پچھلے کچھ ہفتوں سے سوشل میڈیا کے دریا پر جو کچھ بہہ رہا ہے اس نے یہ فرق واضح کر دیا ہے کہ یہ دریا نہیں بلکہ طغیانی زدہ گندا نالہ ہے۔اس بہاؤ میں کہیں چپل بہتی چلی آ رہی ہے تو کہیں اُلٹی چارپائی۔
ڈیڑھ دہائی پہلے جب فیسبک جوان ہوئی تھی اور ہر دوسرے شخص کو اپنے اندر ارسطو اور افلاطون کی روح اترتی محسوس ہوتی تھی۔ تب انٹرنیٹ پر کئی ویب سائٹس نمودار ہوئیں۔ اخبارات کی اجارہ داری ٹوٹی تو ایسے ایسے لکھاری برآمد ہوئے جنہیں پہلے محلے کی دکان پر ادھار بھی مشکل سے ملتا تھا مگر اب وہ قوم کے فکری معمار بن بیٹھے۔کچھ ویب سائٹس نے ادب، فلسفہ اور سنجیدہ مباحث کا راستہ اپنایا۔ وہاں تحریر پڑھنے کے لیے قاری کو دماغ ساتھ لانا پڑتا تھا چنانچہ رش کم رہا۔ دوسری طرف کچھ ڈیجیٹل سائٹس نے انسانی شعور کی خدمت کا ایسا منفرد طریقہ اپنایا کہ ایک طرف جمہوریت، روشن خیالی اور انسانی حقوق پر مضامین چھپتے اور دوسری طرف ان پر جنسی مضامین، فحش نظمیں اور “حیض میں مباشرت” جیسے عنوان قوم کی فکری تربیت فرماتے۔ یوں علم و آگہی کے نام پر ٹریفک بھی آئی اور دانشوری بھی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ہر دوسرا شخص خود کو “لبرل” کہہ کر ایسے اکڑتا تھا جیسے روشن خیالی کوئی فلسفہ نہیں بلکہ امپورٹڈ برانڈڈ پرفیوم ہو جو اس نے لگا رکھا ہے۔ کچھ نوجوان فیشن میں لبرل ہوئے، کچھ بزرگ اس امید پر کہ شاید اس سے بڑھاپے میں کشش برقرار رہے۔ پھر رفتہ رفتہ ہر ویب سائٹ سے ایک آدھ “دانشور” برآمد ہونے لگا۔ فالوورز بڑھے، پروفائل پکچر کے ساتھ پائپ یا سگریٹ کا اضافہ ہوا اور یوں ہر شخص نے اپنی اپنی دکان کھول لی۔ بقول شاعر “ وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔”
وقت گزرتا گیا اور یہ احساس مضبوط ہوتا گیا کہ مسئلہ نظریے کا نہیں، کردار کا ہے۔ لبرل ازم تو بنیادی طور پر برداشت، آزادی رائے اور انسانی احترام کا فلسفہ ہے مگر ہمارے ہاں بعض لوگ اسے ایسے استعمال کرتے رہے جیسے وراثت میں ان کو جاگیر کی صورت ملا جس پر صرف انہی کا حق ہے۔لیکن جب بات اس پر آتی ہے کہ مذہبیوں کی مانند لبرلزم کا خلیفہ کون ہو گا تو ان کی آپسی چپقلش میں ساری برداشت، آزادی رائے اور انسانی احترام انہی کے پاؤں تلے کچلا جاتا ہے۔
اب دیکھیے ناں۔۔جو حضرات کل تک خود کو سارتر، مارکس ، پابلو نروادا اور مارٹن لوتھر کے قافلے کا مسافر سمجھتے تھے آج وہی ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا پر ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں کہ کوچۂ طوائفاں کی دیواریں بھی شرما جائیں۔ کسی نے جنگ میں انسانوں کے قتلِ عام پر مبارک باد دی، کسی نے اختلافِ رائے پر ماں بہن ایک کر دی، ایک کدو نے تو اسرائیل کو انسانیت کا محسن قرار دے ڈالا، کسی نے اپنے ہی لبرل دوست پر خواتین پر بری نظر رکھنے کا الزام لگا دیا۔ ایک صاحب ہیں جو خدا کو گالی دے کر خود کو بڑا سیکولر ملحد سمجھتے تھے۔ ان کی تحریروں سے یوں لگتا تھا جیسے سارتر اور رُسل دونوں ان کے گھر کرائے پر رہتے ہوں۔ مگر جب کسی نے اختلاف کیا تو وہ ایسی بازاری زبان پر اتر آئے کہ پڑھ کر موبائل دھونے کا دل چاہے۔
پھر ایک طبقہ وہ اُبھرا جو فخریہ اینٹی لبرل و اینٹی سیکولر تھا۔ یہ طبقہ رد عمل کی نفسیات سے پیدا ہوا۔بظاہر قلمکار کا لیبل چسپاں رہا لیکن کسی کے اندر رافضیت تو کسی کے اندر ناصبیت کا گندا نالہ شور مچاتا بہتا رہتا ہے۔ کتابیں جیسی بھی لکھیں لکھ لیں، لیکن زبان و قلم میزان پر نہ تول پائے۔ نتیجتاً ان کے گالمانہ افکار آئے دن نظروں سے گزرتے رہتے ہیں۔ پھر ایک طبقہ ان قلمکاروں کا ہے جو فخریہ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں یا اپنے سمیت اپنے افکار و قلم پر بھی مذہب کی چادر ڈالے رکھتے ہیں۔ ایک خاتون گلوکارہ کو صدراتی ایوارڈ ملنے کے بعد ایک تحریر نظر سے گزری جس میں صاحبِ تحریر ان کے بارے میں ایسے استعارے استعمال کرتے پائے گئے کہ جو ہر لحاظ سے نامناسب تھے۔ حیرت یہ نہیں کہ اسلوب کیسا تھا، حیرت یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو برسوں ہمیں تہذیب، برداشت اور انسان دوستی کا لیکچر دیتے رہے۔
