جب “استعمار کی نفسیات” پاکستان میں شائع ہوئی تو بہت سے دوستوں نے مجھ سے استعمار کا ترجمہ پوچھا۔ جب میں نے کہا کہ یہ psychology of colonialism ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ تو 1947 میں ختم ہو گئی تھی۔ مجھے یہ بتانا پڑا کہ استعماریت ختم نہیں ہوئی صرف اس کی شکلیں بدلی ہیں لیکن اس کے اطوار وہی ہیں۔ میں نے اس کتاب میں استعمار زدہ معاشروں کی کچھ خصوصیات بھی بیان کی تھیں۔
مجھے اپنی بات کے عملی ثبوت مسلسل ملتے رہے اور میں بیان بھی کرتا رہا مگر پاکستان کے سوشل میڈیا پر پچھلے چند ہفتوں سے جو غیر معمولی بحث چل رہی ہے کہ “کیا اسرائیل ایک مظلوم ریاست ہے؟” نے میری بات کے نئے ثبوت فراہم کر دیے ہیں۔ اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے اکثر پڑھے لکھے لبرل سیکولر اور مذہبی آج بھی استعماریت اور اس کے اثرات کی درست اور مکمل تفہیم سے محروم ہیں۔
اسرائیل کی مظلومیت کا سوال محض ایک سیاسی رائے نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور کی سمت کا اشارہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ ظلم اور طاقت کے تعلق کو کس طرح سمجھتے ہیں، اور کس حد تک اسے نظریاتی خانوں میں بانٹ کر اصل انسانی مسئلے سے نظریں چرا لیتے ہیں۔
اصل مسئلہ نہ مذہب ہے نہ اصل مسئلہ ایران کی مذہبی قیادت ہے بلکہ اصل مسئلہ طاقت اور کمزوری کے درمیان وہ عدم توازن ہے جسے جدید سیاسیات میں structural violence کہا جاتا ہے یعنی وہ تشدد جو ریاستی طاقت، قبضے، محاصرے، اور وسائل کی مکمل اجارہ داری کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔
غزہ میں جو کچھ ہوا، وہ کسی مذہبی تنازعے کا نتیجہ نہیں تھا۔
وہ ایک colonial occupation کی مسلسل توسیع تھی، جسے عالمی اداروں نے بارہا غیر قانونی قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں، عالمی عدالت انصاف کی کارروائیاں، انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس سب ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ مسئلہ مذہبی شناخت کا نہیں بلکہ انسانی حقوق کی پامالی کا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان میں یہ بحث کہ “کیا اسرائیل مظلوم ہے؟” ایک نفسیاتی غلط فہمی کی علامت ہے۔
یہ وہی نفسیاتی پھندا cognitive trap ہے جس میں طاقتور چاہتا ہے کہ کمزور الجھ جائے کہ اگر آپ ایران کے ناقد ہیں تو آپ کو لازماً اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
حالانکہ سیاسیات میں یہ اصول بنیادی ہے کہ کسی ریاست کی مخالفت یا حمایت کسی دوسری ریاست کی اخلاقی حیثیت کا تعین نہیں کرتی۔
ایران سے اختلاف اپنی جگہ۔ ایران کی پالیسیوں پر تنقید اپنی جگہ مگر ان اختلافات کا منطقی نتیجہ یہ نہیں کہ آپ ایک ایسی ریاست کے ساتھ کھڑے ہو جائیں جس پر عالمی عدالت انصاف نے نسل کشی کا مقدمہ کھولا ہے، جس نے چند مہینوں میں 80 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کیا، اور جس کے قبضے کو عالمی قانون نے غیر قانونی قرار دیا ہے اور جس کا وزیراعظم گرفتاری کے ڈر سے مغرب کے کئی ممالک کا سفر نہیں کر سکتا۔
یہاں مسئلہ نظریاتی نہیں normative ethics کا ہے۔ یعنی وہ اخلاقی اصول جو انسانیت کے لیے بنیادی ہیں جس کے تحت دوسروں کی سرزمین پر قبضہ غلط ہے۔ نسل کشی جرم ہے۔ پورے معاشرے کو اجتماعی سزا دینا جنگی جرم ہے۔ اقتصادی محاصرہ غلط ہے۔ اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا غیر انسانی اور غیر قانونی ہے۔
یہ اصول مذہب سے نہیں آتے، انسانیت سے آتے ہیں۔
اسرائیل کا مسئلہ مذہبی نہیں، settler colonialism کا مسئلہ ہے۔
فلسطین کا مسئلہ نظریاتی نہیں، survival کا مسئلہ ہے۔ اور انسانیت کا مسئلہ کسی بھی ریاست کی جغرافیائی یا نظریاتی ترجیحات سے بڑا ہوتا ہے۔
پاکستان میں یہ بحث کہ اسرائیل مظلوم ہے، دراصل اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے ظلم کو نظریاتی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
اگر ظلم کرنے والا “ہمارے مخالف کے مخالف” کی کیٹیگری میں آ جائے تو ہم اس کے ظلم کو بھی جائز سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ وہی نفسیاتی میکانزم ہے جسے سیاسی نفسیات میں moral disengagement کہا جاتا ہے یعنی ظلم کو دیکھ کر بھی اسے ظلم نہ سمجھنا۔
ایران سے اختلاف کی اپنی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مگر اختلاف کا سایہ اتنا لمبا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے پیچھے انسانی لاشیں چھپ جائیں۔ انسانیت کا پیمانہ یہ نہیں کہ آپ کس نظریے سے اختلاف رکھتے ہیں بلکہ پیمانہ یہ ہے کہ آپ طاقت اور کمزوری کے درمیان کھڑے ہو کر کس کا ساتھ دیتے ہیں۔
یہ بحث مذہبی نہیں ہے نہ یہ بحث نظریاتی ہے۔ یہ بحث انسانی جان اور وقار کی ہے اور انسانی وقار کا ایک ہی اصول ہے:
جہاں طاقت ظلم بن جائے وہاں خاموشی بھی جرم ہے۔
“استعمار کی نفسیات” میں شامل متعدد مضامین میں استعماریت کے وکیل دانشوروں کے کردار پر گفتگو کی گئی ہے۔ یہ گفتگو سب سے پہلے گرامشی نے کی تھی بعد ازاں اس کو ایڈورڈ سعید نے وسعت دی۔ استعماریت زدہ معاشروں میں دانشور کا کردار کیا ہونا چاہیے اس پر میں مفصل لکھ چکا ہوں۔ اگر وہ تحریر ایک مرتبہ دوبارہ پڑھ لی جائے تو پاکستان میں اسرائیل کی مظلومیت پر گفتگو کرنے والے دانشوروں کا کردار بآسانی سمجھ میں اتا ہے۔ آیت اللہ خامنائی کے قتل کی خبر آپ کے کانوں میں رس گھولتی ہے میں سمجھ سکتا ہوں۔ لیکن اس تعصب نے اپ کی بصارت اس قدر دھندلا دی کہ آپ کو اسرائیل ایک ذمہ دار ریاست نظر آنے لگا ۔۔یہ بات سمجھنے کے لیے اپنے ہی کچھ مضامین دوبارہ پڑھنے پڑے۔


