آپ کسی سے کوئی کام کہتے ہیں۔ کام آپ کا ہے، یعنی آپ کو کوئی فیور چاہیے، کسی کو جاب کا کہا ہے، ادھار پیسے کچھ وقت چاہیے وغیرہ۔
آپ کو لگتا ہے وہ کام کر سکتا تھا۔ وہ آپ کو پیسے دے سکتا تھا، آپ کی جاب لگوا سکتا تھا، آپ کو گاڑی ادھار دے سکتا تھا، آپ کی سفارش کر سکتا تھا، آپ کو کام دے سکتا تھا، آپ کی کال سن سکتا تھا، واٹس ایپ میسج پڑھ سکتا تھا۔
لیکن اگلا بندہ آپ کو وہ فیور نہیں دے پاتا اور اس نے آپ کی توقع کے برعکس انکار کر دیا۔
اس پر آپ کا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟ یہ ہم سب کے ساتھ روز ہوتا ہے اور ہماری شخصیت کم و بیش ایک سا ہی برتاؤ کرتی ہے۔
– کچھ لوگ انکار کے میسج پر کوئی ری ایکشن، جیسا کہ 👍، دینا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ شاید وہ اتنا شدید برا منا جاتے ہیں کہ “اوکے، تھینکس، نو ایشو” کہنا تو درکنار، میسج کو ٹچ کرنے کی بھی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ یہ بہت زیادہ ہیں مگر سب کہیں گے وہ ایسے نہیں ہیں۔
– دوسرے نمبر پر آتے ہیں جواب دینے والے مگر دل ہی دل میں ناراض ہو جانے والے۔ کہ ہمیں آپ سے یہ توقع نہیں تھی۔ بڑی امید سے کام کہا تھا، آپ نے نہیں کیا۔ دل ٹوٹ گیا۔ یہ نازک مزاج بھی بہت زیادہ ہیں۔
– تیسرے نمبر پر وہ ہیں جو انکار کی صورت میں باقاعدہ دشمن بن جاتے ہیں۔ منافقت پال لیتے ہیں اور دشمنوں کی صف میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سب سے گھٹیا صفت ہے۔ گو تعداد میں کم ہیں مگر موجود ہیں۔ کہ ہمیں انکار کی جرات کیسے ہوئی تمہاری؟ حالانکہ اگر اتنے “ناڈو خان” ہوتے تو کام کہتے ہی کیوں؟ فیور مانگتے ہی کیوں؟ مرزا پور سیریز میں علی فضل عرف گُڈو پنڈت (ایک غنڈہ) ایک ہوٹل پر ویٹر بچے کو کہتا ہے: “تم جانتے ہو میں کون ہوں؟” وہ کہتا ہے: “ہو گے کوئی پھٹو، کھانے کے پچاس روپے دینے میں جس کی اتنی پھٹ رہی ہے، وہ کیا ہوگا۔” سوری، کچھ زیادہ ہوگیا، مگر ان کو آئینہ دکھانا ضروری تھا۔ جتنا شدید ری ایکشن دیتے ہو، دل ہی دل میں گالیاں دیتے ہو، اتنا ہی زور لگا کر اپنے کام خود کرو بھائی۔
– چوتھے والے برا تو مناتے ہیں مگر ڈھانپ لیتے ہیں۔ “چلو ابھی نہ سہی، اگلی بار سہی۔ اس سے کون سا یہ آخری کام یا سوال تھا۔”
– پانچویں نمبر والے وہ ہیں جو اسپیس دیتے ہیں۔ انکار کو دل سے قبول کرتے ہیں۔ بلکہ کام کہنے یا سوال کرنے سے پہلے ہزار بار خود کو روکتے ہیں کہ نہیں یار، پتا نہیں وہ کیا سوچے، وہ کر بھی سکے یا نہیں۔ الٹا اسے مشکل پیش آئے گی انکار کرنے میں۔ بعد میں تعلق کمزور نہ ہو۔ سو وسوسے ان کے ذہن میں آتے ہیں۔ جہاں ممکن ہی نہ ہو وہاں فیور یا کسی کام کا سوال کریں گے۔ ان کے کام اکثر ہو جاتے ہیں۔ نہ ہوں تو یہ دل سے انکار کو قبول کرکے خود معذرت کرتے ہیں۔ کہ پتا ہوتا ہے آپ کی صلاحیت کا کام نہیں ہے۔ کبھی کہتا ہی نہیں: “پلیز آپ ایزی رہیں، ایسا کوئی ضروری بھی نہیں تھا، خیر ہی ہے۔” اب جس نے انکار کیا ہوتا، بلا وجہ یا کسی واقعی مجبوری کے تحت، اسے ایک اچھی وائب آتی ہے۔ دونوں کا تعلق مزید مضبوط ہوتا ہے۔ اور مستقبل میں اگر اسی سوال کرنے والے کو دوبارہ ایسی نوبت آئے تو پہلے انکار کرنے والا اپنی صلاحیت سے بڑھ کر کام آنے کی کوشش کرتا ہے۔ صرف سابقہ اس انکار سہہ لینے والے کے اچھے برتاؤ کی وجہ سے وہ ایسا کرتا ہے۔ اب کی بار بھی انکار کرے تو بھی پہلی پارٹی اتنا ظرف رکھتی ہے کہ اس بات کی وجہ سے آپسی تعلق پر خراش نہ آنے دے۔
یہ لوگ ہزاروں میں ایک دو ہوتے ہیں۔ نجانے ان کی ایسی تربیت کہاں سے ہوتی ہے۔ کہاں سے وہ یہ چیز سیکھتے ہیں جو ان کے آس پاس رہنے والے، ساتھ جاب کرنے والے، ساتھ کھانے پینے والے باقی 99.9 فیصد سجن ساتھی ساری عمر گزار کر بھی نہیں سیکھ پاتے۔ سوچتا ہوں کوئی سکول ہو ایسا جو اس چیز کا کورس کروائے کہ انکار پر برتاؤ کیسے کرنا ہے، اس کو برداشت کیسے کرنا ہے۔ تو ان لوگوں کے لیے بہت آسانی پیدا ہو جائے جو اس چیز کو دل پر لے کر کڑھتے رہتے ہیں، نفرت پال لیتے ہیں، منافقت کرنے لگتے ہیں اور دشمنی کی حد تک آ جاتے ہیں کہ “تمہیں اس انکار کی قیمت اب ادا کرنا ہی ہوگی۔” کبھی برے لگتے ہیں تو کبھی سوچتا ہوں کیسے قابلِ رحم لوگ ہیں یہ۔ ان کو شاید پتا ہی نہیں کہ ایسا برتاؤ نہیں کرنا۔ خود کو بھی اور اگلے کو بھی آسانی دینی ہے۔