اصل المیہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں نظریات کم اور نقاب زیادہ ہیں۔ مذہبی شدت پسند داڑھی میں چھپ جاتا ہے اور لبرل شدت پسند فرانسیسی و مغربی دانشوروں کے لانگ کوٹ میں۔ ایک ہاتھ میں تسبیح پکڑتا ہے، دوسرا ہاتھ میں کافی مگ۔ مگر دونوں کے اندر اگر زبان پر کنٹرول نہیں تو فرق صرف ڈریس کوڈ اور چہرے کی حالت کا رہ جاتا ہے۔ سنہ 2014 میں ڈان نے رابطہ کیا اور میں ڈان سے منسلک ہو گیا۔ اسی بیچ کبھی کبھی جنگ بلاگز کے لیے لکھا اور یہ سلسلہ سنہ 2019 تک چلتا رہا۔ ایک دن فیصلہ کیا کہ میں زیادہ آزادانہ صرف و صرف اپنی وال پر لکھ سکتا ہوں۔ اس فیصلے کی کچھ وجوہات تھیں۔ ڈان کا ایک کالم سینسر کرنا پڑا جو کرم ایجنسی پر تھا اور کوئٹہ پر لکھا ایک کالم اشاعت کے ایک گھنٹہ بعد ہی “ڈاؤن” کرنا پڑ گیا۔ نظریاتی سرحدیں خطرے میں آ گئیں تھیں۔ بس نیشنل میڈیا سے رخصت لی اور اپنی وال کو ہی اپنی آواز بنایا۔
لیکن یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہوتا ہے کہ آزاد لکھنے سے آپ کیا مراد لیتے ہیں۔ سیاسیات و سماجیات پر آزاد رائے ضرور رکھنا چاہیے، ذاتیات پر عوامی رائے محدود ترین ہونی چاہیے۔ یوں نہیں کہ مجھے یا میری ذات کو کسی نے ٹرول نہیں کیا یا مجھے گالیاں یا القابات یا الزامات سے نہیں نوازا گیا۔ لکھنے کی قیمت تو چکانا ہوتی ہے۔ بہت بار ایسا ہوا۔ بہت لوگوں نے اپنی وال پر میرا “ذکر خیر” کیا اور فالونگ سے “صلواتیں” سنائیں۔ میری فیملی تک کو نشانہ بنایا گیا۔ مجھے دلبرداشتہ ہو کر اپنی پروفائل سے بیوی بچوں کی تصاویر ہٹانا پڑیں تاکہ وہ مجھ پر حملہ کرنے کے لیے استعمال نہ ہوں۔ غصہ تو مجھے بھی بہت آتا ہے۔ گالیاں تو میں نے دنیا گھوم کر ہر زبان کی سیکھی ہیں۔ جواب الجواب دینا یا کسی کو اسی کی زبان میں سواد لوٹانا بھی آتا ہے۔ مگر ہمیشہ اگنور کیا ہے یا ہنس کے ٹالا ہے یا ضبط کیا ہے یا لائٹ موڈ میں ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس سے آگے نہیں بڑھ پایا۔ دشمن یا حاسد یا میری کسی سیاسی و سماجی تحریر سے “متاثر” ہوئے لوگوں کو جواب میں گالم گلوچ یا ذاتی بیہودہ حملے سے ہر ممکن اجتناب برتتا رہا ہوں۔ یہ عظمت نہیں ہے یہ بُردباری بھی نہیں ہے، یہ میری وحشت ہے۔ وحشت ہوتی ہے یا کسی شخص سے بیزاری ہوتی ہے یا غصہ ہوتا ہے تب میں بالخصوص اس کا ذکر کرنا حرام سمجھتا ہوں۔ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔
سوشل میڈیا نے ایک احسان ضرور کیا ہے۔ پہلے لوگ کتابوں کے پیچھے چھپ جاتے تھے لیکن اب سٹیٹس کے سبب اصل چہرہ نظر آ جاتا ہے۔ لبرلز ہوں یا سیکولر یا ملحد ، ایک دوسرے پر اپنے اصول و ضوابط لاگو کرنے اور ایک دوسرے سے اپنا علمی قد منوانے کی بجائے اپنے وضح کردہ اصول خود پر لاگو کر کے بھی جی سکتے ہیں۔ رافضی و ناصبی قلمکاروں کی بابت میں کچھ نہیں کہنا چاہتا وہ اس قابل نہیں۔ مذہبیوں کو البتہ یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ “لا اکرہ فی دین” کا ورد کیا کریں اللہ شفا دے گا۔ ذاتی طور پر میں ایسے لا اُبالی یا متشدد رویوں سے بیزاری رکھتا ہوں۔ خاص کر ان افراد کی جانب سے ایسے رویے سامنے آئیں جن کو لوگ فالو کرتے یا ان کے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں تو میرے اندر سائرن گونجنے لگتے ہیں۔ مجھے ایسوں پر عام آدمی کی نسبت زیادہ افسوس ہوتا ہے۔اور پھر میں دونوں پارٹیوں یا فریقین سے کنارہ اختیار کر لیتا ہوں چاہے اُن سے سلام دعا یا ادب آداب کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ ایک گٹر ابل پڑا ہے۔ چنانچہ راہگیروں سے فقط اتنی گزارش ہے کہ ذرا بچ کے، ناک پر رومال رکھ کر گزر جایا کریں!


