سطح پر سونے سے چترکاری کا حکم دیا ہے۔‘‘ (۱۵)
ولیم فنچ کا بیان سنا سنایا نہیں بل کہ یہ مناظر انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر سفرنامے کا حصہ بنائے ہیں۔اس لیے انار کلی کے وجود کے بعد یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسے دیوار میں اکبر نے چنوا دیا تھا اور جب سلیم ، جہانگیر(بادشاہ) بنا تو انھوں نے اس کی لاش سپردِ خاک کی اور ایک مقبرہ بھی تعمیر کیا۔ جہانگیر کے عہد میں انگلستان کا سفیرِ بھارت، سر تھامس رُو کا مذہبی پیشوا پادری ایڈورڈ ٹیری ہندوستان آیا انھوں نے لگ بھگ دو برس آگرہ میں قیام کیا تھا۔وہ لاہور نہیں آیا تھا لیکن آگرہ میں جو کچھ سُنا اسے اپنے سفرنامے ’’Voage to east india‘‘میں درج کردیا۔ٹیری کا یہ سفرنامہ ۱۶۵۵؁ء میں لندن سے J-Wilkleنے شائع کیا ۔جس نے اپنے سفرنامے کے صفحہ نمبر ۱۳۰ پر لکھا ہے کہ دیگر اختلافات کے علاوہ اکبر نے اپنے بیٹے جہانگیر کو تخت و تاج سے اس لیے محروم رکھا تھا کیوں کہ جہانگیر نے اکبر کی چہیتی بیوی انارکلی سے ناجائز تعلق قائم کیا تھا۔اکبر کے ساتھ اگرچہ جہانگیر کے دیگر اختلافات بھی تھےلیکن وہ اکبر کے بسترِ مرگ تک پہنچنے سے پہلے پہلےختم ہوگئے۔ (۱۶) ۱۶۲۶؁ء میں انگریزی سیّاح سینٹ طامس ہربرٹ،افریقہ سے ہندوستان پہنچتا ہے اور ویلم فنچ اور ایڈورڈ ٹیری کے بیانات کی تائید ان الفاظ میں کرتا ہے:
’’اکبر کی ایک چہیتی بی بی کا نام انارکلی تھا۔جہانگیر نے اس کے ساتھ کچھ چھیڑ چھاڑ کی۔ اکبر کو خبر ہوئی۔ ۔۔۔حرم سرا میں آتے ہی اکبر طیش میں آیا اور بیٹے کو ایسے مُکّے مارے کہ وہ گر پڑا۔۔۔ٹامس ہربرٹ کا ’’سیاحت نامہ افریقہ و ایشیا‘‘ بھی مستند حوالہ ہے۔‘‘ (۱۷)
عہد جہانگیری کےایک اور برطانوی سیاح ولیم روسٹو ’’Early travels in india1598۔1619‘‘ میں ان ہی بیانات کو دہراتا ہے۔یہ چاروں انگریز عہدِ جہانگیری کے مُعاصر گواہیاں ہیں۔ لیکن انگریز بیوی اور کنیز میں فرق نہیں کرسکتے اس لیے انھوں نے انارکلی کو اکبر کی چہیتی بیوی کہا ہے۔لیکن سیاحوں کے ان بیانات سے انارکلی بطورِ لونڈی ہی سہی ،اکبر کے حرم سے اس کا تعلق ہونا ثابت ہوتا ہے۔
یہ تمام حوالے جو اوپر بیان ہوئے، انارکلی کے وجود اور پھر اس کی موت و مدفن کے سچ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ مغل مؤرخین نے جن واقعات کو پس پشت رکھا یا واہمہ قرار دیا مرزا حامد بیگ نے محنت شاقہ کا مظاہرہ کرکے نہ صرف صاف و شفاف تاریخ کا کھوج لگایا بل کہ اس انارکلی کی بازیافت کی جو سفاکی کا نشانہ بنی۔ تاریخیت نے اپنا پہرا مطلقیت، حتمیت اور آفاقیت کی صورت میں سماج و ادب پر بٹھایا تھا۔ لیکن نوتاریخیت نے تاریخ کا ازسرنو جائزہ لیا۔ انھوں نے اصل تاریخ کی بازیافت کرکے اسے غیر مطلق، غیرحتمی اور مقامی قرار دیا۔ مابعدجدیدیت نے نوتاریخیت کی شکل میں تاریخ کا ایک ایسا منظرنامہ پیش کیا جو منطقی ہے۔ یہی صورت حال ہمیں ناول ’’انار کلی‘‘ میں ملتی ہے۔ مرزا حامد بیگ نے انارکلی اور عہد اکبری و جہانگیری کا ازسر نو جائزہ لے کر سچی تاریخ کو آشکارا کیا۔ انارکلی کے متعلق مغل مؤرخین نے یا تو خاموشی اختیار کی یا انھوں نے محض اسے ایک فرضی کردار کے طور پر پیش کیا۔ لیکن مرزا حامد بیگ نے مذکورہ مستشرقین کے مستند حوالاجات کا کھوج لگا کر روایتی تاریخ کو واہمہ ثابت کیا۔
انارکلی کی بازیافت کے معاملے میں محمد دین فوقؔ کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے اپنے ناول ’’انارکلی‘‘جو ۱۸۹۹؁ء میں شائع ہوا،میں انارکلی کے متعلق حقائق پیش کیے۔ یہ ناول کئی حوالوں سے اہم ہے۔ فوقؔ نے پہلی مرتبہ اس ناول میں انارکلی کا المیہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ یہ ناول ایک بنگلہ ڈرامےکی بنیاد بھی بنا۔اس ڈرامے کااردوترجمہ میاں محمداختر جوناگڑھی نےکیا،جوعبدالحلیم شرر کے رسالے ’’دلگداز‘‘میں شائع ہوا۔ اس ڈرامے کا انگریزی ترجمہ بھی ہوا تھا جو ’’ماڈرن ریویو‘‘ کے ۱۹۱۹؁ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ مدعا یہ کہ فوقؔ کا ناول اور ان کے پیش کردہ حقائق اہم ہیں اس لیے تو اتنے فن پاروں کےلیے حوالہ بنے۔ فوقؔ نے اس ناول میں انارکلی کے مدفن کے متعلق لکھا ہیں:
’’ یہی لکھا ہے فوقؔ نے کہ انارکلی کو زندہ دیوار میں چن دیا گیا لیکن یہ تو شہر لاہور کی سینہ در سینہ روایت ہے۔ البتہ فوق نے یہ جو لکھا ہے کہ انارکلی کا مقبرہ جہانگیر نے اکبر بادشاہ کی وفات کے بعد تعمیر کروایا تو اہم بات یہ ہے۔‘‘(۱۸)
اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انار کلی کو آیا صرف شہزادہ سلیم سے محبت کے جرم میں زندہ دیوار میں چنوا دیا گیا، یا اور بھی وجوہات اس واقعے کے پیچھے کارفرما تھے۔ اس کے متعلق بھی مرزا حامد بیگ نے وسعت نظری سے کام لیا ہے اور سطحی باتوں اور روایتی تاریخ کی مسخ شدہ صورت کو صاف کیا ہے۔ جس طرح دوسرے واقعات کے متعلق تاریخ خاموش ہے بالکل اسی طرح اس واقعے کےحوالےسےبھی ملا عبدالحمیدلاہوری،محمد صالح ، ملا عبدالقادر بدایونی او ر تزک جہانگیری نے خاموشی کا مظاہرہ کیا ہے۔سیّد محمد لطیف کی کتاب ’’Lahore: its history, Architecural remains and antiquities‘‘ اس معاملے میں ایک نئے انکشاف کو سامنے لاتی ہے۔ انھوں نے انارکلی کی سزا کے متعلق اہم نکتہ یہ پیش کیا کہ یہ سزا اصل میں اس سازش کی وجہ سے دی گئی کہ جب سلیم اپنے باپ کو مارنے کا منصوبہ بنارہا تھا اور انارکلی نے سلیم کا ساتھ دیا۔ حامد بیگ کے مطابق ، سیّد محمد لطیف اپنی کتاب کے صفحہ ۱۸۶ پر لکھتے ہیں:
