ٹی از فنٹاسٹک سے معرکہء حق تک/ ڈاکٹر جواد ریاض

پاکستان میں جب بھی نوجوان پاک فوج میں شمولیت کا خواب دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی آتا ہے کہ آخر وہ کون سا معیار ہے جس پر پورا اتر کر ایک عام شہری سپاہی بنتا ہے، اور پھر یہی کڑا سفر انہیں ایک باوقار ادارے کا حصہ بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج میں شمولیت کسی عام ملازمت کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا کٹھن امتحان ہے جس میں جسمانی، ذہنی اور اخلاقی ہر پہلو کو پرکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کے لیے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔

ایک عام امیدوار کے لیے سپاہی کے طور پر منتخب ہونا بظاہر عام سی بات لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ کئی مراحل پر مشتمل ایک سخت عمل ہے۔ سب سے پہلے امیدوار کی بنیادی اہلیت دیکھی جاتی ہے جس میں عمر، تعلیم اور جسمانی معیار شامل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار ان ابتدائی شرائط پر پورا نہیں اترتا تو وہ پہلے ہی مرحلے میں باہر ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد جسمانی ٹیسٹ ہوتا ہے جس میں دوڑ، پش اپس، چن اپس اور دیگر جسمانی مشقیں شامل ہوتی ہیں۔ یہاں وہی امیدوار کامیاب ہوتا ہے جو نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط ہو بلکہ برداشت اور استقامت بھی رکھتا ہو۔ بہت سے امیدوار اسی مرحلے پر خارج ہو جاتے ہیں کیونکہ پاک فوج صرف ملازمت نہیں بلکہ مکمل اور منفرد طرزِ زندگی ہے جو محض طاقت نہیں بلکہ مستقل مزاجی کا تقاضا کرتی ہے۔

اگلا مرحلہ میڈیکل ٹیسٹ کا ہوتا ہے، جہاں امیدوار کی مکمل جسمانی جانچ کی جاتی ہے۔ نظر کی کمزوری، دل یا سانس کی بیماری، یا کسی بھی قسم کی جسمانی خامی امیدوار کو نااہل بنا سکتی ہے۔ اس کے بعد تحریری امتحان اور انٹرویو کا مرحلہ آتا ہے جہاں امیدوار کی ذہنی صلاحیت، عمومی معلومات بالعموم اور رویے کو بالخصوص جانچا جاتا ہے۔

آخر میں میرٹ لسٹ تیار کی جاتی ہے، جس میں صرف وہی امیدوار شامل ہوتے ہیں جو ہر مرحلے میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اس طرح پاک فوج میں ایک سپاہی بھرتی ہونے کے لیے بھی کئی مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے، اور ہر مرحلے کا دروازہ صرف بہترین امیدوار کے لیے کھلتا ہے۔

یہ سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ آخر اتنے زیادہ امیدوار کیوں باہر ہو جاتے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پاک فوج کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتی۔ اگر کوئی امیدوار ذہنی اور جسمانی صلاحیت کے معیار پر پورا نہیں اترتا، یا اس کا رویہ فوجی نظم و ضبط کا اہل نہ ہو تو اسے فوراً خارج کر دیا جاتا ہے۔

یہ سخت معیار دراصل اس لیے ضروری ہے کیونکہ فوج میں شامل ہونے والا ہر فرد دیگ کے چاول کا وہ دانہ ہے جس میں معمولی کمی بھی میدانِ جنگ میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے انتخاب کے عمل میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جاتی۔

اب سوچیں اگر ایک سپاہی کی بھرتی کے لیے معیار اتنا سخت ہے تو کمیشنڈ آفیسر کے لیے اس سے کہیں زیادہ کڑا معیار مقرر کیا گیا ہے۔ آفیسر کی بھرتی میں ہر امیدوار کو نہ صرف تعلیمی قابلیت بلکہ قیادت کی صلاحیت، فیصلہ سازی، ذہنی پختگی اور کردار کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔

انٹر سروسز سلیکشن بورڈ (ISSB) وہ مرحلہ ہے جہاں امیدوار کی انہی معیارات پر جانچ ہوتی ہے۔ یہاں گروپ ٹاسکس، نفسیاتی ٹیسٹ، انٹرویوز اور عملی مشقوں کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا امیدوار میں قیادت کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر قابل امیدوار بھی باہر ہو جاتے ہیں کیونکہ فوج کو صرف ذہین نہیں بلکہ متوازن اور بااعتماد لیڈر درکار ہوتے ہیں، جو ہر مشکل میں آہنی دیوار ثابت ہوں۔

پاکستان آرمی میں شمولیت ایک اعزاز ہے، لیکن یہ اعزاز صرف انہی کو ملتا ہے جو سخت ترین معیار پر پورا اترتے ہیں۔ سپاہی سے لے کر آفیسر تک، ہر سطح پر میرٹ، محنت اور قربانی کے جذبے کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ نہ صرف ملکی دفاع کا ضامن ہے بلکہ ایک ایسی قوت بھی ہے جو صرف میرٹ پر پروان چڑھتی ہے۔

