بڑے میاں کی عینک/مقصود جعفری

دوپہر کی دھوپ صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھے بوڑھے کے سر پر آ گئی تھی، لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ سامنے ایک پرانا لکڑی کا میز تھا جس پر چائے کا خالی کپ اور اخبار پڑا تھا۔ابا جی ! چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ بہو نے کچن سے آواز لگائی۔بوڑھے نے کوئی جواب نہ دیا، بس ساکت بیٹھا رہا۔ اس کی نظریں سامنے دیوار پر لگی اس تصویر پر جمی تھیں جو شاید پچھلے بیس سالوں سے وہیں لٹکی ہوئی تھی۔
آپ بھی نا… بس ضد پکڑ لیتے ہیں۔ بیٹا کمرے سے باہر نکلتے ہوئے بولا۔ اس نے ایک نظر اپنے باپ پر ڈالی جو اپنی مخصوص کرسی پر بالکل سیدھا بیٹھا تھا۔ آج پھر وہی پرانی واسکٹ پہن لی؟ اس میں سے تو اب بو آنے لگی ہے۔بیٹے نے آگے بڑھ کر بوڑھے کے کندھے پر ہاتھ رکھا، پھر ٹھٹک گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ کندھا ضرورت سے زیادہ سخت اور ٹھنڈا ہے۔ اس نے جھک کر باپ کے چہرے کو دیکھا۔ آنکھیں کھلی تھیں، لیکن ان میں وہ مخصوص چمک غائب تھی جو بحث کرتے وقت پیدا ہوتی تھی۔ارے… یہ تو…! بیٹے کی زبان لڑکھڑائی۔
اگلے دس منٹ میں گھر میں کہرام مچ گیا۔ بہو دھاڑیں مار مار کر رونے لگی اور بیٹا پڑوسیوں کو بلانے بھاگا۔ محلے کے لوگ جمع ہونے لگے۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا جس نے مختصر معائنے کے بعد تصدیق کر دی کہ دل کا دورہ پڑا ہے اور بڑے میاں اب اس دنیا میں نہیں رہے۔کتنے صابر انسان تھے۔ محلے کے حاجی صاحب نے آہ بھری۔دیکھو تو، بیٹھے بیٹھے خاموشی سے رخصت ہو گئے۔ کوئی تکلیف نہیں، کوئی آہ و بکا نہیں۔گھر میں رش بڑھتا گیا۔ میت کو صحن سے اندر کمرے میں منتقل کرنے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ اسی اثنا میں بیٹے کی نظر اپنے باپ کے چہرے پر پڑی۔ وہ مرنے کے بعد بھی ویسا ہی سنجیدہ اور بارعب لگ رہا تھا، لیکن ایک چیز کھٹک رہی تھی۔
بیگم! ذرا دیکھنا، ابا جی کی عینک کہاں ہے؟۔بیٹے نے آنسو پونچھتے ہوئے پوچھا۔ ان کے چہرے پر تو عینک نہیں ہے۔بہو نے رونا روکا اور ادھر ادھر دیکھا۔ ابھی تو پہنی ہوئی تھی جب میں چائے لائی تھی۔ شاید کہیں گر گئی ہو۔سب لوگ میت کے آس پاس فرش پر عینک ڈھونڈنے لگے۔نہ ملی تو تلاشی کی مہم تیز ہو گئی۔ الماری کے نیچے، کرسی کے پیچھے، یہاں تک کہ بوڑھے کی واسکٹ کی جیبوں میں بھی ہاتھ مارے گئے، مگر عینک غائب تھی۔عینک کے بغیر میت ٹھیک نہیں لگے گا۔ ایک دور کے رشتے دار نے مشورہ دیا۔وہ ہمیشہ عینک لگائے رکھتے تھے، تصویروں میں بھی وہی پہچان ہے۔ خالی چہرہ دیکھ کر تو پہچانے ہی نہیں جا رہے۔
اسی دوران باہر سے ایک شور اٹھا۔ محلے کا ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔بھائی جان! وہ… وہ غسال آ گیا ہے غسل دینے کے لیے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ دیر ہو رہی ہے، جلدی کریں۔بیٹے نے ایک آخری بار اپنے باپ کے ساکت وجود کو دیکھا۔ اس کے ذہن میں ایک عجیب سی الجھن تھی۔ اسے یاد آ رہا تھا کہ باپ کی وہ عینک سونے کے فریم والی تھی جو اس نے اپنی پہلی تنخواہ سے تحفے میں دی تھی۔چھوڑو عینک کو۔ بیٹے نے ایک لمبی سانس لی۔شاید اللہ کو یہی منظور تھا۔ ویسے بھی اب انہیں نظر آ کر کیا کرنا ہے؟ جہاں وہ گئے ہیں وہاں تو سب کچھ ہی اجالا ہو گا۔
میت کو غسل دینے کے لیے تختے پر لٹایا گیا۔غسال نے اپنے اوزار نکالے اور میت کا کرتا قینچی سے کاٹنے لگا۔ جیسے ہی اس نے بوڑھے کی واسکٹ کے بٹن کھولے، ایک دھاتی آواز آئی۔سب کی نظریں وہیں گڑ گئیں۔ بوڑھے کی واسکٹ کے اندرونی حصے میں، اس کے سینے اور کپڑے کے درمیان وہ سنہری عینک پھنسی ہوئی تھی۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ عینک کے دونوں شیشے ٹوٹے ہوئے تھے اور فریم بری طرح مڑا ہوا تھا۔
یہ یہاں کیسے آئی؟۔ بیٹا حیرت سے چلایا۔نائی نے مہارت سے عینک نکالی اور اسے روشنی میں دیکھ کر مسکرایا۔ صاحب! ایسا لگتا ہے کہ مرنے سے چند سیکنڈ پہلے بڑے میاں کو احساس ہو گیا تھا کہ اب وہ جا رہے ہیں۔ انہوں نے شاید عینک اتار کر چھپانے کی کوشش کی ہوگی تاکہ کسی کے ہاتھ نہ لگے۔لیکن یہ ٹوٹ کیسے گئی؟۔ بہو نے پوچھا۔نائی نے لاش کے اکڑے ہوئے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا جو اب بھی اپنی مٹھی کو مضبوطی سے بھینچے ہوئے تھا، جیسے کسی قیمتی چیز کو بچا رہا ہو۔ ٹوٹی نہیں ہے صاحب… انہوں نے خود اسے توڑ کر مروڑ دیا ہے، تاکہ ان کے بعد اسے کوئی اور نہ پہن سکے۔
کمرے میں اچانک ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ سب لوگ اس صابر اور شریف بوڑھے کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے، جس کے مردہ لبوں پر اب ایک پراسرار اور فاتحانہ مسکراہٹ رقص کر رہی تھی، جیسے وہ قبر میں جانے سے پہلے اپنا آخری مادی اثاثہ بھی ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گیا ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں