ہمیں اس سوال پر بار بار غور کرنے کی ضرورت ہے کہ “ جب کوئی شخص ، گروہ ، قوم ، اپنی زبان سے محروم ہوتی ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے ؟ “
10مئی کے گارڈین میں شائع ہونے والے زیر نظر مضمون میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
زبان سے محرومی کے اثرات محض سماجی و ثقافتی نہیں ، جذباتی اور نفسیاتی بھی ہیں۔
زبان صرف ابلاغ کا وسیلہ اور ایک ثقافتی ورثہ نہیں ہے، اس سے کہیں بڑھ کر ہے ۔
جو لوگ یا گروہ کسی ایک زبان کی حاکمیت چاہتے ہیں، وہ زبان کو محض ابلاغ کا آلہ کہتے ہیں اور اس رائے کو مسلسل دہرا کر فروغ دیتے ہیں۔
اس سے لوگوں کو یقین دلانا آسان ہوتا ہے کہ زبان کا کام چوں کہ ابلاغ ہے ، اس لیے کوئی بھی زبان کام دے سکتی ہے اور وہ زبان زیادہ کار آمد ہے جسے دنیا کے زیادہ لوگ بولتے ہیں، جس میں تجربات ، علوم ، فنون امہات الکتب کا تنوع ہے۔
یہ دلیل ایک یا چند عالمی زبانوں؛ جیسے انگریزی ، مینڈرین ، ہسپانوی ، فرانسیسی … کو “ نفسیاتی برتری “ دلاتی ہے۔ باقی زبانوں کو ثقافتی ورثے کا حامل قرار دے کر ، بہ ظاہر معزز مقام دیا جاتا ہے مگر حقیقت میں کنارے پر دھکیل دیا جاتا ہے اور کچھ این جی او کا اس بہانے روزگار چلتا ہے ؛ انھیں فنڈ ملتے اور وہ ان معدوم ہوتی زبانوں کی معلومات جمع کرتی، انھیں محفوظ کرتی ہیں۔ محفوظ کیا ، حنوط کرتی ہیں۔
زبان کو محفوظ ، زبان کو بولے جانے کی صورت ہی رکھا جاسکتا ہے۔ زبان، تعلیم ، صحت، آزادی کی مانند بنیادی حق ہے۔
زبان انسانوں کی ابلاغی ، سماجی ، جذباتی ، نفسیاتی اور تخیلاتی ضرورت ہے۔ پہلی، مادری ، آبائی زبان ۔
اکتسابی زبانوں کی افادیت سے کس کو انکار ہوسکتا ہے، ان میں موجود علم ، تجربات کے تنوع اور دوسرے لسانی گروہوں سے مکالمے کی اہمیت کا انکار کون کافر کرتا ہے ۔
اصل مسئلہ ، ایک زبان کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ دوسری زبان کا قتل کرسکے ۔ زبان کا قتل ، استعارہ نہیں۔ ایک زبان کے اجارے ، ایک زبان سے ہر طرح کی برتری ، عزت ، توقیر اور غیر معمولی مواقع وابستہ کر دینے سے باقی زبانیں واقعی مرنے لگتی ہیں۔
انھیں بولنے والے کم ہوتے جاتے ہیں۔ اس وقت دنیا کی سات ہزار زبانوں میں سر چوالیس فی صد زبانیں بستر مرگ پر ہیں ۔ ایک قوم ایک زبان اور کسی ایک عالمی زبان کے اجارے سے ہزاروں زبانیں مررہی ہیں۔
اس مضمون میں کینیڈا کی ایک چشم کشا تحقیق کا ذکر ہے کہ جن نوجونواں نے اپنی مادری زبانوں میں اظہار خیال جاری رکھا ، ان میں خود کشی کی شرح کافی کم تھی ۔
یہ تحقیق، زبان کے نفسیاتی کردار اور ذہنی و جذباتی صحت میں اس کے کلیدی رول کی نشان دہی کرتی ہے ۔
ایک زبان کو مجبوری کے تحت اختیار کرنا، گویا اپنی سب سے قیمتی متاع : ذہنی و جذباتی صحت کو داؤ پر لگانا ہے ۔ زبان کا نفسیاتی جبر، سیاسی جبر سے کسی طور کم نہیں۔
تعلیم میں اس پہلو کو نظر میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک مسلط کی گئی زبان، آلہ ابلاغ کے علاوہ آلہ قتل بھی بن سکتی ہے۔