اسی میرٹ کے سخت معیار کی وجہ سے عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ “آرمی چیف بھی اپنے بیٹے کو کمیشن نہیں دلوا سکتا”۔ اس جملے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ یہ اثرورسوخ سے مبرا ہے بلکہ پاک آرمی میں ادارہ جاتی نظام اتنا مضبوط ہے کہ کسی بھی اثرورسوخ کے مقابلے میں حتمی فیصلہ میرٹ اور کارکردگی پر ہی ہوتا ہے۔ یہ سخت معیار صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ثابت ہوا ہے۔

پاکستان آرمی نے ملک کی آزادی سے لے کر آج تک ہر محاذ پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ چاہے بیرونی خطرات ہوں یا اندرونی چیلنجز، فوج نے ہمیشہ ایک “سیسہ پلائی دیوار” کی طرح ملک کا دفاع کیا ہے۔

جب ملک میں زلزلہ یا سیلاب آتا ہے تو سب سے پہلے فوج ہی میدان میں نظر آتی ہے۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا حالیہ سیلاب، فوج نے لاکھوں لوگوں کو بچایا، خوراک اور پناہ فراہم کی اور متاثرہ علاقوں کو دوبارہ آباد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان آرمی نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا اور ملک میں امن بحال کیا گیا۔ ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ادارہ محض طاقت نہیں بلکہ ملکی بقا کا ضامن بھی ہے۔

پچھلے سال پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی فوج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ جدید جنگی حکمتِ عملی اور فضائی دفاع کے ذریعے دشمن کو واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ بعض دعوے اور جوابی بیانات دونوں اطراف سے سامنے آتے رہتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت نے ہمیشہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا ہے۔

دشمن اور ایک ناسمجھ پاکستانی طبقے کی طرف سے یہ من گھڑت جھوٹ بولا جاتا ہے کہ 1971 میں پاکستان کے 90 ہزار فوجی جنگی قیدی بنا لیے گئے، لیکن درحقیقت خود بھارتی ریاست کی طرف سے بھی ان سب 90 ہزار جنگی قیدیوں کے فوجی ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا گیا۔ بلکہ جنگی قیدی بنائے گئے ان نوے ہزار لوگوں میں آدھی سے زیادہ تعداد سویلینز کی تھی۔ اس بات کو اس وقت مشرقی پاکستان میں تعینات فوجی اہلکاروں کی تعداد سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اور “گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں” کے مصداق اس واقعے کو سمجھنے کے لیے اس وقت کے سیاسی، عسکری اور بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اس سانحہ کی پیچیدگی کو اس وقت کے معروضی حالات سے الگ کر کے محض ایک جذباتی جملے میں بیان کرنا درست ہوگا نہ ہی سچ۔ مگر “ٹی از فینٹاسٹک” اپنی جگہ سچ ہے۔ 6 بھارتی طیارے گرانا بھی ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جن میں سے غالب امکان ہے کہ 4 جدید ترین رافیل طیارے تھے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے بیشتر بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی طرف سے 6 بھارتی طیارے گرانے کا تذکرہ پاک فوج کے نظم و ضبط، مہارت اور ایک ادارے کے طور پر ملک سے اس کی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 9 مئی 2025 کے معرکۂ حق میں پاکستان کی غیر معمولی کارکردگی نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک باوقار ملک کے طور پر ابھارا ہے۔ ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں نے اسے ذمہ دار ملکوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جو دنیا میں بقائے باہمی کا قائل ہے مگر ضرورت پڑنے پر معرکۂ حق لڑنا بھی جانتا ہے۔

پاکستان کو جہاں بیرونی خطرات کا سامنا ہے، وہیں اندرونی سطح پر بھی چیلنجز موجود ہیں۔ فوج کی ذمہ داری صرف سرحدوں کا دفاع نہیں بلکہ ملک کے اندر استحکام کو یقینی بنانا بھی ہے۔ ایسے عناصر جو سیاسی وابستگی کے نام پر یا دیگر بنیادوں پر ملک کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں، ان کا مقابلہ بھی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ 9 مئی اندرونی ہو یا بیرونی، ریاست کے ساتھ مل کر ان سے جیسے نمٹا گیا، یہ پاک فوج کے پروفیشنل ہونے کا ثبوت ہے۔ دنیائے عالم میں حالیہ بہت سی ریاستوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے جہاں انارکی پھیلا کر ان ملکوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔

پاکستان آرمی نہ صرف بیرونی دشمن کے خلاف آہنی دیوار ہے بلکہ اندرونی استحکام کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ قومی یکجہتی اور آئینی دائرہ کار کو مدنظر رکھا جائے تاکہ ملک مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔

پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد

اپنا تبصرہ لکھیں