شدت پسندی اور مذہبی تشدد کے بارے میں ہمارے معاشروں میں ایک نہایت خطرناک رویہ یہ پیدا ہو چکا ہے کہ ہم ہر سانحے، ہر خودکش دھماکے، ہر مسجد میں بہنے والے خون، ہر عالمِ دین کے قتل، اور ہر بے گناہ انسان کی لاش کو فوراً “اغیار کی سازش” قرار دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔ بلاشبہ عالمی طاقتیں، خفیہ ادارے، سیاسی مفادات اور بین الاقوامی کھیل اس پورے منظرنامے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں، اور اس حقیقت سے انکار کرنا بھی سادگی ہو گی، لیکن اس سے کہیں زیادہ خطرناک سادگی یہ ہے کہ ہم اپنے اندر موجود ان فکری، مذہبی اور سماجی بیماریوں کو تسلیم ہی نہ کریں جنہوں نے اس آگ کو ایندھن فراہم کیا۔ کوئی بیرونی طاقت کسی معاشرے میں نفرت، تکفیر اور قتل کا بیج اس وقت تک نہیں بو سکتی جب تک اس معاشرے کی زمین پہلے سے اس کے لیے نرم نہ ہو چکی ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا میں اپنے ہی بھائی بندوں کے خلاف جاری تشدد صرف بندوق کا مسئلہ نہیں، یہ فکر کا مسئلہ ہے۔ یہ بارود سے پہلے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے۔ ایک نوجوان پہلے ہتھیار نہیں اٹھاتا، پہلے اس کے ذہن میں یہ یقین پیدا کیا جاتا ہے کہ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہے: ایک طرف “خالص حق” ہے اور دوسری طرف “مکمل باطل”۔ پھر اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جو اس کے فہمِ دین سے اختلاف کرے، وہ صرف غلط نہیں بلکہ گمراہ، فاسق، بلکہ بعض اوقات کافر ہے۔ جب یہ مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے تو پھر قتل صرف ایک سیاسی عمل نہیں رہتا بلکہ ایک مقدس فریضہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا دل نرم نہیں رہتا، بلکہ پتھر ہو جاتا ہے، اور وہ اپنے ہی جیسے انسان کے خون کو عبادت سمجھنے لگتا ہے۔
یہ المیہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ اس کی جڑیں صدیوں پر محیط ان فکری تعبیرات میں پیوست ہیں جنہوں نے دین کی روح کے بجائے اس کے ظاہری، فقہی اور سخت گیر پہلوؤں کو مرکز بنا لیا۔ تاریخ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور خلافت میں خوارج نے پہلی مرتبہ یہی کام کیا تھا۔ انہوں نے قرآن کی آیات کو ان کے سیاق و سباق سے الگ کر کے سیاسی اختلاف کو کفر میں بدل دیا۔ انہوں نے گناہ اور کفر کے درمیان فرق مٹا دیا، اور پھر اسی بنیاد پر مسلمانوں اور صحابہ تک کے قتل کو جائز قرار دیا۔ افسوس یہ ہے کہ آج بھی مختلف ناموں اور نعروں کے ساتھ وہی ذہنیت زندہ ہے۔ چہرے بدل گئے ہیں، لباس بدل گئے ہیں، تنظیموں کے نام بدل گئے ہیں، مگر سوچ وہی ہے: “جو میرے فہم کے مطابق نہیں، وہ اسلام سے خارج ہے۔”
ہمیں یہ حقیقت بھی دیانت داری سے تسلیم کرنا ہو گی کہ بعض مذہبی اور سیاسی تحریکوں نے غیر شعوری طور پر اس شدت پسند ذہنیت کو تقویت دی۔ جب دین کو روحانی اصلاح اور اخلاقی تربیت کے بجائے محض سیاسی غلبے کا منصوبہ بنا دیا جائے، جب اقتدار کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا جائے، جب دنیا کو “اسلام” اور “جاہلیت” کے دو خانوں میں بانٹ دیا جائے، تو پھر تشدد کی راہ ہموار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد نوجوان کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ اگر معاشرہ اس کے مطلوبہ مذہبی ماڈل کے مطابق نہیں تو اسے بزورِ طاقت بدلنا ایک دینی فریضہ ہے۔ یہی وہ خطرناک موڑ ہے جہاں دعوت کی جگہ جبر، اصلاح کی جگہ انقلاب، اور حکمت کی جگہ اسلحہ لے لیتا ہے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ یہ سب صرف جہالت کا نتیجہ ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بہت سے شدت پسند نوجوان مذہبی جذبہ رکھتے ہیں، امت کے مسائل پر درد رکھتے ہیں، ظلم کے خلاف غصہ رکھتے ہیں، مگر ان کے جذبات کو ایک غیر متوازن فکر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر لیتی ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ پوری دنیا اسلام کے خلاف جنگ کر رہی ہے، لہٰذا اب مکالمہ، علم، تدریج اور اصلاح کا زمانہ گزر چکا،جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں ہے تو وہ کفار کے ساتھ ہیں اور اب صرف تلوار ہی حل ہے۔ اس مسلسل ذہنی تربیت کے بعد ایک ایسا انسان وجود میں آتا ہے جو اپنے ہی معاشرے کو دشمن سمجھنے لگتا ہے۔
اس پورے بحران کا ایک اور پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ ہم نے اپنے معاشروں میں اختلافِ رائے کا اخلاق تقریباً کھو دیا ہے۔ فقہی اختلاف، سیاسی اختلاف، فکری اختلاف، حتیٰ کہ معمولی مذہبی فرق بھی اب برداشت نہیں کیے جاتے۔ ہر گروہ خود کو مکمل حق اور دوسرے کو مکمل باطل سمجھتا ہے۔ یہی ذہنیت آہستہ آہستہ تکفیر، نفرت اور تشدد کی طرف لے جاتی ہے۔ حالانکہ اسلامی تاریخ کا بڑا حصہ اختلاف کے باوجود بقائے باہمی، علمی مکالمے اور برداشت کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ ائمہ فقہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے، مگر ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کرتے تھے۔ آج ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا ہے، اور دشمنی کو دینداری کا معیار۔
اس مسئلے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تشدد کے نام پر سب سے زیادہ خون خود مسلمانوں کا بہا ہے۔ مسجدوں میں مرنے والے مسلمان، مدارس میں قتل ہونے والے علماء، بازاروں میں ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے عام لوگ، جنازوں اور عیدگاہوں میں اڑائے جانے والے انسان، سب اسی امت کا حصہ تھے۔ یہ دعویٰ کہ یہ سب “اسلام کی سربلندی” کے لیے ہو رہا ہے، خود اسلام کی سب سے بڑی توہین ہے۔ ایک ایسا دین جو “رحمۃ للعالمین” کے نام سے دنیا میں آیا، اسے قتل و غارت کی علامت بنا دینا دراصل دین کے ساتھ بھی ظلم ہے اور انسانیت کے ساتھ بھی۔
اس بحران کو صرف فوجی طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ بندوق ایک دہشت گرد کو مار سکتی ہے، مگر اس فکر کو نہیں مار سکتی جو ہر روز نئے ذہن پیدا کر رہی ہو۔ اصل جنگ میدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جا رہی ہے۔ جب تک مدارس، مساجد، تعلیمی ادارے، میڈیا، اور سماجی قیادت مل کر ایک متوازن، معتدل اور رحمت پر مبنی دینی فہم کو فروغ نہیں دیں گے، تب تک صرف سکیورٹی آپریشن اس مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب سے پہلے دیانت داری کے ساتھ اپنے داخلی مسائل کا اعتراف کریں۔ ہر مسئلے کو بیرونی سازش قرار دینا وقتی تسلی تو دے سکتا ہے، مگر اصلاح کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنے زخموں کا علاج نہیں کر سکتی جب تک وہ یہ تسلیم نہ کرے کہ زخم موجود ہیں۔ اگر ہمارے خطبات، ہماری تحریروں، ہماری گفتگوؤں اور ہمارے مذہبی بیانیے میں کہیں نفرت، تکفیر، تحقیر اور غلو موجود ہے تو ہمیں اسے بدلنا ہو گا۔ کیونکہ نفرت کا بیج اگر لفظوں میں بویا جائے تو ایک دن وہ خون کی صورت میں اگتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم دین کو دوبارہ اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھیں۔ اسلام محض حدود و تعزیرات یا سیاسی غلبے کا نام نہیں، بلکہ اخلاق، عدل، صبر، برداشت، رحمت، دیانت، اور انسانیت کی خدمت کا نام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تیرہ برس مکہ میں ظلم برداشت کیا مگر اپنے مخالفین کے خلاف مسلح بغاوت نہیں کی۔ آپ ﷺ نے طائف والوں کے لیے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا کی۔ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن انتقام کے بجائے عام معافی کا اعلان کیا۔ اگر یہی سیرت ہماری دینی تربیت کا مرکز بن جائے تو شاید ہمارے معاشرے دوبارہ نرم دل، متوازن اور پرامن بن سکیں۔
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت غصے کی نہیں بلکہ حکمت کی ہے، نعروں کی نہیں بلکہ علم کی ہے ، اور انتقام کی نہیں بلکہ اصلاح کی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ دین کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان کو بہتر انسان بنانا ہے۔ ایک ایسا انسان جو اختلاف کے باوجود انصاف کرے، غصے کے باوجود رحم کرے، اور طاقت کے باوجود اخلاق نہ چھوڑے۔
یہی وہ راستہ ہے جو امت کو اس خونریز دائرے سے نکال سکتا ہے۔ ورنہ اگر ہم ہر سانحے کے بعد صرف دشمنوں کو کوستے رہے اور اپنے اندر جھانکنے سے انکار کرتے رہے، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ کیونکہ قومیں صرف بیرونی حملوں سے تباہ نہیں ہوتیں، وہ اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب وہ اپنی اندرونی بیماریوں کو بیماری ماننے سے انکار کر دیتی ہیں۔
محمد امین اسد