“۔۔۔۔ایک روز جب اکبر،ایک ایسے کمرے میں بیٹھا تھا ،جس میں آئینے نصب تھے اور نوجوان انارکلی ،اُس کی خدمت میں حاضر تھی ،اُس نے آئینوں میں انارکلی کا عکس دیکھا کہ وہ شہزادہ سلیم کی مسکراہٹ کے جواب میں مُسکرائی تو اِس شک کی بنا پر کہ وہ اُس کے بیٹے کے ساتھ کسی ساز ش کی آلہ کار ہے ،بادشاہ نے اُسے زندہ درگور کردینے کاحُکم سنایا ،لہذا اُسے مقررہ مقام پر سیدھا کھڑا کرکے اس کےاردگرد اینٹیں چُنواں دی گئی۔”(۱۹)
۱۰ اکتوبر۱۹۲۰؁ءمیں لاہورسےشائع ہونےوالے“Civil and Military Gazette”میں “Anarkali’s Tomb: Church and pro- cathedral” کے عنوان سے لکھے گئے مضمون نےسّید محمد لطیف کے اس بیان کی مکمل طور پر تائید کی ہے۔(۲۰) عہد اکبری کا مشہوردرباری شاعر عرفی شیرازی ۱۵۸۹؁ء میں شہزادہ سلیم کا اتالیق مقرر ہوا۔ ان کے اشعار سے نہ صرف ولیم فنچ، ایڈورڈ ٹیری، ہربرٹ اور ولیم روسٹر کے بیانات کی تصدیق ہوتی ہے بل کہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انارکلی لونڈی کے طور پر داخلِ حرم تھی اور سلیم سے اس کا معاشقہ چل رہا تھا۔ عرفی نے اشاروں، کنایوں میں اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھایا ہے کہ یہ کم سن لونڈی قاضی حسین مالکی سے حاصل کردہ فتویٰ کے تحت اکبر کےلیے حلال قرار پائی تھی۔ عرفی کے اشعار کا ترجمہ ڈاکٹر حامد بیگ یوں کرتے ہیں :
’’یہ طے شدہ امر ہے کہ حسینہ، اُس وقت تک بیٹے کےلیے حلال نہیں، جب تک وہ باپ کی خواب گاہ میں مقیم ہو۔ لیکن ہر ادنیٰ تا اعلیٰ سے حاصل کردہ فتویٰ کے ذریعے وقت کی دلہن بہ یک وقت اکبر بادشاہ اور شہزادہ سلیم کےلیے حلال قرار پائی۔‘‘ (۲۱)
عرفی نے اگرچہ شاعری کی زبان میں یہ تصورات علامتی انداز میں پیش کیے تھے لیکن اس کے بعد زہرخوانی کی وجہ سے ان کا قتل ہونا بھی غور طلب سانحہ ثابت ہوتا ہے۔ آخر وہ پہلے ہی کیوں قتل نہیں ہوا؟۔ عرفی کا ان اشعار کے بعد قتل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی کہی ہوئی حقیقت کسی سے برداشت نہ ہوسکی اور ان کو انجام تک پہنچایا گیا۔ انارکلی کی موت کا ایک سبب اور بھی بتایا گیا ہے۔۱۵۹۴؁ء میں شہزادہ سلیم پاگل آدمی کے روپ میں انارکلی کے کمرے میں آیا تھا جس کو شہزادہ دانیال نے پکڑا تھا۔مرزا حامد بیگ کے مطابق یہی بھیانک واقعہ انارکلی کے زندہ درگور ہوجانے کا سبب بنا۔”آئینِ اکبری”کےتحت غیرمرد(شہزادہ سلیم)سےارتباطِ مجرمانہ کےجرم کی سزاکےطورپرانارکلی کاناک اوردونوں کان کاٹ دیےگیےتھے۔”ولیم فنچ اور ولیم روسٹر نے یہ بھی صاف صاف لکھا ہے کہ انارکلی کو قلعۂ لاہور کے اندر اکبری محل میں زندہ دیوار میں۲۹ نومبر تا ۶ دسمبر ۱۵۹۹؁ء کی درمیانی مدت میں زندہ دیوار میں چنوادی گئی تھی۔ (۲۲)
اس ناول کے لکھنے کا اصل مدعا گم شدہ انارکلی کی بازیافت اور اس کو اپنے اصل مدفن منتقل کرنا ہے۔ مذکورہ جائزے میں جتنے بھی حقائق پیش کیے گئے وہ انار کلی کی حقیقی ہونے، اور اس کے ظالمانہ قتل ہونے کے واقعے پر دلالت کرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بات بھی سامنے آجاتی ہے کہ کون کون اس سفاکی میں ملوث تھے اور یہ واقعہ کن وجوہات کی بنا پر رونما ہوا۔ ان حقائق کے بعد انارکلی کے اصل مدفن کے متعلق دلائل کے کھوج کی باری آتی ہے۔ یہ بات تو واضح ہوگئی کہ جہانگیر نے اپنی محبت کی یاد میں کس جگہ مقبرہ تعمیر کیا۔ مرزا حامد بیگ کے مطابق۳۱ مئی ۱۶۰۶؁ء کو جہانگیر نے انارکلی کے حجرے کی وہ دیوار کھلوائی ہوگی اور وہاں انارکلی کی ساڑھے سات سالہ پرانی لاش پر نگاہ ڈالی ہوگی۔ اس کے بعد انھوں نے یہ حکم صادر کیا ہوگا کہ:
’’شہر سے باہر ٹبّہ بابا فرید گنج شکرسے کچھ آگے، ملتان کو نکل جانے والی گزرگاہ کے دائیں ہاتھ، شیخ فرید بخاری کی نوتعمیر شدہ مسجد کے قریب دریائے راوی کے کنارے دفنانے کا اہتمام کرو۔ قبر پر ایک عالی شان مقبرہ، جو انار کی کلیوں سے مشابہ ہو تعمیر کرواؤ، جو چار مربع باغ سے محصور ہو۔ نیز انارکلی کی قبر کے تعویز پر اپنا ایک فارسی شعر کندہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہوگی:
تاقیامت شُکر گویم کِردگارِ خویش راآہ! گرمن بینم رُوی یار خویش را(۲۳)
انارکلی کے مدفن کے متعلق ایک ضعیف روایت یہ بھی ملتی ہے کہ مقبرہ انارکلی میں مرکزی گنبد کے عین نیچے اگر فرش اکھاڑی جائیں تو وہاں پر تین قبروں کے آثار ملتے ہیں۔درمیانی قبر انارکلی کی اور باقی دو قبریں اس کی ماں اور بہن کی بتائی جاتی ہیں۔ اس روایت کو تقویت نور احمد چشتی کی کتاب ’’تحقیقاتِ چشتی‘‘ سے بھی ملی۔ بعد میں اسی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈراما ’’انارکلی‘‘ اور کے۔آصف کی فلم ’’مغل اعظم‘‘ میں انارکلی کی بہن اور ماں کے کردار تراشے گئے۔ اس کے بعد یہ خبر بھی سعداللہ ریکارڈکیپر محکمۂ آرکائیو، پنجاب سامنے لائے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران حکومت پنجاب نے مقبرہ انارکلی کو ایئر ریڈ شیلٹر بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ پنجاب سیکرٹریٹ کے ملازمین جاپانی ہوائی حملے سے محفوظ رہ سکیں۔ اس مقصد کےلیے جب مقبرے کے اندر جنوبی دروازے کے قریب چودہ پندرہ فٹ کھدائی کی گئی تو کوئی تہہ خانہ نظر نہ آیا۔ اس کے بعد جب گنبد کے نیچے کھدائی کی گئی تو پانچ چھ فٹ کے بعد ایک قبر شمالاً جنوباً دکھائی دی۔ لہذٰا تہہ جانے کے غیرموجودگی کے سبب کام روک دیا گیا۔ نور محمد چشتی نے انارکلی کی قبر کے علاوہ جن دو قبروں کا ذکر کیا ہے وہ بیان میاں سعد اللہ کی تحقیق سے رد ہوجاتی ہے۔(۲۴)غرض اس طرح کے غیرمدلل بیانات انارکلی کے مدفن کے متعلق سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ انگریزوں کے تسلط کے بعد آتا ہے۔ انگریزوں نے مقبرے کی عمارت کو چرچ میں تبدیل کیا اور مقبرے کا تعویذ اپنی جگہ سے ہٹا کر پھر منتقل نہیں کیا ۔اس وجہ سے آثار مٹ گئے اور انارکلی کو لوگوں نے برسوں واہمہ سمجھا۔سید محمد لطیف نے اس عمل کی وضاحت کی ہے لیکن انارکلی کے نئے مدفن کی واضح نشان دہی نہیں کی۔ ان کے مطابق:
’’۱۸۵۲ء میں جب مقبرہ انارکلی کو چرچ بنانے کا فیصلہ ہوا تو انارکلی کا استخواں، قبر کھود کر نکالا گیا اور مقبرے کے ایک برج کے نیچے دفن کردیا گیا۔‘‘(۲۵)
مقبرہ انار کلی کو ۱۸۵۷؁ء میں باقاعدہ طور پر ’’ سینٹ جیمز چرچ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد یہاں پر موجود عہد جہانگیری کے تمام نقوش مٹا کرپروٹسٹنٹ عیسائی فرقہ سے متعلق نشانات نصب کیے گئے۔اس میں ایک بڑا گھڑیال بھی لگایا گیا اور اب مقبرہ انارکلی’’Pro Cathedral‘‘سے موسوم ہوا۔ اس کے بعد علامہ اقبال کے منشی طاہرالدین بھی کچھ اس طرح انکشاف کرتے ہیں کہ عہد انگلشیہ میں قبر کھود کر انارکلی کے استخواں کو مقبرہ ہی کے ایک بغلی برج میں دفنایا گیا۔ لیکن طاہرالدین نے بھی مخصوص جگہ کی نشان دہی نہیں کی کہ کس برجی میں دفنایا گیا ، برجیاں تو وہاں بہت ہیں۔انارکلی کے مدفن کے متعلق اتنے شواہد پیش کیے گئے کہ ان کے انبار میں یہ مدفن اپنا وجود کھو بیٹھی۔ ان شواہد پر عمل پیرا ہوکر کچھ لوگوں نے چپکے سے آثار تلاشنے کی کوشش بھی کی لیکن خاظر خواہ مواد سامنے نہیں آیا۔ ان لوگوں میں انیس ناگی کا نام نمایاں ہے۔انیس ناگی نے ۱۹۹۰؁ء میں مقبرے کے اندرگنبد کے عین نیچے رات کی تاریکی میں جب بورنگ کروائی تو چودہ فٹ تک صرف مٹی برآمد ہوئی۔ اس عمل کے بعد یہ مفروضہ واہمہ ثابت ہوتا ہے کہ مقبرے کے اندر عین گنبد کے نیچے مدفن ہے۔ اس واقعے کے چشم دید گواہ مرزا حامد بیگ خود ہیں۔
ان تمام مفروضات کے برخلاف مرزا حامد بیگ نےمحققانہ وسعت نظری اور گہری بصیرت سے کام لیتے ہوئے تاریخیت کے گھڑے ہوئے تصورات کو زمین بوس کیا۔ مرزا حامد بیگ نے ایک انگریز مؤرخ سی۔گرے کا ایک مضمون ’’The Story of Anarkali‘‘ ڈھونڈ نکالا جو ۱۹۳۴؁ء میں شائع ہوا تھا۔ سی۔ گرے کے اس مضمون میں موجود حقائق کی وجہ سے پچھلے بیان کردہ حقائق غیر مستند ٹھہرتے ہیں۔ اس مضمون سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ انارکلی کا مدفن مقبرہ انارکلی کے صدر دروازے سے ملحقہ بائیں برجی کے نیچے دفن ہے۔ سی۔ گرے لکھتے ہیں:
‘‘When the tomb was converted to a chirctian church in 1952, the body was removed and reburied the left hand tower facing the mausoleum, where it still remains, not far from the tombstone which ones covered the grave within the building (۲۶)
یہی وہ مستند حوالہ ہے جو سی۔گرے نے انارکلی کے مدفن کے متعلق بیان کیا ہے۔اس حوالے کے سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر سرجیت کور بااعتماد لہجے میں کہتی ہے کہ ہے اب کوئی مائی کا لال جو ہمیں انارکلی کو اسی کے مقبرے میں عین گنبد کے نیچے دفنانے سے روک سکے؟اس کے بعد حامد بیگ بھی کہتے ہیں ،’’انارکلی سے متعلق بے سرو پا باتیں رد ہوئیں ، سارا منظرنامہ صاف ہوگیا۔ ایسا کیوں نہ ہوتا۔ تاریخ اور آثارقدیمہ کے عالم بات کررہے تھے۔۔۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔‘‘(۲۷) جس بے سرو پا باتوں کا حوالہ حامد بیگ نے دیا ہے یہ اصل میں وہ روایتی تاریخ ہے جو دراڑوں اور فاصلوں سے پُر انارکلی کے متعلق پیش کی گئی ہے۔ حامد بیگ نے ان دراڑوں کو ختم کرکے ایک نوتاریخی ناول قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس ناول کی انفرادیت یہی نوتاریخیت اورمعلوماتی خزانےکی ہے جس سے حامد بیک کے تحقیقی شعور کا پتہ چلتا ہے۔مرزاحامدبیگ کےنوتاریخی کوشش پرعرفان صدیق کا یہ شعرصادق آتاہےکہ :
تم جو کچھ چاہو وہ تاریخ میں تحریر کرو
یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا(۲۸)

حوالاجات
۱) https://youtu.be/3yPTa0xuOAY?si=qLcPBPLyG0MRSgHr
۲) ایضاً
۳) ایضاً
۴) اختر علی، کشور ناہید کی شاعری کا مابعد جدید مطالعہ، عکس پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۲۲، ص ۹۹، ۱۰۰
۵) https://youtu.be/3yPTa0xuOAY?si=qLcPBPLyG0MRSgHr
۶) ڈاکٹر ناصر عباس نیئر، جدید اور مابعد جدید تنقید، انجمن ترقی اردو، ۲۰۱۴، ص ۲۴۶، ۲۴۷
۷) اختر علی، کشور ناہید کی شاعری کا مابعد جدید مطالعہ،محولہ بالا،ص ۱۰۳
۸) مرزا حامد بیگ، انارکلی، علم و عرفان پبلشرز، لاہور، ۱گست ۲۰۲۲ء، ص ۵۳
۹) ایضاً، ص: ۴۳، ۵۴
۱۰) ایضاً، ص: ۵۳
۱۱) ایضاً، ص: ۸۶
۱۲) ایضاً، ص: ۶۰
۱۳) ایضاً، ص: ۵۰
۱۴) ایضاً، ص” ۴۶
۱۵) ایضاً، ص: ۸۰، ۸۱
۱۶) ایضاً، ص: ۸۳
۱۷) ایضاً، ص: ۸۳، ۸۴
۱۸) ایضاً، ص: ۶۸
۱۹) ایضاً، ص: ۸۷
۲۰) ایضاً
۲۱) ایضاً، ص: ۹۶
۲۲) ایضاً، ص: ۱۱۷
۲۳) ایضاً، ص: ۱۲۴
۲۴) ایضاً، ص: ۱۲۸
۲۵) ایضاً، ص: ۱۲۹
۲۶) ایضاً، ص: ۱۳۲
۲۷) ایضاً، ص: ۱۳۳
۲۸) https://youtu.be/3yPTa0xuOAY?si=qLcPBPLyG0MRSgHr

اپنا تبصرہ لکھیں