ہاتھ اور پاؤں کا استعمال، کبھی خوشی، کبھی وبال/محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہماری طرح کے عمر رسیدہ لوگوں کے ہاتھوں سے کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، انکے رعشہ زدہ نحیف و نزار ہاتھ بادل نخواستہ کسی پہ اٹھ بھی جائیں تو کسی کو تھپڑ رسید کرنے کی انکی آرزو پوری نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس سے پہلے کہ انکا ہاتھ بمشکل تمام کسی نوجوان کے گال پہ ہلکا سا چپت مارنے کے ارادے سے اٹھ بھی جاۓ تو مارنے والا ہاتھ ابھی ہوا میں ہی ہوتا ہے کہ فورآ نوجوان وہاں سے چمپت ہو جاتا ہے۔ البتہ کسی کسرتی بدن والے کے بھاری بھرکم ہاتھ کو، کوئی چیلنج کر بیٹھے تو موصوف بازو کے ڈولے دکھا کر کہہ اٹھتا ہے کہ یہ بازو میرے آزماۓ ہوۓ ہیں۔ طاقت دیکھنا چاہتے ہوتو میدان میں آؤ، ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ جب انکا ہاتھ اٹھتا ہے تو دن میں تارے نظر آ جاتے ہیں اور پھر مضروب ہاتھ جوڑ کر، پاؤں پڑ کر التجا کرتا ہے کہ ہم کا معافی دیدو،ہم سے بھول ہو گئی۔

اللہ نہ کرے کسی کے پاس ہاتھوں اور پاؤں کا سنگم نہ ہو۔ تو بھائی! جی تو وہ لوگ بھی لیتے ہیں، لیکن ایسا جینا کیا جینا جو کسی کو دوسروں کا محتاج بنا دے۔ محتاج لوگ تو مدد کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ اور غیرت رکھنے والے بنا پاؤں کے گھسٹ گھسٹ کربھی اپنے پیروں پہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم ہاتھ اور پاؤں والوں کے لئے اللہ کے حضور ہاتھ باندھے دست بدعا ہیں کہ اللہ کرے ہم سب کے ہاتھ پاؤں سلامت رہیں۔ آپ ۔دوسروں کے لئے اپنے تعاون کا ہاتھ بڑھاتے رہیں۔ ان کے کاموں میں ہاتھ بٹانے رہیں۔ اللہ آپکو اس کا بڑا اجر دیگا۔ دوسری بات جو خواہش بن کر ہمارے لبوں پہ آتی ہے وہ یہ کہ آپ کبھی بھی دوسروں کے معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ نہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر بگلا بنے رہیں ورنہ اس بات کا امکان ہے کوئی آپ کو پگلا نہ کہہ بیٹھے۔
سمجھدار لوگ سمجھدار بچوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن پوت کے پاؤں پالنے میں دکھائی دیتے ہیں ان کی تربیت میں ان کے والدین کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پیدل چلنا اچھی عادت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر حضرات بھی اس کا تقاضہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر پٹرول کی، آسمان سے چھوتی قیمتوں کے پیش نظر سب کو پیدل چلنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔ لیکن سب پاؤں والوں کو پیدل چلتے چلتے احتیاطا اپنی آنکھیں ضرور کھلی رکھنی چاہئیں۔ مگر اس احتیاط کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو ادھر ادھربھٹکنے سے بچانا لازمی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آنکھیں اور گردن کسی مہ جبیں حسینہ کی طرف مڑتی چلی جائیں اور آپ کا پاؤں کیلے کے چھلکے پر پڑ جاۓ، ایسا نہ ہو کہ آپ کے دل کے بجائے ٹانگ پھسل کرٹوٹ جاۓ۔ اس حادثے میں کس کا ہاتھ ہے کس کا نہیں، یہ بات طے ہے کہ قصور آنکھیں بھٹکنے اور پاؤں رپٹنے کا ہوتا ہے۔ کراچی والو! ہوشیار باش! کبھی کبھی برسات میں، خاص طور پر رات میں، جب کراچی کی سڑکیں نہریں بن جاتی ہیں، گھر سے نہ نکلیں۔ اور نہ ہی نہر میں نہاتے ہوۓ اس مشاقی پر ناز کریں کہ’ دھر ڈوبے ادھر نکلے’ اگر مجبوری کے ہاتھوں گھر سے نکلنا ہی پڑے تو چلنے والوں کو اپنے پاؤں پھونک پھونک کر زمین پہ رکھنے چاہئں ورنہ خدانخواستہ آپ غڑاب سے گٹر کے اندر چلے جائیں اور پھر ڈھونڈیں بھی تو کسی کے ہاتھ نہ آئیں۔

ایک کہاوت ہے کہ’ سر بڑا سردار کا اور پاؤں بڑا زمین دار کا ‘ ہوتا ہے۔ مگر ہمارا خیال ہے کہ آپ کے پاؤں چھوٹے ہوں یا بڑے، بڑی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے بڑوں کے پاؤں ضرور دبائیں۔ اللہ کے یہاں اس کا بڑا اجر ہے۔ زندگی بہت قیمتی شے ہوتی ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے۔ کبھی طاقت ور سے نہ ٹکرائیں۔ ویسے بھی زور آور کو دیکھ کر کمزوروں کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ ہم ایک نصیحت گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر وقت مستعد رھنا چاہیئے نہ کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھے رہیں۔ یاد رکھیں جب تک ہاتھ پاؤں نہ مارے جائیں، کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جو ہاتھ پاؤں نہیں ہلاتے وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انسان کے عمر رسیدہ ہونے کی دیر ہوتی ہے کہ ذمے داریاں پاؤں کی بیڑیاں بن جاتی ہیں۔ کبھی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر ہوتی ہے اور کبھی ہاتھ تنگ ہونے کی وجہ سے بچوں کی تعلیم میں رکاوٹیں در آتی ہیں۔ ایسے میں ہاتھ کا دیا ہوا ضرور کام آتا ہے۔ کچھ لوگ أگے بڑھتے ہیں اور گرتے کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ اگر آپ نے ماضی میں کسی کی مدد کے لئے ہاتھ نہ بڑھایا ہو، تو بہت ممکن ہے کہ جو کچھ آپ کے پاس موجود ہے آپ اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔

ایک بات یاد رکھیں کہ اپنے ہاتھ کی کمائی میں جو برکت ہوتی ہے، وہ ادھارقرض لیکر گزارا کرنے میں نہیں ہوتی۔ ویسے بھی جو کوئی مقروض ہوتا ہے، سب ہاتھ دھو کر پیسوں کی وصولی کے لئے اس کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ انسان کو اللہ سے دولت کی بہتات کی بجاۓ آمدن میں برکت کی دعا کرنی چاہئے۔ دولت تو ہاتھ کی میل ہوتی ہے، اس لئے اسے کھلے ہاتھ سے خرچ کرنے کی بجاے ہاتھ کھینچ کر ضروریات پر خرچ کرنا چاہئے۔ ورنہ جب دولت کی دیوی روٹھ جاتی ہے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں۔ چنانچہ بستر پہ پاؤں پسارکر پڑے رہنے سے بہتر ہے ہاتھ پاؤں مار کے کچھ نہ کچھ دال دلیا کی فکر کریں۔ ورنہ چاروں جانب کسمپرسی کا ایسا مہیب اندھیرا چار سو چھا جائے گا جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیگا۔ اور آپکے پاؤں بھی ڈگمگانے لگیں گے۔ ان لوگوں کے نقش قدم پر نہ چلیں جو دوسروں کے مال پہ ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ انہیں بڑے مگرمچھ کہاجاتا ہے مگر وہ کسی کے ہاتھ آتے ہیں نہ ان پہ ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔

آئیے ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اور قدم سے قدم ملا کر اپنی مادر وطن کے دفاع کے لئے ایک ہو جائیں۔ تاکہ دشمن ہم پہ حملہ آور نہ ہو سکے۔ اگر دشمن ایسی حرکت کر بیٹھے تو ہمارا اتفاق دیکھ کر اس کے پاؤں اکھڑ جائیں گے۔ ہمارے ہاتھ گرہاتھوں میں پیوست رہیں تو جڑنے کی علامت بنتے ہیں۔ ہاتھ جڑتے ہیں تو دل بھی جڑتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ اور یہ پاؤں اللہ کی نعمت ہیں انکی قدر ان کےمفید استعمال میں ہوتی ہے۔ کسی پر ہاتھ پاؤں کا بادلوں کی طرح برسنا، ہ تھپڑ جڑ دینا یا پاؤں سے ٹھڈا مارنا در اصل انکی آوارگی کی علامت ہوتا ہے۔ ہاتھوں کی شان ہاتھوں کو لگی مہندی اور کلائیوں میں پہنی چوڑیوں سے بڑھتی ہے۔ لیکن ہاتھوں کا کمال ہاتھوں سے بنائی ہوئی خوبصورت پینٹنگ، مصنوعی جیولری، حسین کیلی گرافی اور ہاتھوں سے بنے لذیذ کھانوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پیروں میں پائل ہویا پازیب، بے شک خواتین کے شوق کی چیزیں ہیں مگر وہ پیر اس سے کہیں اچھے ہوتے ہیں جو استقامت کے ساتھ اپنے مقصد کی کامیابی کے لئے میدان عمل میں متحرک رہتے ہیں۔ ہمارے بزرگ لوگ بھی ہمیشہ یہ دعا کرتے ہیں کہ جب زندگی کا سفر تمام ہو، تو خدا کرے چلتے ہاتھ پاؤں اس دنیا سے رخصت ہوں۔ یہی ہاتھ پیروں سے محبت کی علامت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں